Daily Mashriq


جادو ٹونہ،کمیشن اور بیت المال

جادو ٹونہ،کمیشن اور بیت المال

کبھی کبھی کالم لکھتے ہوئے لوگوں کے مسائل اور سرکاری اداروں کی بے حسی پر سخت دکھی ہوتی ہوں مگر بعض اوقات جب کالم میں کسی کے مسئلے کے حل اور کسی سرکاری ادارے کے مثبت جواب کا علم ہوتا ہے تو دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔دیر سے ایک تعلیم یافتہ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نے بیروزگاری کے باعث چھوٹا سا کاروبار کرنے اور اپنے معذور بھائی کے علاج معالجے میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان بیت المال کے طویل، صبرآزما‘ پیچیدہ اور ناممکن طریقۂ کار کا شکوہ کیا تھا‘ سرکاری معاملات کی پیچیدگی سے ہر کوئی واقف ہے لیکن اس کو پیچیدہ تر، ناممکن اور لاینحل بنانے میں سرکاری ملازمین کا جو کردار ہے اصل مسئلہ وہ ہے۔ بہرحال بیت المال پاکستان کے دیر آفس کے عملے کا نوجوان سے رابطہ اور فارم لیکر اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی اس احساس کا باعث ہے کہ بیت المال سے خصوصی افراد کی امداد مشکل ضرور ہے لیکن عملہ چاہے تو اسے آسان بنایا جاسکتا ہے۔ مجھے ہر سرکاری ادارے کے عمال سے یہی گزارش رہتی ہے کہ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں‘ مشکلات نہ بڑھائیں۔ مجھے توقع ہے کہ ایک دن اس نوجوان کا مسیج آئے گا کہ ان کے بھائی کو بیت المال سے وظیفہ ملنے لگا ہے۔

ایک قاری نے ملک میں جادو ٹونہ عام ہونے اور اس کے ذریعے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ توہمات کا کوئی حل نہیں، میرے خیال میں یہ جو قسم قسم کی پیری مریدی کے نام پر غیرشرعی حرکات کی ویڈیوز نیٹ پر اپ لوڈ ہوتی ہیں یقین نہیں آتا کہ مسلمان ان کو بھی تقویٰ اور پیر کی کرامات سمجھتے ہیں۔ تعویذ کی حد تک تو علماء میں اختلاف پایاجاتا ہے لیکن جادوٹونہ کی اسلام میں حرام ہونے کے واضح احکامات موجود ہیں۔ طریقت کے حوالے سے بھی اتفاق نہیں لیکن یہ جو طریقت کے نام پر عجیب وغریب حرکات ہو رہی ہیں معلوم نہیں یہ ویڈیو بنانے والوں کی کارستانی ہے یا واقعی اس قسم کی حرکات واقعی معاشرے میں ہوتی ہیں۔ جعلی پیروں کا تو سب نے سنا ہوتا ہے ان کے کرتوت بھی کوئی پوشیدہ نہیں‘ ان تمام حرکات وسکنات اور افعال سے پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے کوئی قانون ہی نہیں۔ اس ضمن میں حکومت کو قانون سازی کرنی چاہئے جبکہ علمائے کرام اور اہل طریقت وصوفیاء کو حق وسچ اور ڈرامہ وفریب کو عوام کو سمجھانے میں اپنا کردار ادا کرنے کیساتھ ساتھ نوسرباز قسم کے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں شعور‘ تعلیم اور آگہی خواہ وہ دینی حوالے سے ہو یا عصری تعلیم کیساتھ ہر دو کا فروغ حق اور باطل‘ جھوٹ اور سچ کی پہچان کا بہتر ذریعہ بن سکتا ہے۔ میرے خیال میں عوام کو جعلی عاملوں اور جعلی پیروں سے بچانا بھی بڑی تبدیلی ہوگی۔ڈاکٹر ظہور نے پشاور سے وزارت صحت کی جانب سے پی ایم آر سی کے دو سو سے زائد مختلف گریڈ اور عہدوں کے پنشنرز کی پنشن یکم جنوری2019ء سے روکے جانے کے باعث مشکلات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک سرکاری ادارے کے پنشنروں کی وزارت صحت سے پنشن روکا جانا انوکھی بات ہے۔ دو سو پنشنروں کی اس مہنگائی کے عالم میں مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ وزارت صحت کو چاہئے کہ وہ بقایاجات کیساتھ پنشنروں کے پنشن کی ادائیگی کا بندوبست کرے۔ اگر فنڈز کا مسئلہ ہو تو پھر حکومت کو فنڈز کی فراہمی میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

گاؤں دوسہرہ چارسدہ سے عبداللہ نے پبلک سروس کمیشن خیبر پختونخوا کی سست روی اور بیروزگار نوجوانوں کے انتظار کے طویل تر لمحات جو سالوں پر محیط ہوتے ہیں لکھنے کی فرمائش کی ہے۔ این ٹی ایس میں ناانصافیوں اور پبلک سروس کمیشن کے تاخیری معاملات پر اس کالم میں جتنا لکھا جا چکا ہے اگر متعلقہ حکام کے کانوں کے گرد جو تک بھی رینگتی تو نوجوانوں کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔ ایک مرتبہ پھر گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں۔ علاوہ ازیں قانون سازی کے ذریعے اس کے نظام میں بہتری لانے اور اس کی شاخیں ضلع ضلع قائم کرنے کی تجویز ہے۔ضلع ملاکنڈ سے نسیم اللہ نے بھی پبلک سروس کمیشن میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا رونا رویا ہے۔ انہوں نے ایس ایس پشتو کا ٹیسٹ دیکر 205نمبر لئے لیکن انٹرویو میں ان سے کم نمبر والوں کو موقع دیکر ان کی تقرری کردی گئی۔ میرے خیال میں اس کا واحد حل عدالت سے رجوع ہے لیکن ایک نوجوان کو آخر کیوں اتنا مجبور کیا جائے کہ وہ قرض لیکر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ تبدیلی سرکار کو اس نوجوان کیساتھ ہونے والی ناانصافی کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اصل معاملہ سامنے آئے۔ڈسٹرکٹ آفس زکواۃ صوابی میں زکواۃ سیکرٹری کے عہدے پر کام کرنے والے ایک شخص جو 1983ء میں بھرتی ہوا تھا اور مئی 1998ء کو نوکری سے برخاست کیا گیا اس نے الزام لگایا ہے کہ خود ان کے اپنے علاقہ صوابی کے زکواۃ چیئرمین نے ان کو نکال کر اپنا رشتہ دار بھرتی کیا۔ اب وہ مجبوری اور بیروزگاری کے ہاتھوں بیمار ہو کر چارپائی پر پڑا ہے۔ بڑی جدوجہد کے باوجود ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ میرے خیال میں بلاوجہ کسی کو سرکاری ملازمت سے نکالا نہیں جا سکتا۔ ملازمت پر بحالی قانون کے مطابق ہی ہوسکتی ہے البتہ محکمہ زکواۃ اگر اپنے اس سابق ملازم کی کوئی امداد کرے تو مناسب ہوگا۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں