Daily Mashriq


ایک فاقہ کو ٹالنے کے لئے

ایک فاقہ کو ٹالنے کے لئے

کوئی مائی کا لعل مہنگائی کو نہ ختم کرسکا ہے نہ کر سکتا ہے نہ کرسکے گا۔ یہ وقت کے ساتھ بڑھنے والا وہ عفریت ہے جو اگر آج پہلے آسمان سے باتیں کر رہا ہے تو کل دوسرے اورپرسوں تیسرے آسمان پر پہنچ کر مہنگائی کا رونا رونے والوں کا منہ چڑا رہا ہوگا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ہزار کوشش کر دیکھیں ایک دن انہیں بھی قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کہنا پڑے گا کہ ’’ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں جو راتوں رات سب اچھا کردے‘‘۔ ہمیں وہ زمانہ اچھی طرح یاد ہے جب ہمارے بڑے بزرگ اپنی جوانی کی حسین یادوں کو دہراتے ہوئے کہتے تھے کہ ہم ایک پیسہ خرچ کرکے سارے کنبے کے لیے نان شبینہ خرید لاتے تھے۔ ایک دھیلے میں اتنا کچھ خرید لاتے تھے کہ بس میلہ ہی میلہ ہو جاتاتھا۔ لیکن دھیلے کا میلہ اسی کے ہاں ہو سکتا تھا جس کی جیب میں دمڑیاں دھیلے اور ٹکے یا آنے ہوا کرتے تھے۔ جبھی تو بیتے دنوں کے وزیر اعظم پاکستان، محمد نواز شریف نے پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے بڑے تکبرانہ لہجے میں کہا تھاکہ

پلے نہیںہے دھیلا

کرتی ہے میلہ میلہ

اصل میں یہ جملہ محاورہ ضرب المثل یا بڑا بول نواز شریف کی بزعم خود شرافت بھری زبان سے ادا نہیں ہورہا تھا یہ بڑا بول اس کے کھیسہ میں موجود وہ دھن دولت، ملیں کارخا نے ، اور محل دو محلے ادا کر رہے تھے جو انہوں نے خوف خدا کو طاق پر رکھ کر بنائی تھی ، جو ہر بار دھوکہ کھا کر بھی ان کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب کرواکر تالیاں بجانے کی عادی ہوچکی تھی۔ مہنگائی کے عفریت پر نہ نواز شریف قابو پاسکا ، نہ زرداری اور نہ بے نظیر بھٹو شہید۔ اس بات کے دعوے تو سبھی کرتے رہے کہ ہم نے مہنگائی کے جن پر قابو پالیا ہے۔ لیکن اس طوفان بلاخیز کے آگے کسی کی کوئی نہ چل سکی ۔ ہمارے بڑے بزرگ ایک پیسے کا لنچ یا ڈنر کرنے کے زمانے کو یاد کرتے کرتے اس جہان فانی سے اپنا بوریا بسترا سمیٹتے رہے۔ ہمیں یاد ہے وہ زمانہ جب کہیں سے ایک روپے کا کھنکتا سکہ ہمارے ہاتھ لگ گیا تھا۔ توتیا موتیا، فالودے قلفیاں مٹھائیاں دہی بھلے گول گپے کیا کچھ کھایا اور کھلایا تھا ہم نے اپنے سنگی ساتھیوں کو اور اس ایک روپے میں سے موتی جڑے جھمکے بھی خرید کر لے آئے تھے کسی کو دینے کے لئے ۔ آہ ، اب تو محبت کا دم بھر نا بھی آسان نہیں رہا

محبت کا دم بھرنا آساں نہیں ہے

وہ بنگلہ وہ گاڑی رقم دیکھتے ہیں

اسد عمر کو مہنگائی نامی عفریت پر قابو نہ پانے کی پاداش میں فارغ کردیا گیا۔ ناممکن کو بھلا کب اور کیسے ممکن بناتا وہ بے چارہ۔ مہنگائی کا خود رو پودا کسی ملک کا وزیر اعظم یا اس کی کابینہ نہیں لگاتی یہ عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں اگتا ہے اور اس کو پروان چڑھانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی چیز کو کسی بھی قیمت پر خرید کر گھر لے جانے کے عادی ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے پتھر پر لکیر جیسی وہ بات نہیں سنی ، جس میں کہا گیا تھا کہ اونٹ ایک دھیلے میں بکتا تھا، لیکن مہنگا تھا کہ دھیلا میسر نہیں تھا ۔ ہم نے اس چھوٹی سی مگر بہت بڑی بات کے اندر موجود پیغام کو سمجھنا ہے۔ بڑھتی رہے مہنگائی جتنی بڑھنا چاہتی ہے۔ ہم نے ان لوگوں کی حالت زار سنوارنی ہے جو سچ مچ مہنگائی کی زد میں آکر زندہ در گور ہوجاتے ہیں۔ ہم نے اپنے ملک کے غربت کے مارے لوگوں کی قوت خرید بڑھانے کے لئے ان کے رزق حلال میں اضافہ کرنے کے مواقع پیدا کرنے ہیں۔ بے روزگاری رشوت اور سفارش کے ناسور ختم کرنے ہیں۔ اجرت اور تنخواہوں میں اضافہ کرنا ہے ، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بنگلوں ، کوٹھیوں ، پلازوں اور ٹریفک جام کردینے والی موٹر کاروں کے اس ہجوم بھرے غریب ملک میں کتنے گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی کی سانسوں کا ادھار چکارہے ہیں، کتنے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے اپنی جمع پونجی لٹا رہے اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں ، کتنے چیتھڑے پہنے بچے کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ کتنی مائیں لوگوں کے گھروں میں جاکر برتن ما نجھ رہی ہیں۔ کتنی بہنیں لوگوں کے گھروں کا جھاڑو اور پونچا کر کے اپنی طرف اٹھنے والی ہر بری نظر کو برداشت کررہی ہیں ۔ کتنے مزدور ہر روز اپنے بچوں کو پانی کے دو گھونٹ پلانے کے لئے ایک نیا کنواں کھودنے نکلتے ہیں۔ ان میں سے کتنے خالی ہاتھ گھر لوٹ آتے ہیں ۔ آپ نے اسد عمر کو فارغ کردیا یا اسد عمر نے خود مہنگائی کے بھاری پتھر کو اٹھانے کی بجائے اسے چوم کرایک طرف رکھ دیا، اس سے کوئی دلچسپی نہیں کشتہ ستم بننے والے اس طبقے کے لوگوں کو جو سچ مچ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ، آپ جتنے بھی وزیر بدلیں ، جتنے بھی مشیر رکھیں ، ہمارے بچوں کو کتابیں بستہ اسکول کی فیس ، کھانے کو روٹی پہننے کو کپڑا اور رہنے کو چھت اور چار دیواری چاہئے، مگر وہ یہ سب کچھ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک ان کی قوت خرید میں اضافہ کرنے کی سبیل نہیں نکالی جاتی، ورنہ ہم حوا کی بیٹی کو مصر کے بازار میں کھڑا دیکھ کر کہتے رہ جائیں گے

تونے عصمت فروخت کی فقط ایک فاقہ کو ٹالنے کے لئے

لوگ یزداں کو بیچ دیتے ہیں اپنا مطلب نکالنے کے لئے

متعلقہ خبریں