Daily Mashriq


کس کی جیت کس کی ہار (آخری حصہ)

کس کی جیت کس کی ہار (آخری حصہ)

جس وقت اسد عمر نے بطور وفاقی وزیر چارج سنبھالا تو اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر 123روپے75 پیسے کا تھا اور جب چارج چھوڑا تو ڈالر141 روپے 51پیسے پرہے۔اسی طرح سے گزشتہ 8ماہ کے دوران دوست ملکوں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 6ارب ڈالر ملنے کے باوجود ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالر کی سطح پر برقرار ہیں۔ اسد عمر کے جس اقدام کو سب سے زیادہ تنقید کانشانہ بنایا گیا وہ ہے مہنگائی اور بنیادی شرح سود میں اضافہ۔ اسد عمر کے حلف اُٹھاتے وقت بنیادی شرح سود 7.5فیصد تھی جبکہ ان کے چارج چھوڑتے وقت بنیادی شرح سود 10.75فیصد ہے، یوں ان کے قلیل سے دور میں بنیادی شرح سود میں 3.5فیصد کا اضافہ ہوا اور اس وقت پاکستان کی بنیادی شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افراطِ زر ٹیکس کی بدترین مثال ہے کیونکہ ٹیکس فیصد میں لگتے ہیں اور افراط زر جب بڑھتا ہے تو ٹیکس کی وصولی بڑھ جاتی ہے مگر افراطِ زر میں اضافے کے باوجود ٹیکسوں کی وصولی میں حقیقی طور پر 300ارب روپے کی کمی دیکھی جارہی ہے۔ اسد عمر کے دورِ وزارت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بہت کم سطح پر رہا کیونکہ جب انہوں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا بنچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس 42446 پر تھا مگر اب جبکہ اسد عمر رخصت ہوئے ہیں تو وہی انڈیکس 36811 پر چھوڑ گئے ہیں یعنی انڈیکس میں تقریباً 5635 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔پی ٹی آئی کی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی ملک کی معیشت اور اقتصادیات کی جو تصویر پیش کی اس نے پاکستان کی عزت وتوقیر گھٹانے میں کافی کردار ادا کیا کیونکہ عالمی اداروں اور ممالک نے یہ یقین کر لیا کہ پاکستان کی معاشی حالت بگڑی ہوئی ہے اور وہ ایک کمزور وکٹ پر ہے چنانچہ اس کے نتیجے میں جب سابق وزیرخزانہ امریکہ تشریف لے گئے تو وہاں پاکستانی وزارت خزانہ کے اہم افسران کہتے ہیں کہ پاکستانی وفد کو اس مرتبہ جس قدر نظرانداز کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسٹیو میونچ نے اسد عمر کو ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا۔جہاں تک مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا تعلق ہے تو وہ پرویز مشرف کے دور میں بھی خزانہ امور کو چلاتے رہے اور پی پی کے دور میں بھی خزانہ کے وزیر اور علاوہ ازیں وزیر نجکاری رہے ہیں لیکن ان کی کارکردگی ایسی نہیں رہی کہ توقع کی جاسکے کہ وہ ملک کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں 2000ء سے 2001ء تک وہ سندھ کے نگران وزیر برائے مالیات، منصوبہ بندی اور ترقیات تعینات ہوئے۔ اس دوران انہوں نے صوبہ سندھ کے مالیاتی نظم ونسق کی تنظیمِ نو کی اور ٹیکسوں کی شرح کم کرکے وصولیوں میں اضافہ کیا۔ سندھ حکومت کے ذمے 20ارب روپے کے بل اداکئے اور اسٹیٹ بینک کا 11ارب ڈالر کا اوور ڈرافٹ واپس کیا۔ تیرہ مارچ 2006 وزیر نجکاری حفیظ شیخ نے وزیراعظم شوکت عزیز کیساتھ PTCL بیچنے کے معاہدے پر دستخط کئے، 2.6ارب ڈالر میں اس بڑے ادارہ کو جس میں اس وقت 70,000 افراد کام کرتے تھے اتصلات کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔ آج پی ٹی سی ایل میں نجکاری کے13سال بعد صرف سات ہزار ورکرز کام کر رہے ہیں۔ اتصلات میں اس وقت صرف دس ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ اتصلات کو فائدہ دینے کیلئے طے کیا گیا کہ وہ 1.8ارب ڈالر فوری ادا کریں بقیہ9قسطوں میں ادا کریں۔ اتصلات نے بقیہ 800ملین ڈالر دینے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ پی ٹی سی ایل کی تمام جائیداد ان کے نام کی جائے جو معاہدہ کا حصہ نہ تھا۔ گویا حفیظ شیخ کی کارکردگی ایسی نہیں ہے کہ جس پر پاکستانی قوم یہ یقین کرلے کہ مستقبل میں پاکستان اس شخصیت کی وجہ سے بحرانوں کو اُٹھا پھینکے گا۔جہاں تک عامر محمود کیانی کی برطرفی کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں یہ تبصرے آرہے ہیں کہ ان کو ادوایات کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکامی پر نکالا گیا ہے، شاید تبصرہ نگاروں کو علم نہیں کہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کی منظوری کابینہ دیتی ہے۔ ادویا ت کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ جس انداز میں ہوا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے سب ہی جانتے ہیں کہ ادوایہ ساز کمپنیوں نے کس حسن فریب کیساتھ اربو ں روپے عوام سے اینٹھ لئے۔ وزیراعظم نے ادوایہ کی قیمتوں کا جو نوٹس لیا اور حکم دیا تھا کہ 72گھنٹوں میں یہ قیمتیں اعتدال پر لائی جائیں۔ یہ ایک طرفہ اقدام نہیں ہوتا بلکہ کابینہ کا اجلاس بلاکر اس بارے میں قدم اٹھایا جاتا ہے۔ وفاقی کابینہ کی تشکیل نو سے جو تبدیلی آئی ہے اس میں سے ایک بڑی تبدیلی یہ نظر آرہی ہے کہ حکومت کی باگ ڈور منتخب نمائندوں کی بجائے ٹیکنوکریٹ کے ہاتھ میں دی جارہی ہے جس کا تصور کئی سال پہلے سے دیا جا رہا ہے، علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی اصل ٹیم پر اعتماد کرنے کی بجائے پی پی اور غیر منتخب ٹیم پر بھروسہ کیا جا رہا ہے کیونکہ کابینہ کے سنتالیس ارکان میں سے نصف ارکان سابقہ حکومتوں سے وابستہ رہے ہیں، ایسے اقدام سے یہ تاثر بھی اُبھرتا ہے کہ ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں بھی تبدیلی لانا مقصود ہے اور اسی پس منظر میں صدارتی یا اسلامی صدارتی نظام کا تصور پیش کیا جارہا ہے۔ اس سب سے ہٹ کر وفاقی وزیردفاع پرویز خٹک کا تبصرہ بڑی عمیق سوچ کا حامل ہے۔ ان کا فرمانا ہے کہ ان کے خیال میں نئی کابینہ بھی کچھ (ڈیلیور) نہ کر پائے گئی۔ یہ تبصرہ گھر کے بھیدی کا ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں