Daily Mashriq


سپر پاور کو طالبان کی دعوت مبارزت

سپر پاور کو طالبان کی دعوت مبارزت

ایک منظم ایٹمی قوت او رطاقتور فوج رکھنے والے ملک کے مقابلے میں افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بلا سوچے سمجھے تقریر کا بڑا مسکت جواب دیا ہے ۔ افغان طالبان نے امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی افغان پالیسی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا افغان سرزمین سے اپنے فوجیوں کا انخلاء نہیں کرتا تو 'افغانستان کو امریکی افواج کا قبرستان' بنا دیا جائے گا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا، یہ ایک مبہم تقریر تھی جس میں امریکی صدر نے مزید امریکی فوجی افغانستان میں تعینات کرنے کا اشارہ دیا۔طالبان ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اگر امریکا نے اپنے فوجی افغانستان سے نہیں نکالے تو یہ امریکا کے لیے اکیسویں صدی کا قبرستان بن جائے گا۔ایک سینئر طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ 'امریکا اپنے فوجیوں کو افغانستان میں ضائع کر رہا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک کی کس طرح حفاظت کرنی ہے، نئی امریکی پالیسی سے خطے میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔طالبان کمانڈر نے اپنی گفتگو کے دوران واضح کیا کہ وہ کئی نسلوں سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ سے خوف زدہ نہیں بلکہ تازہ دم ہیں اور اس جنگ کو اپنے خون کے آخری قطرے تک جاری رکھیں گے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے جبکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام دہرادیا۔اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'ہم پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ٹرمپ کے بیان کے بعد افغانستان میں افغان طالبان اور افغانستان کی کمزور حکومت کے درمیان بات چیت اور مفاہمت کی مو ہوم امید بھی باقی دکھائی نہیں دیتا ۔ اس فضا میں مفاہمت کجا ، افغانستان نیا محاذ جنگ بننے جارہا ہے جہاں امریکی طاقت فوجوں کی تعداد بڑھا نے اور مزید فوجی تعینات کرنے کے بعد بھی اتنی دکھائی نہیں دیتی جو افغان طالبان کی جنگجو یانہ صلاحیتوں کا مسکت جواب دے سکیں ۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اکثر و بیشتر اپنے خطاب اور بلند و بانگ دعوئوں میں خود ہی پھنس جاتے ہیں انہوں نے خطے کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ایک امریکی صدر کی تقریر ہونے کے باجود اوول آفس کی پالیسی اس لئے دکھائی نہیں دیتی کہ ان پرعملدر آمد آسان کام نہیں خاص طور پر افغانستان میں ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے استعمال کا جو عندیہ دے رہے ہیں افغانستان کی گرم سر زمین پر حقائق اور تجربات و مشاہدات اس کا منہ چڑانے کیلئے پہلے سے ہی کافی وجوہات رکھتی ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کیا اس حقیقت حال کا علم نہیں کہ امریکی اور باون ممالک کی عالمی فوج کی افغانستان میں تپسیاکھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق ہی ثابت ہو ا اور بالا خر ایساف اور نیٹو کی افواج کو افغانستان سے نکلنے کیلئے افغان جنگجوئوں سے مفاہمت اور معاملات کرنے پڑے ۔ افغانستان میں ڈیزی کٹر بموں کی قالینی ممباری سے جہاں طالبان کی صفوں کو نیست و نابود ہونا چاہیئے تھا الٹا انہوں نے امریکی بمباری کے نتیجے میں جمع ہونے والے مواد کو کباڑ میں فروخت کر کے جنگ کا ایندھن خریدا معلوم نہیں کہ اس حکایت میں کس حد تک صداقت ہے کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکی ردعمل کے دنوں میں رات کے اوقات میں جعلی طور پر مختلف جگہوں پر بے تحاشا بمباری کروائی گئی اور خوب کباڑ اکھٹا ہوا ۔ بہر حال حکایات اور تصورات کے بر عکس ا س حقیقت کا امریکیوں سے بہتر کسے علم ہوگا کہ جس ملک میں روس جیسی سپر پاور کو شکست تسلیم کرنا پڑا اور امریکہ کو ہزیمت اٹھانی پڑی اب ان پہاڑوں پر ایک اور سپر پاور کی شکست کی داستاں لکھی جانے کو ہے افغانستان کی سر زمین پر جنگ جیتنے کا کوئی ریکا رڈ نہیں اس سرزمین کی ہئیت و دبدبہ حملہ آوروں کا قبر ستان بنی رہی ہے شاید یہی وہ اعتماد اور حقیقت ہے جس کے بل بوتے پر طالبان نے امریکہ کو ایک مرتبہ پھر دعوت مبارزت دی ہے جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سپر پاور کی لاج رکھنے کیلئے کیا کچھ کر گزرتے ہیں اور طالبان کو نا بود کرنے میں ان کو کس حد تک کامیابی ہوتی ہے یا سپر پاور کے ماتھے پر مزید خجالت رقم ہوتی ہے اس کی وقت گواہی دے گا۔ صدر ٹرمپ کو نہیں تو امریکی پالیسی سازوں کو اس امر کا ضرور احساس ہوگا کہ نائن الیون کے بعد کے افغانستان کے حالات اور موجودہ حالات میںکتنا فرق ہے اور طالبان کی اس وقت کی دنیا میں یکا و تنہا ہونے کے مقابلے میں اب خطے میں ان کی حمایت و اعانت کے امکانات کیا ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا کس قدر سہل اور کس قدر دشوار ہو سکتا ہے اس سود وزیاں کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اور اندازے کے ساتھ افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے بارے میں فیصلہ کرنے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ طالبان ترجمان اور سینئر کمانڈروں نے امریکی صدر کی تقریر کے جواب میں جس ردعمل کا اظہار کیا ہے امریکی پالیسی سازوں کو اس کے مضمرات و اثرات اورا س کے نتائج و عواقب پر ضرور غور کرنا چاہیئے ایسا کرتے ہوئے ویت نام کی تاریخ پر ایک نظر دوبارہ ڈالنا کار گرہوگا ۔

متعلقہ خبریں