Daily Mashriq


بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

پشاور کے علاقہ تہکال میں جون کے مہینے سے ڈینگی کے سر اٹھانے اور ہزار سے زائد افراد کو متاثر کر کے کر ک ، مردان ، بونیر اور خود وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا کے حلقے تک پہنچنے اور حکومت پنجاب کی ٹیم کی آمد اور لوگوں کا علاج معالجہ شروع کرنے کے تیسرے روز پرویز خٹک کی وزیر صحت کے ساتھ تہکال آمد تاخیر بسیار کے زمرے میں آتا ہے۔ تہکال اور ملحقہ علاقوں میں سانحہ پر سانحہ اور اموات پر اموات ہونے کے باوجود حکومتی عہدیداروں کا اب تلطف اور حکمران جماعت کے قائد کی آمد سے گریز سے عوام کی ناراضگی فطری امر ہے بعض اوقات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات دیکھنے کوملتے ہیں جس کی مصلحت سمجھنا مشکل ہوتا ہے ۔ تین ماہ پر مشتمل ڈینگی کے اس عذاب کو سنجید گی سے اس وقت لیا جانا جب پنجاب کی ٹیم لوگوں کا ٹیسٹ اور علاج معالجہ کر کے داد وصول کر رہی تھی اس کی ذمہ دار خود محکمہ صحت اور وزیر صحت ہیں اگر کے پی حکومت اس مسئلے پر بر وقت توجہ دیتی اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی تو پنجاب سے ٹیموں کی آمد کی ضرورت ہی نہ پڑتی پنجاب کی ٹیموں کی آمد اوربے لوث خدمت میں سیاست کا کتنا عمل دخل ہے یا نہیں اس بارے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا انہوں نے اجازت لی تھی یا رابطہ کیا تھا یا نہیں کیا تھا یہ مریضوں اور عوام کا مسئلہ نہیں عوام کو اندھے کوکیا چاہیئے دو آنکھیں کے مصداق علاج اور توجہ مل رہی ہے اس کے بعد کیا ہوتا ہے منم جا شد نیز خرم جا شدزن دہقان پسر زاید کہ نہ زاید والی شیخ سعدی کی دی گئی تعویز کی عبارت کے بمثل ہے ۔ خیبر پختونخوا میں علا ج معالجے کی سہولتوں اور ہنگامی حالات میں اختیار کئے جانے والے اقدامات کا اس امر سے بخوبی اندازہ ممکن ہے کہ خود سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کے ٹی ایچ میں پی سی آرٹیسٹنگ مشین موجود نہیں تھی جس سے ڈینگی کے مریضوں کی درست تشخیص کی جاسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں ٹیکنیشنز کو ڈینگی کے لاروا کو ختم کرنے کیلئے ضروری تربیت نہیں دی گئی تھی جبکہ علاقے میں صحت وصفائی کی صورتحال اس وقت ہی سامنے آئی تھی جب ضلع ناظم کو بتایا گیا کہ تہکال میں بننے والی آبنوشی کی ٹینکی کی چھتیں سالوں سے صفائی نہیں ہوئی ۔ بہرحال رپورٹ کے مطابق تہکال کے 23مختلف علاقوں سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں کے 87فیصد میں ڈینگی کے وائر س کی تصدیق ہو چکی ہے اس طرح کی ہنگامی صورتحال میں کیا سیاسی ہے اور کیا غیر سیاسی یہ امر بالکل ہی غیر متعلقہ ہے بلکہ ہمیں تو حکومت پنجاب کا مشکور ہونا چاہیئے جنہوں نے ہماری درخواست اور رابطے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور رضا کارانہ طور پر عوام کی مدد کو آپہنچے اس طرح سے جہاں انہوں نے ایک قومی فریضہ کی ادائیگی کی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہاں ان کا بندوں کے خالق حقیقی سے ماجور ہونا بھی یقینی ہے جنہوں نے ایک نہیں کئی جانیں بچانے کی سعی کی اگران کے جذبہ خدمت کے باعث لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کو روکنے کا بہتر طریقہ یہی تھا کہ انہی صفحات پر تین مرتبہ توجہ دلانے اخبارات میں نشاندہی اور جون سے شروع ہونے والے اس مسئلے پر بروقت توجہ دی جاتی اور اس وبا ء کو پھیلنے نہ دیا جاتا ۔ بہتر ہوگا کہ ڈینگی کو مرض اور جان لیوا وباہی رہنے دیا جائے اور اس پر کوئی بھی سیاست نہ کرے ۔ حکومت سے اس ضمن میں اب تک جو کوتاہی اور تاخیر ہوئی ہے ہنگامی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس کا ازالہ کیا جائے ۔

جماعت اسلامی کا جلسہ اور متاثرہ عوام کا رد عمل

جماعت اسلامی نے صوبائی دارالحکومت کی واحد باقی رہنے والی مرکزی سڑک پر جلسہ کر کے فاٹا انضام کے مطالبے کو کتنا مئوثر بنایا اس کا تو اندازہ نہیں البتہ سڑک کی بندش سے عوام الناس کو جس تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس پر مصلحین کی جماعتی قیادت کو کوسنے والوں کی تعداد شرکاء جلسہ سے کہیں زیادہ تھی ۔ اس موقع پر مثالی کارکر دگی کا دعویٰ رکھنے والی ٹریفک وارڈنز کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کو بغیر کسی قانونی جواز کے بند کر کے قانون شکنی کا ارتکاب حکومت کو شہریوں سے صلواتیں سنانے کیلئے کافی اقدام تھا جس کا اندازہ حکمرانوں اور پولیس کی عوامی مسائل سے نابلد حکام کو نہ ہونا کسی اچھنبے کی بات نہیں ۔ ٹریفک وارڈنز ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کے سامنے اس قدر خجل اور بے بس پائے گئے کہ وہ ان سے سواریوں کا ادا کردہ کرایہ بھی واپس نہ کرواسکے ۔ ٹریفک وارڈنز کے اس حسن انتظام کو ان کے کارناموں میں سرفہرست رکھ کر ان کیلئے ایوارڈ کا اعلان کیا جانا چاہیئے حکمران اگر ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق اقدامات کا عوامی ردعمل بھی معلوم کر لیا کریں تو عبرت حاصل کر سکتے ہیں اس سے قبل کہ خود عبرت بن جائیں ۔

متعلقہ خبریں