Daily Mashriq


ٹرمپ کی دھمکی اور عالمی برادری

ٹرمپ کی دھمکی اور عالمی برادری

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی صریح دہشت گردی ہے۔ امریکہ اس دھمکی کے نتیجے میں پاکستان سے ایسے مبینہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی چاہتا ہے جن کا وجود نہیں ہے۔ امریکی صدر کہتے ہیں کہ امریکہ بن بتائے پاکستان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ امریکہ کے ایئر فورس کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان میںکہیں بھی کارروائی کریں گے البتہ امریکی دفتر خارجہ سے مشاورت کے بعد یہ پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کی دھمکی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کے خلاف صریح دہشت گردی ہے جس کا مقصد غیر اعلانیہ جنگ کے ذریعے پاکستان کو اپنی مرضی کی کارروائی کی طرف دھکیلنا اور اگر پاکستان ایسے اقدامات نہ کرے تو اس پر فضائی حملے کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی مرضی کے مطابق کارروائی نہ کی تو پاکستان کو شدید نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ دہشت گردی اور تخریب کاری بھی تو کسی ملک کو نقصان پہنچا کر اسے کمزور کرنے اور بعض مطالبات منظور کرانے کے لیے کی جاتی ہے۔ جنگ بھی کسی ریاست کو مغلوب کرکے اس سے اپنی مرضی کے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے کی جاتی ہے۔ٹرمپ کی دھمکی پر پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کی حمایت کرتا تو70ہزار شہریوں اور سیکورٹی کے اہل کاروں کی جانیں کیوں جاتیں۔اخلاق اور منطق کے اعتبار سے یہ سوال صحیح ہے اور ٹرمپ کے الزامات کا جواب ہے لیکن ٹرمپ اس لائق نظر نہیں آتے کہ وہ اخلاق اور دانش پر مبنی کوئی بات سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں اور پاکستان انہی دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دیتا ہے جو ہمارے خلاف لڑتے ہیں۔ ہم سمجھتے رہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے ہم بین الاقوامی امداد بھی وصول کرتے رہے لیکن ٹرمپ کا بیان یہ کہتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد اور ہماری قربانیوں کو خریدتارہا ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی قربانیوں کی توہین ہے بلکہ ان تمام عالمی رہنماؤں کی بھی توہین ہے جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں' کامیابیوں اور قربانیوں کی تعریف کی ۔ خاص طور پر آپریشن ضرب عضب کے بعد دنیا بھر کے رہنماؤں نے پاک فوج کے مشن اور اس کی صلاحیت کی تعریف کی تھی۔ حال ہی میں امریکہ کے جنرل نکولس اور جنرل ووٹیل نے پاک فوج کی وادی راجگال کو دہشت گردوں سے خالی کرانے کی بھرپور تعریف کی۔ دفترخارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے ۔ اس کایہ مطلب اخذکیا جا سکتاہے کہ اگر امریکہ کے پاس کوئی انٹیلی جنس ہے ،کوئی شواہد ہیں کہ دہشت گردوں نے پاکستان کے کسی علاقے میں پناہ گاہیںبنارکھی ہیں تو وہ پاکستان کوفراہم کرے، پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔اس لیے نہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑے گا بلکہ اس لیے کہ پاکستان دہشت گردوں میں کوئی اچھے برے کی تمیز نہیں کرتا۔ پاکستان کا یقین ہے کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتے ہیں ۔ کسی کے ساتھی کسی کے دوست نہیں ہوتے۔ ان کا کوئی خاندان یا قبیلہ نہیں ہوتا یہ صرف دہشت گرد اور تخریب کار ہوتے ہیں۔ امریکہ اگر ایسے کوئی شواہد پاکستان کو فراہم کرے گا تو وہ دہشت گردی کے خلاف ساری دنیا کی جنگ میں ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا۔لیکن ٹرمپ کے بیان میں ایسے تعاون کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ٹرمپ ایسے بیانیہ پر اصرار کر رہے ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ، اشرف غنی حکومت اور بھارت نے خود ہی تشکیل دیا ہے اور وہ اسی بیانیہ کو حرفِ آخر قرار دے رہے ہیں۔ کوئی ذی شعور ایسی خود سری نہیں کر تا بشرطیکہ وہ کوئی اہداف اور ان کے تحت کارروائی طے نہ کر چکا ہو۔ ٹرمپ وہی زبان بول رہے ہیں جو ندی کے کنارے کھڑے بھیڑیے نے بہاؤ کے نچلی طرف کھڑے بھیڑ کے بچے کے ساتھ مکالمہ میں استعمال کی تھی اور کہا تھا کہ تم پانی گدلا کر رہے ہو۔ لیکن پاکستان بھیڑ کابچہ نہیںہے ، ایک آزاد اور خودمختیار ملک ہے۔ نیویارک میں ورلڈٹریڈسنٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد امریکہ نے ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی بیانیہ تشکیل دیا۔ورلڈٹریڈسنٹر پر جو لوگ حملہ آورپائے گئے ان کا تعلق بالعموم عرب ممالک اور القاعدہ سے نکلا۔ لیکن امریکہ نے ایک بیانیہ تشکیل دیا کہ افغانستان میںالقاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے پاس ایٹم بم ہے۔ افغانستان کی تاریخ کی بدترین بمباری کی گئی ۔ لیکن اسامہ بن لادن کا بم نہ پھٹ سکا نہ تلاش کیا جاسکا۔ صدام حسین کے عراق کے بارے میں بھی امریکہ نے ایک بیانیہ تشکیل دیا کہ اس کے پاس کیمیائی اور ایٹمی ہتھیار ہیں۔ عراق پر امریکی فوج نے حملہ کر دیا لیکن نہ کیمیائی ہتھیار ملے اور نہ ایٹمی اسلحہ۔ اس لیے اس سے پہلے کہ ٹرمپ انتظامیہ کوئی ایسا عالمی بیانیہ تشکیل دینے کی طرف بڑھے جس میں کہاجائے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں ، پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا مقدمہ لے کر عالمی برادری کے پاس جائے۔ ٹرمپ کے بیان کو جنگ کے اعلان کے طور پر پیش کیاجائے ۔ ان تمام ملکوں کو متوجہ کیاجائے جو دہشت گردی کاشکار ہیں اور دہشت گردی کو ایک عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے تحت اس کے خلاف انسدادی تنظیم قائم کرنے کی تجویز پیش کی جائے، ساری دنیا کی سیکورٹی فورسزکو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی تجویز پیش کی جائے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم یہ تو کرتی رہی ہے کہ داعش میں بھرتی ہونے کے لیے جانے والوں کے اعداد و شمار جاری کرتی رہی ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف کوئی عالمی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی۔ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں