Daily Mashriq


افغانستان میں امن ہمسایہ ممالک کی بقاء کیلئے ضروری

افغانستان میں امن ہمسایہ ممالک کی بقاء کیلئے ضروری

پاکستان کے نئے وزیرِ اعظم نے وفاقی حکومت کی عمل داری ان علاقوں اور معاملات تک بڑھانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے جہاں پہ پہلے وفاقی حکومت کی عمل داری کم تھی۔ اس عزم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت کو اب افغانستا ن کے ساتھ تعلقات کی بہتری جیسے اہم معاملے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ افغانستان کے حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کو بھی پاکستان سے الگ نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ افغانستان کی جنگیں پہلے ہی اپنے ہمسایوں، خصوصاً ایران اور پاکستان کو کافی نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن افغان جنگوں نے صرف اپنے ہمسایوں کو ہی متاثر نہیں کیا ۔ پاکستان کے ساتھ دشمنی نبھانے کی کوشش میں بھارت بھی ہمیشہ سے افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی کرتا رہا ہے ۔ اسی طرح چین بھی افغانستان میں دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے جس کی وجہ خطے کی 'جیو اکنامکس ' ہے ۔ جیو اکنامکس وہ اصطلاح ہے جو کہ رابرٹ بلیک اور جینیفر ہیرس جیسے تجزیہ کاروں نے 2016ء میں ایجاد کی تھی جس کا مطلب معیشت کو جیو پولیٹیکل مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا ہے۔چین اپنے ون۔ بیلٹ، ون روڈ منصوبے میں افغانستان کو شامل کرچکا ہے جس میں تین برِاعظموں کے دیگر کئی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت چین پاکستان اور قازقستان میں بڑی بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ ان دونوں ممالک میں دو متوازی کوریڈورز کی تعمیر چین کے مغربی حصے کو وسطی اور مغربی ایشیاء سے جوڑے گی ۔ ان علاقوں سے گزر کر چین یورپ اور افریقہ تک رسائی حاصل کرے گا ۔ افغانستان میں امن کے قیام کے بعد ان مشرقی ،مغربی ہائی ویز کو شمالی ،جنوبی لنک سے جوڑنے کا چینی منصوبہ بھی موجو د ہے جس سے علاقائی ہائی ویز کا ایک جال بچھا دیا جائے گا۔دوسری جانب، اگرچہ امریکہ ابھی تک افغانستان میں اپنے قلیل المعیاد اور طویل المعیاد مفادات کا تعین کرنے میں مصروف ہے لیکن مستقبل میں چین کے عزائم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مفادات ثانوی حیثیت اختیار کرجائیں گے ۔ مستقبل قریب میں امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی اس لئے برقرار رکھے گا کہ وہ چین کے عزائم پر نظر رکھ سکے اور چین کے سپر پاور بننے کے عمل پر قدغن لگاسکے۔ اسی طرح روس یہ نہیں چاہے گا کہ افغانستان اسلامی انتہا پسندوں کے زیرِ نگیں چلا جائے جس کی وجہ سے روس کے ہمسایہ سینٹرل ایشیاء کے ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اگرچہ یہ ممالک سویت یونین سے الگ ہوچکے ہیں لیکن آج بھی ان ممالک میں روس کا اثرو رسوخ باقی ہے۔اگر اسلامی انتہاپسندی ان ممالک تک پہنچ گئی تو اس سے روس متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا جس کی مسلمان آبادی پہلے ہی بے چینی کا شکار ہے۔اس ساری صورتحال سے کیسے نمٹا جائے گا ؟ ان چند سوالوں میں سے ایک سوال تھا جن کا جواب مجھ سمیت تین سکالرز نے 2015ء میں 'افغانستان: اگلا مرحلہ'کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں دینے کی کوشش کی ہے ۔ اس کتاب کی ایک جلد میں نے مئی 2015ء میں افغان صدر اشرف غنی کو بھی پیش کی تھی ۔ اس کتاب میں ہم نے مشورہ دیا کہ افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ان تمام ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے جوکہ جغرافیائی لحاظ سے اس مسئلے سے براہِ راست متاثر ہورہے ہیں ۔ اس گروپ میں افغانستان کے جغرافیائی ہمسایوں ( پاکستان، ایران، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور چین ) کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو بھی شامل ہونا چاہیے جو کہ کسی نہ کسی حوالے سے افغانستان کے معاملات میں ملوث ہیں۔ ان ممالک میں بھارت، روس، ترکی اور امریکہ شامل ہیں۔دس ممالک پر مشتمل 'افغانستان کے دوست ' ممالک کے اس گروپ کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے افغانستا ن کے مسئلے کو حل کرنے کے قانونی اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ان ممالک کو ایک مخصوص مدت کے دوران افغانستان کے مسائل کو حل کرنے کا مینڈیٹ ملنا چاہیے۔ یہ عرصہ ایک دہائی پر محیط ہوسکتا ہے جس کے بعد افغانستان کے تمام معاملات آئینی طور پر منتخب افغان حکومت کے سپرد کر دیئے جائیں۔ اس پالیسی کے تحت افغانستان سے امریکی انخلاء کی وضاحت نہیں کی گئی اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ پالیسی کس طرح امریکی مفادات کے حصول کا باعث بنے گی جس کے بعد امریکہ ہمیشہ کے لئے افغانستان چھوڑ دے گا۔ اس وقت امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں افغانستان کے حوالے سے کئی قسم کے مباحثے جاری ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کل تک افغانستان میں اپنی موجودگی کو محدود کرنے یا ملک میں مزید امریکی فوج بھیجنے کے درمیان تقسیم تھی لیکن نئی افغانستان پالیسی کے تحت امریکہ انخلاء کی بجائے اب افغانستان میں مزید 4000 فوجی بھیجے گا۔ یہاں پر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت مسلم دنیامیں کئے جانے والے نئے امریکی اقدامات سے دنیا ، اور خاص طور پر یورپ میںتشدد کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے جوکہ جنوبی ایشیاء پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔اس لہر کو جنوبی ایشیاء تک پہنچانے میں افغانستا ن ایک راہداری کا کام کرے گا ۔ جنوبی ایشیاء کے اردگرد واقع دیگر ممالک میں پھیلتا ہوا عدم اطمینان اس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے کہ خطے کے ممالک کا اس لہر سے بچنا ناممکن ہے۔ تشدد کی اس نئی لہر کے آگے ایک مضبوط بند باندھنا نہایت ضروری ہے ورنہ یہ لہر خطے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں