Daily Mashriq


د بنگ انٹری

د بنگ انٹری

بات کچھ پرانی ہوتی جا رہی ہے۔ فی الوقت دونوں حریف محاذوں پر خاموشی طاری ہوچکی ہے۔ خدا کرے آئندہ کے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ یہ وقوعہ جو ایک سکینڈل کی شکل میں نمودار ہواہم چاہتے ہیں کہ اس کا بخیرخاتمہ ہو جائے۔ کچھ ہفتہ پہلے دبنگ انٹری کی سرخی کے ساتھ کچھ خبریں لگی تھیں جس میں بتایاگیا تھا کہ پی ٹی آئی کی ایک منحرف خاتون قومی اسمبلی نے پارلیمان میں دبنگ انٹری دی ہے۔ وہ وزیری لباس پہنے سر پر ایک خوبصورت پگڑی سجائے اسمبلی میں داخل ہوئی تھیں۔ یہی انداز انہوں نے ایک پرائیویٹ چینل کے ٹاک شو میں بھی اپنایا تھا۔ ان کی اپنی پارٹی سے وجہ انحراف کیا بنی ہم اسے کسی طور بھی زیر بحث لانا مناسب نہیں سمجھتے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے جس طرح نمک مرچ لگاتے ہوئے اس وقوعے کو سکینڈل بنا کر اچھالا وہ طریقہ کار بھی درست نہ تھا۔ پارلیمان میں اپنی دبنگ انٹری اور بعد میں ایک پرائیویٹ چینل میں اپنی پگڑی اور مردانہ وضع قطع کے بارے میں خاتون نے بتایا کہ وہ یہ سب کچھ رضیہ سلطانہ جنہوں نے کم و بیش آٹھ سو سال پہلے ہندوستان پر حکومت کی تھی ان کی پیروی میں کر رہی ہیں۔ انہوں نے رضیہ سلطانہ کو اپنی گفتگو میں حقوق نسواں کی مرجیدکے سمبل کے طور پر پیش کیا اور یہی کچھ انہوں نے بھی اپنا ہدف قرار دیا۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں کسی عورت کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جو انسانیت کی حیثیت سے اس کا حق بنتا ہے چاہے وہ رضیہ سلطانہ ہو یا آج اکیسویں صدی کی کوئی خاتون۔ مرد انہیں ہمیشہ اپنی گرفت میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع نہیں دیتے اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ان کے زیر دست رہے۔ پی ٹی آئی سے منحرف خاتون کے اپنے کچھ مسائل ہوں گے لیکن رضیہ سلطانہ اپنی تمام تر ذہانت و فراست کے باوجود مردانہ برتری کا شکار ہوئیں۔ وہ اپنے والد شمش الدین التمش کی چہیتی بیٹی اور ایک نڈر خاتون کے طور پر شہرت رکھتی تھیں۔ انہیں ابتداء ہی سے سلطنت کے انتظامی امور میں بے حد دلچسپی تھی وہ ابھی شہزادی ہی تھیں کہ حکومت کے بہت سے اہم اور پیچیدہ مسائل میں ان کی رائے کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ التمش نے جب بیٹوں کے ہوتے ہوئے بھی رضیہ سلطانہ کو تخت و تاج کا وارث بنایا تو بعض با اثر امراء نے ان کے اس فیصلے کو زیادہ پسند نہیں کیا۔ سیانوں نے ہمیں بتایا کہ تخت و تاج سنبھالنے پر انہوں نے بھی ڈبنگ انٹری دی تھی۔ پردے کا تکلف ترک کر دیا' مردانہ لباس پہنا اور دربار عام میں اپنی دھاک بٹھاتی رضیہ سلطانہ کی فہم و فراست کی ایک دنیا قائل ہے۔ بس ذرا ان کی زندگی میں یاقوت نام کے ایک حبشی غلام کی انٹری نے ان کے بارے میں امراء کو افواہیں پھیلانے کا موقع فراہم کیا۔ ہم نہیں جانتے کہ یاقوت نے رضیہ سلطانہ کے دل میں کیسے جگہ پائی اور دونوں کے مابین تعلقات کی نوعیت کیا تھی۔ البتہ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ رضیہ سلطانہ نے یاقوت سے اپنے تعلق کو کبھی نہیں چھپایا۔ یاقوت سر عام ان کے بغل میں ہاتھ ڈال کر انہیں گھوڑے پرسوار کرانے میں مدد کرتا۔ یاقوت حبشی نے رضیہ سلطانہ کے دل میں ایسی جگہ بنائی کہ تھوڑے ہی عرصے میں اسے امیر الامراء کے منصب جلیلہ پر فائزکردیاگیا۔ یاقوت کا یہ عروج دیکھ کر تمام امراء اس کے شدید مخالف ہوگئے اور اس کی جان کے دشمن بن گئے۔ آٹھ سو سال قبل رضیہ سلطانہ جیسی دبنگ خاتون کے اقبال کا ستارہ یاقوت حبشی پر مہربانیوں کی وجہ سے تاریکی میں ڈوب گیا۔ ایک حاکم جس کا نام اختیار الدین التونیہ بتایا جاتا ہے۔ اس نے یاقوت کے اثر و اقتدار سے تنگ آکر رضیہ سلطانہ کے خلاف بغاوت کردی۔ د ونوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی ۔ یاقوت حبشی کو قتل کردیاگیا اور رضیہ سلطانہ کو شکست کا سامنا کرنے کے بعد بٹھنڈہ کے قلعے میں نظر بند کردیاگیا۔ ملک التونیہ اور رضیہ سلطانہ کے درمیان صلح تو ہوگئی مگر نتیجہ دونوں کی شادی کی صورت میں نکلا۔ رضیہ سلطانہ بلا شبہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک دبنگ ملکہ کے طور پر یاد کی جاتی ہے لیکن اس کی بے جنس اور اقتدار پسند مزاج نے اسے تین سال اور چھ دن کی حکومت میں ہمیشہ پریشان رکھا۔ باغی امراء کے ساتھ ایک جنگ میں اسے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ راستے میں کچھ ہندو زمینداروں کے ہتھے چڑھ گئی اور اسے بڑی بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ اس کے زوال میں یاقوت حبشی سے تعلق کا بڑا ہاتھ تھا۔ ہم اس تعلق کو سکینڈل کا نام تو نہیں دے سکتے لیکن رضیہ سلطانہ کی بے سکون زندگی اور تخت و تاج سے محرومی کی ایک وجہ یہ تعلق ضرور قراردیا جاسکتا ہے۔ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ رضیہ سلطانہ کے واقعات میں اس کی تمام ذہانت کے باوجود حقوق نسواں کے لئے کاوشوں بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا البتہ یہ دبنگ خاتون مردانہ برتری کا شکار ضرور ہوئی۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں مردانہ لباس پہننے کے باوجود عورتوں سے ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ دبنگ انٹری سے کچھ نہیں بنتا اس کے لئے رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں