برداشت اور باہمی احترام

برداشت اور باہمی احترام

ہر انسان دوسرے انسان کے بنائے گئے ذہنی سانچے میں نہیں ڈھل سکتا، طبیعتوں کا اختلاف فطری امر ہے، برداشت اور احترام انسانیت کی اعلیٰ صفات ہیں۔ یہ پیغام کل ہمیں اپنے سیل فون پر موصول ہوا۔ اسے پڑھتے ہی ذہن کے بند دریچے کھلتے چلے گئے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے درمیان بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی اصلاح چاہتے ہیں اگر انہیں کوئی اچھی عادت یا شوق ہو تو وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے وہی عادت اپنالیں۔ بہت سے لوگوں کو کتاب پڑھنے کا شوق ہوتا ہے وہ جس محفل میں بھی بیٹھتے ہیں اپنی کتاب بینی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ کتاب بینی کے فوائد پر مشتمل ہوتا ہے اور پھر تیسرے مرحلے میں وہ آپ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کتاب پڑھنا کتنا ضروری ہے۔ شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ زبردستی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ کچھ لوگ پرندے پالتے ہیں، کچھ لوگوں کو اچھے کھانے مرغوب ہوتے ہیں وہ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لئے دور دراز کا سفر کرتے ہیں، انہیں ہر شہر کے اچھے ریسٹورنٹ کا پتہ ہوتا ہے جہاں ان کے من بھاتے کھابے ملتے ہیں یوں کہئے کہ وہ کھانے کے لئے زندہ ہوتے ہیں یہ اکثر اس قسم کے اقوال زریں دہراتے رہتے ہیں جو کھاگیا وہ رنگ لا گیا جو جوڑ گیا وہ روڑ گیا۔ یہ اپنے ملنے جلنے والوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اچھا کھانا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے اللہ پاک نے یہ طرح طرح کی نعمتیں ہمارے لئے ہی پیدا کی ہوئی ہیں اگر ہم ان پر نظر کرم نہیں فرمائیں گے تو یہ بہت بڑا کفران نعمت ہوگا۔ اب ان سے کوئی کیسے کہے کہ ہر بندے کا اپنا مزاج ہوتا ہے کچھ لوگ اتنا کھاتے ہیں کہ بس سانس کی ڈور قائم رہے۔ ہمارے ایک دوست جنہیں بچپن ہی سے کھانے پینے کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے انہیں اپنی نانی جان نے بڑے لاڈ وپیار سے پالا تھا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ان کے لئے ان کا یہ اکلوتا اور لاڈلانواسہ ہی سب کچھ تھا وہ ان کے لئے مزے مزے کے کھانے تیار کرتیں لیکن یہ عمدہ سے عمدہ کھانا دو چار نوالے لے کر چھوڑ دیتا البتہ کتاب سے دوستی تھی جو ساری عمر قائم رہی، اب وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن جس وقت بھی دیکھئے ان کے ہاتھ میں ایک عدد کتاب ضرور نظر آتی ہے' پڑھنا پڑھنا اور بس پڑھنا شاید ان کی زندگی کا مقصد ہے وہ اپنی نانی جان کی ہزار کوششوں کے باوجود خوش خوراک نہ بن سکے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہر بندے کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے جیتا ہے اس لئے کسی پر زبردستی اپنی مرضی مسلط نہیں کی جاسکتی۔ غالباً تمہید کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی ہے آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا ہے کہ ہمیں خدائی فوجدار بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے لوگوں کو اپنی مرضی سے جینے کی اجازت ہونی چاہئے، دنیا کو اپنی مرضی سے بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا اور زندگی کی خوبصورتی اس رنگارنگی ہی کی وجہ سے ہے، مختلف رنگ ہی زندگی کی دلچسپیوں کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ اگر سب ایک جیسے ہوتے تو زندگی کتنی بے کیف ہوتی! سب جانتے ہیں کہ ورزش صحت کے لئے مفید ہے اگر لوگ ورزش کی عادت اپناتے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن اس طرح ہوتا نہیں ہے ایک شخص سونے کا شوقین ہے تو آپ اسے ورزش کرنے کے لئے مجبور نہیں کرسکتے۔ ہمارے ایک مہربان ناشتے سے غیر معمولی رغبت رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ناشتہ پیٹ بھرنے کے لئے نہیں کرتا بلکہ ناشتہ کرنے کی کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہوں ان کی بات کی صداقت کا اندازہ آپ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ ان کے ناشتے کا دورانیہ دوگھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے وہ چونکہ سرکاری ملازم نہیں ہیں ان کا ذاتی کاروبار ہے اپنی مرضی سے صبح گھر سے نکلنا ہوتا ہے اس لئے خوب مزے لے لیکر ناشتہ کرتے ہیں، ناشتے کے دوران اخبار کا مطالعہ بھی جاری رہتا ہے اب اگر آپ ان سے کہیں کہ جناب یہ کیا حماقت ہے کہ ناشتے پر دو قیمتی گھنٹے صرف کردیئے جائیں کتنا اچھا ہو کہ آپ ناشتے سے پہلے کم ازکم ایک گھنٹہ ورزش کریں اور پھر اس کے بعد ناشتہ کریں تو اس سے آپ کی صحت قابل رشک ہوجائے گی' آپ بلڈ پریشر، موٹاپے، شوگر اور دوسری بہت سی خطرناک بیماریوں سے بھی بچے رہیں گے۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ آپ کا یہ قیمتی مشورہ مان لیں گے؟ ہرگز نہیں! مشورہ تو اچھا ہے لیکن وہ پچھلے بیس برسوں سے یہی معمول اپنائے ہوئے ہیں جس طرح آپ ورزش کو پسند کرتے ہیں اس طرح وہ اپنے ناشتے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دراصل آپ لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ پرانی عادتیں چھوڑ کر کچھ نئی عادتیں اپنالیں! ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اچھے لوگوں سے اچھی باتیں سیکھ بھی لیتے ہیں لیکن اس کے لئے ان کے اندر اس کام کو کرنے کا شوق کسی نہ کسی درجے میں پہلے سے موجود ہوتا ہے بس صرف آپ کے کہنے کی دیر ہوتی ہے مگر ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ ورزش کرنے والوں کی مثال ہمارے سامنے ہے جو ورزش کے شوقین ہیں وہ ورزش کے لئے خود وقت نکالتے ہیں اور وہ اپنی اس عادت میں اتنے پختہ ہوچکے ہوتے ہیں کہ جس دن اگر کسی وجہ سے ورزش نہ کرسکیں تو ان کی طبیعت بوجھل پن کا شکار ہوجاتی ہے اور وہ اپنی فطری بشاشت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں لیکن جو لوگ ورزش نہیں کرتے اور انہیں ورزش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی وہ آرام سے سوتے رہتے ہیں انہیں نیند سے پیار ہوتا ہے وہ چھٹی کے دن سونے کو بہت بڑی عیاشی سمجھتے ہیں! یقیناً طبیعتوں کا اختلاف ایک فطری امر ہے' برداشت اور باہمی احترام بہت ضروری ہے یہی وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے زندگی آرام سے گزاری جاسکتی ہے۔

اداریہ