Daily Mashriq


عنایت اللہ خان صاحب ! ذرا توجہ

عنایت اللہ خان صاحب ! ذرا توجہ

فرعون کا واقعہ تو یقینا آپ جانتے ہوں گے کہ جب اسے جادوگروں ، جیو تشیوں اور مستقبل کا حال جاننے والوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں عنقریب ایک بچہ جنم لینے والا ہے جو اس کی بادشاہت اور خدائی کیلئے چیلنج کرنے والا ہوگا تو فرعون نے حکم صادر کر دیا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بچوں کو فوری طور پر قتل کر دیا جائے ، یوں قتل عام کا جو سلسلہ شروع ہوا اس سے سینکڑوں معصوم بچوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا ، لیکن مارنے والے سے بچانے والے کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں اوراللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ کو نہ صرف بچالیا بلکہ اس کی پرورش فرعون مصر کے اپنے ہی محل میں ہوئی ، اس واقعے پر حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا 

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اس شعر میں پوشیدہ سبق پرہم روشنی ڈالنے کی بجائے صرف یہ عرض کرنا چاہیںگے کہ اگر اسی حوالے سے واقعہ کر بلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ ا گریز یدی لشکربھی امام حسین اوران کے جانبازوں پر فرات کا پانی بند کرنے کی غلطی کرنے کے بجائے پانی کے ایک مشکیز ے کی اتنی قیمت لگا دیتے جو پانی کیلئے ترسنے والوں کیلئے خرید نا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا تو یزیدی بھی آج اس قدر بد نام نہ ہوتے ، مگر جن کی قسمت میں اللہ کی پھٹکار لکھی ہو ، ان کی عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے ، اس حوالے سے ہماری آج کی صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے کرتا دھرتا بڑے ہی ذہین و فطین لوگ ہیں جو عوام پر پانی مسلسل مہنگا کر کے بھی فروخت کرتے ہیں ، اس حوالے سے کسی احتجاج کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ یہ مہنگاپانی تو ایک طرف عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے انہیں جو بل بھجوائے جارہے ہیں وہ تاریخ ادائیگی سے بھی کئی روز بعد گھروں میںگر ا کرانہیں بلاوجہ جرمانے ادا کرنے پر بھی مجبور کیا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے میں اس سے پہلے بھی ایک کالم میں لکھ چکاہوں جو انہی صفحات پر 7اگست کی اشاعت کا حصہ بن چکا ہے ، مگر بجائے اس عوامی شکایت پر کوئی توجہ دی جاتی اور متعلقہ عملے کی سرز نش کی جاتی ، الٹا یہ ہوا کہ آج 22اگست ( جب یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے ) کو ایک بار پھر ڈبلیو ایس ایس پی والوں نے دوپہر 2بجے کے بعد جو بل گل بہار کالونی کے گھرں میں پھینکے ان پر بل کے اجراء کی تاریخ تو 20جولائی لکھی ہے اور ادائیگی کی آخری تاریخ 8اگست مگر بل گھروں میں 22اگست کو تقسیم کئے گئے اور پہلے ششماہی کیلئے پانی کے چارجز کی مدمیں نو سو روپے صرف ہوا کرتے تھے ، اب کی بار نہ صرف اس میں اضافہ کر کے بارہ سو روپے کر دیئے گئے ہیں بلکہ مبلغ6سور وپے Conservationچارجز اور مبلغ تین سو روپے سیوریج چارجز کے شامل کر کے کل رقم دو ہزار ایک سو کر دی ہے ، یوں جس طرح وفاقی حکومت بجلی بلوں میں بجلی کی قیمت کے علاوہ ڈیوٹی ، جنرل سیلز ٹیکس ، انکم ٹیکس ، ٹی وی فیس وغیرہ وغیرہ شامل کر کے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے ، اسی طرح اب یہ جو ادارہ ڈبلیو ایس ایس پی کے نام سے قائم کیا گیا ہے ، اسے بھی عوام کی کھال اتارنے کیلئے ہالی وڈ کی جیمز بانڈ سیریز والی فلموں کے مرکزی کردار زیرو زیرو سیون کو حاصل لائسنس ٹوکل کی طرز پر ، کھلم کھلا اجازت دیدی گئی ہے کہ جیسا چاہے عوام پر مہنگائی مسلط کرے حالانکہ جب تک پانی کی سپلائی کا کام ٹائون حکومتوں کے ٹھکیداروں کے پاس ہوتا تھا تو وہ صرف پانی کی قیمت و صول کرتے تھے مگر ڈبلیوں ایس ایس پی نے نئے ٹیکس عوام پر لاگو کر دیئے ہیں ، جن کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ میونسپل اداروں کو حکومت کی جانب سے جو بھاری فنڈز ملتے ہیں ان کا مصرف ہی یہی ہے کہ وہ عوام کو سہولیات دیں ، یہ جو کنزرولیشن اور سیوریج چارجز عائد کئے گئے یہ غیر قانونی ہیں اور ابھی حال ہی میں خود بلدیاتی اداروں کے ناظمین اور کونسلروں نے بھی اس پر احتجاج کرتے ہوئے اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پچھلے بلوں پر صرف ادارے کا نام ہی چھپا تھا مگر اب کی بار جو بل بھیجے گئے ہیں ان پر جلی حروف میں واٹر سپلائی ، کنزرو ینسی اینڈ سیوریج بل کے الفاظ چھاپ دیئے گئے ہیں اور اس حوالے سے چند ہفتے پہلے ایک خبر اخبارات میں چھپی تھی کہ متعلقہ ادارے کو جو فنڈز حکومت کی جانب سے دیئے گئے تھے انہیں اصل مقاصد کیلئے خرچ نہیںکیا گیا تھا بلکہ دیگر مدات میں استعمال کیا گیا اور اب ادارے کو چلانے کیلئے عوام پر بوجھ ڈالا گیا ہے ۔ میونسپل اداروں کی سطح پر مکمل سکوت اور خاموشی ہے اس لیئے سینئر صوبائی وزیر (بلدیات) جناب عنایت اللہ کی توجہ مسئلے کی طرف دلانا ضروری ہو گیا ہے کہ عوام کی چمڑی اتارنے کا '' شغل میلہ '' تو ایک طرف یہ جو متعلقہ ادارہ ڈاکہ زنی پر اتر آیا ہے اور بل تاریخ ادائیگی سے بھی کئی روز بعد گھروں میں ڈال کر بطور جرمانہ مزید رقوم اچک رہا ہے ، اس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز ہے ؟ اگر نہیں ہے ( جو یقینا نہیں ہے ) تو ادارے کے ان اہلکاروں کی سرز نش کیوں نہیں کی جاتی جو آخری تاریخ گزرنے کے کئی روز بعد بل دے کر عوام کو لوٹ رہے ہیں ! محکمے نے بل 27جولائی کو جاری کئے جن کی ادائیگی 8اگست کوہونی تھی مگر عوام کو یہ بل 22اگست کو پہنچا کر 210روپے سرچارج کے طور پر وصول کئے جارہے ہیں ، یوں جو لاکھوں روپے بطور جرمانہ وصول کئے جائیں گے یہ کس قانون سے جائز ہے ؟ جناب عنایت اللہ اگر اس ناجائز حرکت کا کوئی جواز ہے تو عوام کو آگاہ فرمایئے ۔

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات بر ملا کہنا

ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

متعلقہ خبریں