Daily Mashriq


پس و پیش نہیں ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے

پس و پیش نہیں ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے

دفترخارجہ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور امریکی سیکریٹری خارجہ کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کے بعد امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے جاری بیان کو حقائق کے منافی قرار دے دیاگیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمد فیصل نے ٹویٹر پر دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ گفتگو میں پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی فعالیت کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، اس کی فوری درستی ہونی چاہیے۔امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان ہیتھر نویرٹ نے کہا تھا کہ سیکریٹری پومپیو نے پاکستان میں فعال تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے فیصلہ کن اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ افغان امن کی کوششوں کے لیے اہم نکتہ ہے۔دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نویرٹ نے کہا ہے کہ امریکہ عمران خان اور مائیک پومپیو کے درمیان فون کال کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ دہشت گردوں کے بارے میں بات چیت والے بیان پر قائم ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکی وزیر خارجہ چھ ستمبر کو نئی دہلی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ بھارتی ہم منصب سے تزویراتی مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں جزوی قیام کے دوران پاکستان کے نئے حکمرانوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کے حکام کے الگ الگ دعوئوں اور اس کی واضح تردید دلچسپ معاملہ ہے۔ ہر ملک کی وزارت خارجہ کی اپنی اپنی تشریح تو معمول کی بات ہے لیکن سراسر تردید حیران کن امر ہے۔ بہر حال یہ معاملہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کے زمرے میں ضرور آتا ہے۔ اگر وزارت خارجہ کی تردید کو مستند مانتے ہوئے بھی دیکھا جائے تب بھی ڈو مور کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں۔ قبل ازیں سابق حکومتوں میں امریکہ کی جانب سے بار ہا اس قسم کے مطالبات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کو ان دو الفاظ کے محاورے میں بیان کیاجاتاہے جس کا مطلب و مدعا اور تشریح اخبار بیں طبقے کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ملکی قیادت اور وزارت خارجہ اس میں الجھے بغیر کہ انہوں نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا امریکہ کو حسب سابق دو ٹوک جواب دے تاکہ کوئی ایسا خلا باقی نہ رہے جس سے امریکہ کو شیر بننے کا موقع ملے۔ امریکہ کو اس حقیقت کو جان لینا چاہیئے کہ جب تک وہ افغانستان میں موجود ہے خواہ وہ رسد کی صورت میں یا کسی اور شکل میں پاکستان سے امریکہ کو خواہی ونخواہی روابط رکھنے ہی ہوں گے۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی لب ولہجہ میں خوشگوار اعتماد پر مبنی تعلقات کا حقیقت میں کوئی وجود نہ تھا اور اگر ایسا تھا بھی تو یہ وجود نامکمل اور ادھورا تھا کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت اس معیار تک کبھی پہنچی ہی نہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان پراعتماد تعلقات قائم ہوتے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو اگر طرفین کی جانب سے سودے بازی تک محدود تعلقات قرار دیاجائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب بھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی امریکہ نے پاکستان کو قریب کرنے کے اقدامات کئے اور جب ضرورت باقی نہ رہی تو پھر امریکیوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد پاک امریکہ تعلقات اور سفید ریچھ کو الجھائے رکھنے کی حکمت عملی دونوں ملکوں کی ضرورت تھی، روس اگر پاکستان کی سرحد پر آچکا تھا تو امریکہ کیلئے بھی یہ خطرے کی گھنٹی تھی، بنا بریں دونوں ہی ممالک کو اپنے عالمی اتحادیوں کے اشتراک کیساتھ شیر وشکر ہونے کا معاملہ کرنا پڑا، جب روس پسپائی اختیار کرکے لوٹ گیا تو خود امریکہ ہی کے تربیت یافتگان امریکی اسلحہ وساز وسامان اور عسکری مہارت کیساتھ امریکہ اور سعودی عرب کو للکارنے لگے۔ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا لہٰذا ایک مرتبہ پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت اور ضروریات کا احساس ہوا۔ القاعدہ کا شیرازہ بکھیرنے اور اسامہ بن لادن کی گرفتاری تک امریکہ اور پاکستان میں بدلتے حالات کے باعث دوریاں نظر آنے لگیں، اس کے بعد امریکہ کا ہرجائی پن پوری طرح سامنے آنے لگا اور ڈومور کے جواب میں نومور کہنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ میں امریکی قیادت کی غلطیوں اور پاکستان سے وابستہ توقعات کے پوری نہ ہونے کا معاملہ نامناسب الفاظ میں طشت ازبام ہونا کوئی راز کی بات نہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے 15سالوں کے دوران پاکستان کو33 ارب ڈالر دیئے، پاکستان نے ستر ہزار شہریوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کی وہ جنگ لڑی جسے امریکیوں نے افغانستان سے پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیلا تھا۔ ہمارے تئیں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی حریفانہ سرگرمیاں روز اول سے تھیں، خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں پاکستان کیخلاف متحرک قوتوں کی سرپرستی سے سی آئی اے منکر نہیں ہو سکتی، جہاں تک اس کے علاوہ سیاسی وعسکری قیادت اوردونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ رہا ہے، سفارتی نمائش کا لفظ اس کی بہتر تشریح کیلئے کافی ہے۔ ویسے بھی ممالک کے درمیان کبھی بھی اس طرح کے تعلقات ممکن ہی نہیں کہ کوئی ملک تشنگی محسوس نہ کرے۔ دونوں ممالک کا اپنے ملک کے بہترین مفاد میں ہی فیصلہ کرنا مجبوری ہوا کرتی ہے۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی ہوگی اور پاکستان نے اس کا جو بھی بدلہ چکایا ہوگا وہ وقت اور ضرورت اور اس ملک کا مفاد ہوگا۔ نہ امریکا نے پاکستان کی محبت میں ڈالروں کی برسات کی ہوگی اور نہ ہی پاکستانی قیادت نے امریکہ کیلئے وہ کچھ کیا ہوگا جو توقعات سے بڑھ کر ہو، جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد کے حالات کا تعلق ہے تو ٹرمپ حکومت کا شروع ہی سے پاکستان کیلئے لب ولہجہ موزوں نہ تھا مگر اس کے باوجود پاکستان کیساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات میں بہتری کی مساعی کی گئی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان کی نئی حکومت سے کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اس قسم کی بات کی۔ امریکی صدر کی جانب سے وضع کی جانیوالی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بھی کہا گیا تھا کہ ہم پاکستان پر اس کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جاری کوششوں میں تیزی لانے کیلئے دباؤ ڈالیں گے کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشتگردوں کیلئے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی۔ چونکہ پاکستان کی نئی حکومت اور قیادت کا لب و لہجہ سابق حکمرانوں کے مقابلے میں زیادہ جاندار اور ترکی بہ ترکی کا رہا ہے اس لئے پوری قوم کو بجا طور پر توقع ہے کہ وہ امریکہ کو ترکی بہ ترکی جواب دے گی اور کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں