Daily Mashriq


انجینئروں کے مسائل پر توجہ دی جائے

انجینئروں کے مسائل پر توجہ دی جائے

وطن عزیز میں حصول تعلیم کے بعد سب سے بڑااور سنگین مسئلہ حصول روزگار کا ہوتا ہے ۔ فنون لطیفہ کے سند یافتہ گان کی اکثریت یا تو بے روزگار ہی رہ جاتی ہے یا پھر عمر بھر نیم بے روزگاری کا شکار رہتی ہے۔ اچھے خاصے فنی تربیت یافتہ افراد بھی بمشکل ہی روزگار حاصل کرپاتے ہیں۔ اعلیٰ پیشہ ورانہ کالجوں اور جامعات سے فارغ التحصیل نوجوان بھی باآسانی روزگار حاصل نہیں کرپاتے۔ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوںکی اکثریت بھی ان دنوں مشکلات کا شکار ہے حالانکہ ذہین طالب علموں کی اکثریت ہی میڈیکل یا پھر انجینئرنگ کی تعلیم کا شعبہ چنتی ہے۔ طب اور انجینئرنگ کی تعلیم پر نہ صرف طلبہ کو پوری طرح محنت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس پر اخراجات بھی کافی آتے ہیں۔ حصول تعلیم کے بعد ڈاکٹروں اور انجینئروں کا بڑی تعداد میں بیروزگار ہونا افسوسناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ڈاکٹر برادری اور انجینئروں کا حکومتی مراعات وسہولیات کی کمی پر اعتراض تو رہا ہے مگر اب ان کو بیروزگاری جیسے سنگین مسئلے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اگر اعلیٰ ذہانت وقابلیت کے حامل افراد اس طرح سے مایوس ہونے لگیں گے تو لامحالہ دانش کی ملک سے فرار کی شرح بڑھے گی اور ہمارے جوہر قابل ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائینگے۔ اسطرح کی صورتحال سے تنگ آئے ہوئے بیروزگار انجینئروںکا ڈاکٹروں کی طرح مراعات اور روز گار کی فراہمی کا مطالبہ قابل توجہ ہے جس پر حکومت کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ سخت محنت سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنیوالے ہمارے نوجوانوں کو مایوس نہیں کیا جائے گا اور حکومت انجینئروں کی تمام آسامیوں پر جلد سے جلد مروجہ طریقہ کار کے تحت خالصتاً میرٹ پر بھرتی یقینی بنائے گی۔

عید پر بدمستی کے نا مناسب مظاہرے

عیدالاضحی کے موقع پر پولیس کی جانب سے کاریں اور موٹر سائیکل دوڑانے کا مقابلہ کرنے والے منچلوں کے خلاف کارروائی سے احتراز کئی حادثات کا باعث بنا۔ خاص طور پر حیات آباد کی سڑکوں پر دن بھر اور رات گئے منچلوں کے باعث شہریوں کا سکون غارت ہونے کی شکایات کے ساتھ حادثات بھی رونما ہوئے۔ ہمارے تئیں یہ صرف پولیس اور ٹریفک وارڈنز ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ماں باپ کی ذمہ داری پہلے آتی ہے جو اپنے کمسن اور نوجوان بچوں کو اس قسم کے مواقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی جانوں کے لئے بھی خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر گدھا گاڑیوں' چنگ چی اور رکشوں کی دوڑ بھی منعقد ہونا معمول کی بات بن گئی ہے۔گدھا گاڑیوں، چنگ چی اور رکشوں کی ریس لگا کر اس پر شرطیں لگانا جوے کی ایک قسم ہے جس کا انتظامیہ کی جانب سے نوٹس نہ لینا ملی بھگت کے تنازعے کا باعث امر ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں انتظامیہ، پولیس اور ٹریفک پولیس کے ہوتے ہوئے سڑکیں ٹریفک کیلئے بند کر کے شرطیں لگا کر ریس لگانے کی آزادی حیران کن ہے، اس دوران حادثات کا رونما ہونا اور ٹریفک کا متاثر ہونابھی سنگین معاملہ ہے۔آئندہ اس طرح کی کوشش کرنیوالے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور یوم آزادی' عیدین کے مواقع پر خاص طور پر اس قسم کے حرکات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس نا مناسب رواج کا خاتمہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں