Daily Mashriq


اپوزیشن حکومت سے کریں فوج سے نہیں

اپوزیشن حکومت سے کریں فوج سے نہیں

پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل پر ہمیشہ سوالیہ نشان بھی اُٹھتے ہیں ،تشویش بھی پائی جاتی ہے اور بسا اوقات یہ تسلسل ٹوٹا بھی ہے جس میں ہمارے سیاستدانوں کا اہم رول ہوتا ہے۔ہاں گزشتہ کچھ عرصہ سے ہماری جمہوریت اور فوج اپنے اپنے دائرے میں اپنی اپنی ڈگر پر چل رہے ہیں اور چاہے حکمران اپنی مدت پوری کریں یا نہ کریں حکومتوں نے اپنی مدتیں پوری کی ہیں تاہم نہ زمانے کا چلن بدلا نہ سیاست کا، ایک دوسرے پر ایسے ایسے جملے کسے گئے کہ الامان والحفیظ۔لگتا ہے سیاست سے شائستگی رخصت ہو چکی، ہاں پھر یہ بھی ہوا کہ یہی دشنام طراز ایک دوسرے کی سیٹوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے کے سنگی ساتھی بن گئے اور اسے نظریہ ضرورت قرار دینے کی بجائے باہمی افہام و تفہیم کا نام دے دیا جا تا ہے۔قومی سطح پر ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا نہ صرف بیان دے سکتے ہیں بلکہ اپنے کارکنوں کو قومی نقصان کرنے پر جذباتی طور پراُبھار سکتے ہیں ، اداروں کے خلاف جو رویہ رکھا جاتا ہے وہ نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارے لیے رسوائی کا باعث بن جاتا ہے ۔خاص کر فوج کے خلاف ہمارے عظیم رہنمائوں کے بیا نات توکچھ ایسے ہوتے ہیں جیسے دشمن پڑوسی ملک سے دیے گئے ہوں یا اُن کی فوج کے بارے میں دیے گئے ہوں ۔ہمارے انہی سیاسی رہنمائوں کو جب پناہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یا قوم اُن سے اُن کے گمراہ خیالات پر پوچھ گچھ کرتی ہے تو تب وہ ایسا یو ٹرن لیتے ہیں کہ بندہ دیکھتا ہی رہ جائے پھریہی فوج عظیم ہو جاتی ہے ورنہ شرمناک طور پر اسے ایسے ایسے خطابات سے نوازا جاتا ہے کہ شہیدوں کے خون کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ہمارے گزشتہ وزیراعظم کو تو کبھی یہ قرینہ تک نہ آیا کہ اپنے محافظوں کو کس طرح عزت دی جائے۔ دشمن سرحد سے چند کلو میٹر اندر ان کی ریاستِ جاتی عمرہ رائیو نڈ کا وجود بھی انہی محافظوںکا مرہون منت ہے جو سرحد پر بیٹھ کر اس وطن بشمول جاتی عمرہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔یہی حال مولانا فضل الرحمان کا بھی ہے جب انہیں عوام کا ڈر پیدا ہو جائے تو فوج عظیم ہو جاتی ہے ورنہ یہ بھی محمد نواز شریف کے عظیم ساتھی بن جاتے ہیں ۔حالیہ الیکشن پر مولانا صاحب کی رائے بڑی توجہ طلب ہے اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کب وہ دوبارہ اقتدار کا مزہ لوٹنے کے لیے نئی حکومت کے حامی بن جائیں فی الحال تو بوجوہ اپنی شکست کے اور عرصہ دراز کے بعد سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے وہ سخت ناراض ہیں لہٰذا نئی حکومت کے خلاف ہیں۔چلیے یہاں تو تیل کی دھار دیکھئے ،دیکھتے ہیں کہ کب تک ایسا چلے گا لیکن ان کے حالیہ الیکشن کے بارے بیا نات خاصے قابلِ اعتراض ہیں ۔ اُن کے فرمان کے مطابق موجودہ الیکشن میں فوج کا کردار اہم اور فیصلہ کن رہا اور جیتنے والے فوج کی مدد سے جیتے۔ چلئے مان لیا تو کیا ''را'' کی مدد سے جیتنے سے بہتر نہیں کہ آئی ایس آئی کی مدد سے جیتا جائے۔فضل الرحمان کے بعد ان کے ایک اور ہمنوا یعنی محمود خان اچکزئی بھی میدان میں اترے یہ بھی حکومتی پارٹی کے ''پکے'' اتحادی ہوتے ہیں لیکن فوج کے خلاف اپنی زبان دراز ہی رکھتے ہیں یہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ملکی سا لمیت پر ہرزہ سرائی فرماتے رہتے ہیں اور اپنا ایک صوبہ بھی افغانستان کو پیش کرتے رہتے ہیں جبکہ ان کا اس صوبے سے نہ تعلق ہے نہ واسطہ۔

افغان حکومت سے ان کے خوشگوار تعلقات کا وہ فائدہ خوب اٹھاتے رہے ہیں اور جواباََ انہیں اپنے ہی ملک سے غداروں کی کھیپ بھی فراہم کرتے رہتے ہیں جو انہی کے صوبے میں انہی کے لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ شاید یہی حقیقت بھانپ کر اور سمجھ کران کے حلقے کے لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا اور جب وہ اپنی نشست ہار گئے جسے وہ اپنی میراث سمجھتے ہیں تو ان کی توپوں کا رُخ بھی واہگہ کی توپوں کی طرح افواج پاکستان کی طرف ہو گیا اور الیکشن پر اپنی اُسی رائے کا اظہار کیا جس کی ان سے توقع تھی یعنی فوج نے انہیں ہرایا۔ اب یہ ''ووٹ کو عزت دو'' کا نعرہ لگانے والوں کے ساتھی ووٹ کے ہی انکاری ہو گئے۔بات یہاں تک آکر بھی نہ رُکی اور مزید آگے بڑھ کر ایک اور مہم شروع ہو گئی نئی حکومت کے حلف اُٹھانے سے بھی پہلے یہ کہا جانے لگا کہ بہت جلد حکومت اور فوج کے تعلقات خراب ہو جائیں گے اور حکومت چل نہیں سکے گی۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ حکومت کس کی ہے لیکن کیا اس قسم کا ماحول پیدا کرنا درست ہے کہ جس میں حکومت اور فوج کو آپس میں ٹکرایا جائے اور عوام کے ذہنوں میںتنفر پیدا کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے نمائندوں کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں بلکہ جب فوج چاہے انہیں کرسی سے اتار دے۔ اگرچہ ماضی میں مارشل لاء لگے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی سیاستدانوں نے مٹھائیاں بانٹ کر اس پر اپنی خوشی کا اظہارکیا ہے اور ان ادوار کی اسمبلیوں میں بھی پورے طمطراق سے بیٹھے ہیں مگر اب اگر ایسا نہیں ہو رہا اور ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی آرہی ہے تو دوبارہ اس قسم کی باتیں کیوں کی جارہی ہیں اور کس کا ایجنڈا پورا کیا جارہا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں خود کو جمہوریت کے چیمپئن اور خود کو جمہوری نظام کے لیے ناگزیر سمجھنے والے ہی جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔کام نئی حکومت کا بھی آسان نہیں اُسے بھی وہ وعدے پورے کرنے ہیں جن پر اُس نے ووٹ لیا ہے لہٰذا اپوزیشن اس طرح کیجیے کہ حکومت کو سیدھے راستے پر رکھ سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپوزیشن حکومت سے کریں کہ وہ آپ کی سیاسی حریف ہے فوج سے نہیں جو آپ اور آپ کی سرحدوں کی مقدس محافظ ہے۔

متعلقہ خبریں