باسی عید

24 اگست 2018

آج اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے ذوالحجہ کی 13 تاریخ ہے اور پاکستان بھرمیں 10ذی الحج سے شروع ہونے والی عید الاضحی کا چوتھا دن ہے ۔عید الاضحی کو ہم عید قربان ، بکرا عید، نمکین عید، اور بڑی عید جیسے متعدد ناموں سے یاد کرتے ہیں ، اس عید کے دوران دنیا بھر کے فرزندان توحید سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے قربانی کے جانور ذبح کرتے ہیں ۔ان کا گوشت تقسیم کرتے ہیں اور جی بھر کر عید کی خوشیاں مناتے ہیں ،اب کے جو عید الاضحیٰ آئی تو اسے ہم بڑی عید ہی نہیں بہت بڑی عید کہنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں کیونکہ یہ عید اپنے ساتھ جشن آزادی پاکستان کے علاوہ بقول کسے پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بہت بڑی تبدیلی بھی لیکر آئی۔ الیکشن 2018 ء کے نتیجے میں ملک و ملت کی باگ ڈور نئی قیادت کے ہاتھوں میں پہنچی اور پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق ممتاز اور ہر دل عزیز کپتان وطن عزیز کے وزیر اعظم بن گئے۔ یقینایہ بہت بڑی تبدیلی ہے ۔بیتے دنوں کے حکمرانوں کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم عمران خان نے اپنی الیکشن مہم کے دوران اہالیان قوم سے لمبے چوڑے وعدے کئے۔ جن پر قوم والوں نے بھر پور اعتماد کیا ۔ اور اپنے قیمتی ووٹ ان کی پارٹی کے حق میں استعمال کرکے ان کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر جلوہ افروز ہوجانے کا موقع دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے وعدے کب اور کیسے پورے کرتے ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ کرے وہ سارے وعدے وفا کر سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسائل الجھنیں چیلنج وزارت عظمیٰ کی کرسی کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کو وراثت میں ملی ہیں ان موروثی بیماریوں پر قابو پانا ہی ان کی اصل فتح ہوگی۔ اس لئے 22 سال کی جہد مسلسل کے بعد الیکشن 2018 میں کامیاب و کامران ٹھہرایا جانا اس جہد مسلسل کا نکتہ آغاز ہے جو انہوں نے ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے جاری رکھنی ہے۔ انہوں نے جو وعدے کئے ان کو پورا کرنے کی تلاش میں انہیں اس روڈ میپ پر چل نکلنا ہے جس کا تعین وہ اپنے منشور میں کر چکے ہیں۔یادش بخیر عمران خان نے الیکشن 2018 میں وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنے سے پہلے سو روزہ پلان پیش کیا تھا۔ سو روز یا سو دن کے گزرنے میں دیر نہیں لگتی۔ آنکھ موند کر گزر جاتے ہیں زندگی کے شب و روز۔ کل ہم عید کی آمد آمد کی خوشیاں منارہے تھے اور آج ہم عید کو باسی کر بیٹھے۔ حالانکہ عید کبھی بھی باسی نہیں ہوتی لغت نگار عید اس خوشی کو کہتے ہیں جو لوٹ لوٹ کر آئے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ عیدالاضحی عید قربان یا بڑی عید ایک سال کے توقف سے لوٹ کر آتی ہے۔لوٹ کر آنے والا ہرجائی بھی ہو تو اس کی ادا دل کو بھا جاتی ہے ، بقول پروین شاکر

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا

بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی

عید سال میں ایک بار اپنے وقت پریہ بات دہراتے ہوئے لوٹ آتی ہے کہ

دکانیں بڑھاؤاور فروغ قیمتوں کو دو

کاٹو گلے حلال کرو عید کا دن ہے

عید کے موقع پرصرف قربانی کے جانوروں کے گلے نہیں کٹتے ، مہنگائی کلچر میں زندہ رہنے کی مشق کرنے والے بھی اپنے گلے کٹواتے رہتے ہیں ، قربانی کے جانوروں کو ذبح کرکے سنت ابراہیمی ادا کرنے والے صاحبان حیثیت ہوتے ہیں لیکن اس موقع پر قربانی کا گوشت اور عید قربان کی خوشیاں غریبوں ، ناداروں ، یتیموں اور بیواؤں تک بھی پہنچ جاتی ہیں ، اور یہی درس ہے عید قربان کا ، اسلام خوشیاں اور آسودگیاں تقسیم کرنے کا درس دیتا ہے ، اور یہی درس پاکستان کے نودمیدہ وزیر اعظم نے عید کے پیغام کی صورت دہرا کر لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کی ، ان کا یہ پیغام

قسمیں وعدے پیار وفا سب

باتیں ہیں باتوں کا کیا

کے سوا کچھ بھی نہیں،جس وقت یہ باتیں سچ ہوتی نظر آئیں گی تو بات بات بن جائے گی ، ابھی انہوں نے ملک سے غربت ناداری اور افلاس کو جڑ سے ختم کرنے کی قسم کو پورا کرنا ہے، لیکن اسکا کیا کیا جائے کہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھتے ہی انہیں عید کی چھٹیوں پر جانا پڑا ، عید کی چھٹیوں پر جانے والے ہفتہ اور اتوار کی چھٹی گزارنے کے بعد اپنے دفتروں میں پہنچ کر دفتری عید منا یا کرتے ہیں ۔ اور یوں عید باسی ہوکر بھی تازہ ہوجاتی ہے ۔ باسی عید کے دن دفتروں میں ڈھنگ کا کام نہیں کیا جاتا ،

عید کا دن ہے گلے ہم سے لگا کر ملئے

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

ماتحت اپنے افسروں کے دفتر میں پہنچ کر عید مبارک کرتے ہیں اور افسر اپنی کرسیوں سے اٹھ کر ان کے گلے ملتے ہیں ، راہ و رسم نبھانے کے اس سلسلہ سے فراغت پاتے ہی سٹاف والے اخبارات کی شہ سرخیوں میں' تبدیلی آئی رے' کے متعلق جاننے اورسمجھنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں ، سچ پوچھیں تو ہمارے کان پک گئے ہیں وعدے سن سن کر زباں گنگ ہوگئی ہے اور آنکھیں پتھرا گئی ہیںسیاست دانوں کے کبھی نہ پورے ہونے والے وعدوںکے انتظار میں اللہ کرے اب کی بار ایسا نہ ہو اور نئی قیادت ان راستوں پر چل نکلے جو ملک اور قوم کو خوشحالی کے چاندنی چوک میں پہنچا دے۔ یوں ہمارا ہر دن عید سعید اور ہر رات شب بارات بن جائے گی ۔اب تو ہم یہ بات کرنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں کہ

کس منہ سے ہاتھ اٹھائیں فلک کی طرف ظہیر

مایوس ہے اثر سے دعا اور دعا سے ہم

مزیدخبریں