Daily Mashriq

پاکستان ترجیح اول

پاکستان ترجیح اول

وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب کو تمام حلقوں میں سراہا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے روایت سے ہٹ کر خالص دل کی آواز کو عوام کے سامنے رکھا اور عوام کے مسائل کا گہرائی میں جا کر ادراک کیا جبکہ عمران خان کے برعکس 2013ء میں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انہوں نے قوم سے فوری طور پر خطاب نہ کیا۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ سوچ بچار میں مصروف ہیں ' شکل سے وہ متفکر بھی نظر آتے تھے مگر جب طویل انتظار کے بعد انہوں نے قوم سے خطاب کیا تو ان کے خطاب میں کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس کے برعکس عمران خان کا بطور وزیر اعظم خطاب ایک مدبرانہ خطاب تھا۔ انہوں نے ایک دردمندانہ پاکستانی کی طرح تمام مسائل کا احاطہ کیا اور ایک قائد کی حیثیت سے مسائل سے نمٹنے کی تدبیر بھی بتائی۔ ان کے خطاب سے جو بات سمجھنے کا موقع ملا وہ مسائل پر ان کی گہری نظر ہے۔ انہوں نے ان خرابیوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو ان کے پیش رو حکمرانوں کی ترجیح تو درکنار ان کی سوچ بھی نہ تھی۔ مثال کے طور پر پاکستانی قوم کو متوازن خوراک کی عدم دستیابی اور اس کے نقصانات کے بارے میں کیا کبھی زرداری اور نواز شریف جیسے حکمرانوں کے لبوں سے کچھ سننے کا ہمیں موقع ملا؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارے بچوں میں نشونما کی کمی اس وجہ سے ہے اور ان کی ذہانت بھی اسی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے؟ کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ناقص 'غیر معیاری اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے پاکستانیوں کے اوسط قدر میں چار انچ سے زائد کی کمی گزشتہ پچاس سالوں میں واقع ہوئی ہے؟ عمران خان نے اس بابت نشاندہی کر کے عوام کو پیغام دیا ہے کہ قوم کا صحیح اور سچا قائد کیسا ہوتا ہے۔ قوم کے قائد کی نگاہ زندگی کے ہر پہلو پر ہوتی ہے او روہ خوراک سے لے کر افراد کے بیٹھنے اٹھنے ' چلنے پھرنے اور سونے کے معمولات تک پر نظر رکھتا ہے۔ نیشن بلڈنگ کا عمل کوئی مذاق نہیں ہے ' ہماری بدنصیبی یہ رہی ہے کہ ہمیں ڈے ٹو ڈے امور چلانے والے نام نہاد رہنما نصیب ہوئے جن کے پیشِ نظر محض یہ رہا کہ آمدن اخراجات کا میزانیہ کیسے درست رکھنا ہے۔ بدقسمتی سے یہ اس معاملے میں بھی ناکام ہوئے اور ملک کو قرضے لے کر چلاتے رہے۔ آج پاکستانی قوم کھربوں روپے کی مقروض ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ قرضوں کی ادائیگی ہے۔ چھ ہزار ارب روپے سے ان دس سالوں میں 27ہزار ارب روپے تک پاکستان کا قرضہ پہنچ گیا ہے۔ یہ کیسے پاکستان دوست حکمران تھے، کیا تاریخ ان کا یہ جرم کبھی معاف کرے گی؟ عمران خان اتنے بڑے حجم کے قرضے سے پاکستان کی جان کیسے چھڑا پائیں گے' یہ اپنی جگہ ایک بڑا سوال ہے اگرچہ خان صاحب کا عزم جوان ہے اور وہ پختہ ارادے کے ساتھ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس مشکل ٹاسک کے لیے لازم ہے کہ انہیں قوم کی مدد ملے جس کا اظہار انہوں نے قوم کے نام خطاب میں کر دیا ہے۔ قوم ان کی مدد ضرور کرے گی کیونکہ وہ ہر کام میں پہل اپنی ذات سے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح نہیں ہیں چنانچہ انہوں نے سادگی کی تلقین کرتے ہوئے پہل اپنے آپ سے کی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنا اور 524ملازمین کو چھوڑ کر دو ملازمین کی خدمات حاصل کرنا اور 80گاڑیوں کو ترک کر کے محض دو گاڑیوں کو استعمال میں لانا کیا ہمیں یہ پیغام نہیں دے رہا کہ پاکستان بدل رہا ہے کیونکہ اس کے حکمران کا طرز عمل بدل گیا ہے۔ پولیس کے نظام کی تبدیلی اور عدالتی نظام کی اصلاح کی بات کیا پہلے والے حکمرانوں کی ترجیح تھی' دس سال تک مسلسل اقتدار میں رہنے والی ن لیگ سے آن لائن ایف آئی آر کا اندراج اس لیے نہ ہو سکا کہ اس کے پاس ایسے سافٹ ویئر ماہرین موجود نہ تھے بلکہ یہ نیا نظام اس لیے نہ بن سکا کہ وہ مروجہ نظام کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہی نہ تھے۔ ان کی سیاست نظام انصاف کی سست روی اور تھانہ کلچر کی مرہون منت تھی' وہ اس کو کیونکر بدلنے کی آرزو کرتے۔ ارض پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو پہلی مرتبہ عمران خان کی صورت میں ایک ایسا وزیر اعظم ملا ہے جس کا اپنا کوئی "Vested Interest"نہیں ہے۔ وہ اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر ہے۔ پاکستان کے اندر اور باہر اس کا ایسا کوئی مفاد نہیں جو اس کے قدموں کی زنجیر بن سکے۔ چنانچہ خارجہ اُمور میں قوم کو پہلی مرتبہ ایک نیا رنگ اور آہنگ دیکھنے کو ملے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کی ترجیح امن ہے اور انہوں نے ہمسائیوں سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو نہایت خوش آئند ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کڑے احتساب کے خواہاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائی جائے۔ معروضی حالات میں یہ ایک دلیرانہ اقدام ہو گا۔ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ افواج پاکستان اور عدلیہ اس اقدام میں ان کا بھرپور ساتھ دیں گی۔ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت کا پاکستان واپس لانا عمران خان کی حکومت کے سنہری کاموں میں سے ایک کارنامہ سمجھا جائے گا چونکہ ہمیشہ یہ دعوے کیے جاتے رہے لیکن عملی طور پر کبھی کچھ نہ ہو سکا۔

متعلقہ خبریں