Daily Mashriq

ضمنی الیکشن اور اخراجات کا بھاری بوجھ

ضمنی الیکشن اور اخراجات کا بھاری بوجھ

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ملک کے 22ویں وزیراعظم کا حلف اٹھا لینے کے بعد وہ تمام ترمبصرین غلط ثابت ہوگئے جو کہتے تھے کہ عمران خان کی ہتھیلی پر وزیراعظم بننے کی لکیر ہی نہیں ہے۔ عمران خان نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کڑے احتساب اور سسٹم کو درست کرنے پر زور دیا ہے، اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی پر بھی انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا وہ کوئی بھی حلقہ کھلوانے کیلئے تیار ہیں کیونکہ ہم انتخابات کا شفاف سسٹم چاہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں عمران خان جہاں دیگر امورکی طرف توجہ دیں اس کیساتھ ساتھ انہیں اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے کہ کوئی امیدوار دو سے زیادہ حلقوں پر الیکشن نہ لڑے کیونکہ بقول عمران خان ہم غریب ملک کے باسی ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر اخراجات کرنے چاہئے، عمران خان نے اپنی ذات سے اس کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے جسے عوامی حلقوں میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

الیکشن 2018ء پر اٹھنے والے اخراجات پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ گزشتہ 2انتخابات پر خرچ ہونے والی مجموعی رقم سے 3گنا زیادہ ہیں، جس میں زیادہ تر رقم سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر خرچ کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اندازے کے مطابق انتخابی عمل پر 21 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے، جس میں سے 10 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد معمول کے انتخابی عمل، جس میں پولنگ اسٹاف کی تربیت، الیکشن میں فرائض انجام دینے والے انتخابی عملے کے معاوضے، انتخابی مواد کی چھپائی، مواصلات اور دیگر معاملات کی مد میں خرچ ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات پر ایک ارب 84 کروڑ روپے کے اخراجات آئے تھے، جو 2013 کے عام انتخابات میں بڑھ کر 4 ارب 73 کروڑ روپے تک پہنچ گئے تھی، یعنی اس میں تقریباً 157 فیصد اضافہ ہوا تھا2008ء میں پاک فوج کو 10 کروڑ 20 لاکھ روپے سیکورٹی اخراجات کی مد میں ادا کیے گئے تھے جبکہ 2013 ء میں سیکورٹی کے لیے ادا کی جانے والی رقم 70 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی۔خیال رہے کہ ان اخراجات میں پولیس سمیت مقامی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی سطح پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کے اخراجات شامل نہیں۔جبکہ ملک میں ہونے والے ضمنی الیکشن پر ایک نظرڈالی جائے توالیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے مجموعی 41 حلقوں کے لیے ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیاہے۔واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی 11 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 26 نشستیں مختلف وجوہات کی بنا پر خالی ہوگئی تھیں، جس میں کچھ اراکینِ اسمبلی کے ایک سے زائد حلقوں سے منتخب ہونے اور کچھ امیدواروں کے انتقال کے سبب خالی ہوئیں۔11 میں سے 4 نشستیں وزیراعظم عمران خان نے چھوڑی ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 5 حلقوں سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہونے کے بعد این اے35 بنوں، این اے53 اسلام آباد، این اے131 لاہور اور این اے243 کراچی کی نشست خالی کردی جبکہ میانوالی کی نشست محفوظ رکھی۔اسی طرح قومی اسمبلی کے 2 حلقوں این اے65 چکوال اور این اے69 گجرات کی نشستیں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے خالی کی تھیں ، جبکہ انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست برقرار رکھی جس سے وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے پر منتخب ہوئے۔اس کے علاوہ این اے56 اٹک کی نشست تحریک انصاف کے میجر (ر) طاہر صادق نے خالی کی جنہوں نے این اے55 سے بھی کامیابی حاصل کی تھی۔اسی طرح غلام سرور خان نے این اے63 اور این اے59 راولپنڈی سے کامیابی حاصل کی تھی، چنانچہ انہوں نے این اے 63 نشست خالی کردی۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز شریف کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی نشست برقرار رکھنے کے فیصلے سے ان کی جیتی ہوئی این اے124 کی نشست بھی خالی ہوئی۔راولپنڈی کے حلقے این اے60 میں انتخابات سے چند دن قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی نااہلی کے سبب پولنگ ملتوی کردی گئی تھی، جبکہ ایک امیدوار کے انتقال کی وجہ سے فیصل آباد کے حلقے این اے103 میں انتخابات ملتوی کیے گئے۔اسی طرح مختلف وجوہات کے پیشِ نظر پنجاب کی اسمبلی کی جن 13 نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی جن نشستوں پر انتخاب ہوگا اس میں پی کے3 اور پی کے7 سوات، پی کے44 صوابی، پی کے53مردان، پی کے61 اور 64 نوشہرہ، پی کے78 پشاور، پی کے97 اور پی کے99 ڈیرہ اسمٰعیل خان شامل ہیں۔اس کے علاوہ سندھ کے حلقوں پی ایس87 ملیر، پی ایس30 خیر پور اور بلوچستان کے حلقوں پی بی35مستونگ اور پی بی40 خضدار میں بھی ضمنی انتخاب ہوگا۔اگرچہ عمران خان خود بھی پانچ حلقوں سے الیکشن لڑے ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں 41حلقوں کے ضمنی انتخابات پراٹھنے والے اخراجات سے بھی وہ بخوبی آگاہ ہوں گے اور وہ ملکی خزانے پرپڑنے والے اضافی اخراجات کیلئے کوئی ایسا قانون ضرور متعارف کرائیں گے کہ آئندہ متعدد الیکشن پر لڑنے کی اجازت نہ ہویا ملکی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے۔

متعلقہ خبریں