Daily Mashriq

سرائیکی دانش کا آفتاب ڈوب گیا

سرائیکی دانش کا آفتاب ڈوب گیا

چند دن ہوتے ہیں جب جنم شہر ملتان سے شمیم عارف قریشی کے سانحہ ارتحال کی اطلاع ملی۔ عزیز جاں دوست محمود مودی نے کہا '' مرشد رخصت ہوئے سرائیکی وسیب اپنے روشن دماغ فرزند سے محروم ہوگیا''۔ سوشل میڈیا پر موجود وسیب زادوں نے اپنے دوست' مربی' استاد' محسن' دانشور' شاعر اور اجلے زمین زادے کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ لگ بھگ دو ماہ قبل جنم شہر یاترا کے دوران ان سے ملتان ٹی ہائوس میں نشست جمی اور مختلف موضوعات پر خوب باتیں ہوئیں۔ زندہ مسکراہٹ کے ساتھ سفر حیات طے کرنے والے پروفیسر شمیم عارف قریشی سے سال 1976ء میں پہلی ملاقات عمر علی خان بلوچ مرحوم ماہنامہ سرائیکی ادب کے دفتر میں ہوئی تھی۔ اس اولین ملاقات کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں۔ ایک دوست مہربان اور بڑے بھائی کے فرائض انہوں نے سال 1976ء میں جو سنبھالے پھر سنبھالے ہی رکھے۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ سارا سفر حیات وسیب میں طے کیا۔

ہمیں تلاش رزق نے ہجرتوں کی انوکھی نعمت کے پلے باندھ دیا۔ پچھلے 42 سالوں کے دوران برسوں کے حساب سے ملاقاتیں زیادہ رہیں۔ نجی خوشی کی تقریبات اور سرائیکی وسیب کے قومی تشخص و سیاسی اجتماعات میںملاقات ہمیشہ بھرپور رہی۔ وہ دانش اور مطالعے کے موتی لٹاتے ہم سے طلباء اس فیض سے جھولیاں بھرتے۔ چند ماہ قبل سوجھل دھرتی والوں کی قومی کانفرنس میں ملتان سے فاضل پور تک کا سفر اکٹھے طے کیا۔ سچ یہ ہے کہ سرائیکی وسیب ایک صوفی سے محروم ہوگیا ہے۔ اب ان سا کہاں سے لائیں گے۔ عمر علی خان بلوچ' عزیز نیازی' عارف محمود قریشی' لالہ زمان جعفری' سید حسن رضا رضو شاہ۔ ملتان اپنے کیسے کیسے فرزندوں سے محروم ہوا۔

انگریزی اردو ادب کے ساتھ سرائیکی تاریخ ادب ' تمدن اور قومی سوال پر ان سے زیادہ با خبر شاید ہی کوئی ہو۔ وہ دوستوں کے لئے فکر مند رہتے اور مجھ طالب علم کے لئے تو بہت زیادہ۔ کئی بار عرض کیا ایسا کیا ہوگا جو گزرے ماہ و سال میں ہمارے ساتھ نہ ہوا ہو' آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ ان کے چہرے پر مسکراہٹ مزید گہری ہو جاتی اور کہتے' سرائیکی وسیب کو تمہاری ضرورت ہے۔ ادب سے عر ض کرتا طالب علم کی اتنی اہمیت نہیں آپ اپنا خیال رکھا کریں۔ باسط بھٹی' مودی' پروفیسر رفعت عباس' پروفیسر اکرم میرانی سمیت ہر مشترکہ دوست نے ملاقات ہوتے ہی کہا' شاہ جی مرشد شمیم عارف قریشی تمہارے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔ ان کی محبت اور درد کے احترام میں ہمیشہ سر جھکا لیتا۔ فکر مند رہنے والے ایک ایک کرکے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ دائمی زندگی کی دستاویزات یہاں کس کے پاس ہیں۔ سبھی کو سامان سفر باندھ کر رخصت ہونا ہے۔ صوفی وشہید' سرمد نے ایک بار کہا تھا '' ہمارے ہونے کو نہ ہونا سمجھنے والے بہت ملال کریں گے جب جام زندگی پی کر ہم چلے جائیں گے''۔ جام زندگی۔ شمیم عارف قریشی نے بھی پیا اور رخصت ہوگئے۔ ان کی شاعری اور گفتگو دونوں میں ہمیشہ صوفی بولا وہ ہمارے عہد کے زندہ ملامتی صوفی تھے۔ لوگ کیا کہتے ہیں کبھی پرواہ نہیں کی ہاں خود جو کہنا ہوتا ہے کسی خوف کے بنا دھڑلے سے کہہ دیتے۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سرائیکی وسیب کی دو نسلوں کو اپنے افکار سے متاثر کیا۔ اب ان سا کون ہے؟ اس سوال کے جواب میں فقیر راحموں نے رفعت عباس اور اکرم میرانی کا نام لیا تو بے ساختہ ان کی صحت و سلامتی کے لئے دست دعا بلند ہوتے چلے گئے۔

ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ قبل جب ان کے سانحہ ارتحال کی غم ناک خبر ملی تب سے اب تک ان کے پڑائو اٹھا جانے پر یقین ہی نہیں آرہا ۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگلے ایک دو ہفتوں میں جب ملتان جائوں گا تو کوئی نہ کوئی دوست مجھے ان کا پیغام دے گا۔ وہ فلاں کالم بہت سخت تھا اس کی ضرورت کیا تھی اور یہ کہ جانے سے پہلے ملنا ضرور۔

فقیر راحموں کاکہنا ہے کہ یادوں کی اوڑھنی اتارو اور زندگی کی سچائی کا سامنا کرو۔ مرشدی شمیم عارف قریشی ہمارے درمیان نہیں رہے' بجا وہ وسیب زادوں کے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی دانش شاعری' لکھتیں اور وسیب کے لئے درد ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کے دوستوں' پیاروں اور شاگردوں کے ساتھ محبین کا دکھ یہ ہے کہ وسیب اور سرائیکی علم و ادب کو ابھی ان کی ضرورت تھی۔ سفر حیات تمام ہونے پر ان جہان رنگ و بو سے جو بھی رخصت ہوا اس کے بچھڑنے کا ملال اس کے پیاروں کو ہوا۔ شمیم عارف قریشی ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کے سانحہ ارتحال کو سرائیکی وسیب کے ہر شخص نے اپنا ذاتی دکھ سمجھا۔ دوست نواز' وسیع المطالعہ' ادب اور صوفی شمیم عارف قریشی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو کہ ہر وسیب زادہ دوسرے سے تعزیت کر رہا ہے۔ جس کے جو بس میں ہے اس نے اسی کو دکھ کا اظہار کا ذریعہ بنایا۔ سرائیکی وسیب کی دانش کی ایک انمول شناخت کاسفر تمام ہوا' زندگی اسی کا نام ہے۔ ایک وقت مقررہ ہے جو ٹلائے نہیں ٹلتا۔ یہاں ہمیشہ کون رہا اور رہے گا بس نام خدا اور درود سرکار احمد مرسلۖ کے۔ حسین بن منصور حلاج نے کہا تھا'' فن بقا کی ضمانت ہے لیکن میرے قتل کے درپے ہر کارے اور فتویٰ باز کیا سمجھیں گے''۔ شمیم عارف قریشی حلاج سے سرمد اور سچل سے خواجہ فرید تک صوفیا کے دونوں طبقوں کے عاشق صادق تھے۔ وہ رخصت ہوئے جو رہ گئے سب وقت مقررہ پر رخصت ہوں گے یہی حقیقت ہے۔

متعلقہ خبریں