Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں : سیدنا عمر فاروق کی زبان سے جب بھی کوئی جملہ نکلتا کہ میرا گمان اس طرح ہے تو وہ گمان سچ ثابت ہو جاتا۔ آپ کے دور خلافت کا واقعہ ہے کہ غیر معمولی شکل و شباہت کا آدمی آپ کے قریب سے گزرا۔ سیدنا عمر نے اسے دیکھ کر فرمایا: میرے خیال میں یہ شخص دور جاہلیت میں کاہن تھا۔ اسے میرے پاس لائو۔ جب اسے سیدنا عمر کے پاس لایاگیا تو آپ نے اس سے اپنے خیال کی تصدیق چاہی۔ وہ کہنے لگے: میں نے آج تک ایسا کوئی معاملہ نہیں دیکھا جو کسی کو پیش آیا ہو( یہ کہہ کر اس نے بات چھپا لی ' واضح نہیں کی)سیدنا عمر نے اس سے کہا: مجھے صحیح صحیح بات بتائو۔ وہ کہنے لگا: میں زمانہ جاہلیت میں کاہن تھا۔ سیدنا عمر نے کہا: ہمیں کوئی عجیب اور انوکھی بات بتائو جس کی خبر تمہیں تمہارے جن نے دی ہو۔ وہ کہنے لگا: میں ایک دن بازار میں جا رہا تھا کہ میرا موکل جن گھبرایا ہوا میرے پاس آیا۔ اس نے کہا: آپ کو خبر ہے کہ جنات ایک انقلاب آنے کے بعد نہایت خوفزدہ اور نا امید ہوگئے ہیں اور اپنا رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ سیدنا عمر نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا:یہ سچ کہتا ہے۔ ایک دفعہ میں ان بتوں کے پاس سویا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا۔ اس نے بتوں کے نام پر وہاں ایک بچھڑا ذبح کیا۔ پھر ایک چیخنے والے نے زور سے چیخ ماری۔ اس قدر بلند تھی کہ اس سے بلند چیخ میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ وہ کہنے لگا: ہائے ہم مارے گئے۔ ایک صائب الرائے اور فصیح شخص آگیا ہے جو کلمہ توحید کا اعلان کرتا ہے۔ سیدنا عمر کہتے ہیں:میں وہاں سے چل دیا۔ تھوڑے عرصے بعد ہم نے سنا کہ ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو کلمہ توحید کا اعلان کرتا ہے''۔ (صحیح البخاری' حدیث3866: )

سیدنا عمر کے دور میں ہونے والے معرکہ نہاوند کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ اس جنگ میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اور اس میں کسریٰ کے انتہائی قیمتی جواہرات سے بھرے دو ٹوکرے بھی شامل تھے۔ یہ ٹوکرے حضرت حذیفہ بن ایمان نے سائب بن اقرع کو دے کر سیدنا عمر کی خدمت میں روانہ کردئیے۔ جب یہ جواہرات سیدنا عمر کی خدمت میں پیش کئے گئے تو انہوں نے فرمایا: انہیں بیت المال میں جمع کرا دو اور فوراً واپس چلے جائو۔ سائب نے ایسا ہی کیا اور واپس چل دئیے۔ ان کے جانے کے چند روز بعد سیدنا عمر نے سائب کو واپس بلانے کے لئے ان کے پیچھے ایک آدمی روانہ کیا۔ وہ سائب سے کوفہ میں جا ملا۔ وہ انہیں ساتھ لے کر واپس آیا اور سیدنا عمر کے سامنے پیش کردیا۔ سیدنا عمر نے سائب کو دیکھا تو فرمایا:سائب! بات یہ ہے کہ تمہارے جانے کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ فرشتے مجھے ٹوکروں کی طرف کھینچ کر لا رہے ہیں اور دونوں ٹوکرے آگ بن کر بھڑک رہے ہیں۔ وہ مجھے ان جواہرات کو فوراً تقسیم نہ کرنے کی پاداش میں آگے سے داغنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ یہ ٹوکرے تم لے جائو اور مسلمانوں کو دئیے جانے والے وظائف میں خرچ کردو۔ اس مقصد کے لئے انہیں کوفہ میں فروخت کردینا۔

(سیدنا عمر فاروق کی زندگی کے سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں