Daily Mashriq

خواتین کے حقوق کا معاملہ

خواتین کے حقوق کا معاملہ

پارلیمانی ویمن کا کس سے خطاب میں وزیراطلاعات کا اسلام نے خواتین کو بے مثال حقوق دینے کا خطاب اپنی جگہ درست ہے ہمارے پارلیمان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے نت نئی قانون سازی ہوتی ہے لیکن یہ تسلیم کرنے اور اس پر عقیدہ رکھنے کے باوجود کہ اسلام ہی خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے کوئی خاتون رکن پارلیمنٹ ایوان میں اٹھ کر یہ نہیں کہتی کہ خواتین کیلئے مزید قانون سازی کی ضرورت نہیں بس جو حقوق اسلام نے ان کودیئے ہیں اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کے حوالے سے خواہ کتنی بھی قانون سازی کیوںنہ ہو کتنا بھی جتن کیا جائے بہتر ی آنا ممکن نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کے حقوق پرسیمینار اور اس پر بات کرنے کورسم بنادیا گیا ہے اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں یہی وجہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ بھی خواتین کی شکایات اور مشکلات میں تبدیلی نہیں آتی۔خواتین ارکان پارلیمان کو چاہیئے کہ وہ خواتین کے حوالے سے قانون سازی پر زور دینے سے زیادہ مروج قوانین پر عملدرآمد اور ان کو مئوثر بنانے پر توجہ دیں۔خواتین کو حقوق دینے کے حوالے سے جس سمت میںاقدامات کی ضرورت ہے وہ نظر نہیں آتے۔ ہمارے تئیں خواتین کو حقوق دینے کیلئے قانون سازی سے زیادہ مردوں کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے ایک ایسی معاشرتی تبدیلی جس میں خواتین کے حقوق اور اُن کی اہمیت وعزت واحترام یقینی ہو۔ قانون سازی سے معاشرتی تبدیلی نہیں آتی بلکہ معاشرتی تبدیلی گھر سے لیکر تعلیمی اداروں تک بہتر تعلیم وتربیت ہی سے ممکن ہے ۔

پولیس کا سائل کو سنگ ریزہ بنانے کی ریت

کھیلوں کی دنیا کی ایک شخصیت کی جیب کٹنے پر تھانہ میں رپورٹ کرتے ہوئے ان کو جس طرح ایک تھانے سے دوسرے تھانے اور دوسرے سے تیسرے تھانے کا چکر لگوایا گیا یہی ہماری پولیس کا معمول ہے مذکورہ شخص کو تھانہ گلبہار سے پشتخرہ تھانہ پھر یکہ توت اور بالآخر گلبہار پولیس سٹیشن میں جیب کٹنے کی ایف آئی آر کا اندراج خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات اور تبدیل شدہ پولیس کے دعوئوں کی سراسرنفی ہے معلوم نہیں رپورٹ کا اندراج پولیس نے پینسٹھ ہزار روپے سے محروم ہونے والے شخص پر ترس کھا کر کیا یا پھر اس کیلئے بھی رشوت دینے یا پھرسفارش کرانے کی ضرورت پڑی ہوگی۔سوال یہ ہے کہ آخر ہماری پولیس کب اپنی ذمہ داریوں اور اپنی حدود وفرائض کو سمجھے گی اور کب لوگوں سے ہمدردی اور ان کے مسائل کے حل کے قابل ہوگی۔تھانے اور ہسپتال سے رجوع کرنے والا شخص انتہائی مجبور اور ضرور تمند ہوتا ہے جن کو ہمدردی سے سننے اور مسئلہ حل کرنے کی سعی کی ضرورت ہوتی ہے کجا کہ اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دھتکارا جائے۔اس واقعے میں متاثرہ شخص کو محروم ہونے والی رقم کی واپسی مشکل ہی سے ممکن ہوگی لیکن ستم رسیدہ شخص سے تین تین تھانوں کی پولیس نے جو نارواسلوک روارکھا اور ایف آئی آر کے اندراج سے گریز کرتی رہی اس کی تحقیقات اور متعلقہ عملہ کی معطلی اور سزا تو ممکن ہے۔آئی جی کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیئے اور اس قسم کے بار بار سامنے آنے والے مسائل کا کوئی مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے پولیس کو حدود کے تنازعے میں پڑنے کی بجائے متاثرہ شخص جس تھانے سے بھی رجوع کرے اس کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیئے اس ضمن میں قانونی پیچیدگیوں اور ضابطوں کو آسان بنایا جائے تاکہ فریاد لیکر تھانے جانے والے شخص کو جوتے میں آنے والا سنگ ریزہ نہ بنادیا جائے۔

غیر قانونی نمبر پلیٹوں کے خلاف مہم،احسن اقدام

ٹریفک پولیس کی جانب سے موٹر سائیکلوں پر بعض محکموں کے نمبر پلیٹ لگانے اور خاص طور پر پریس اور عدلیہ کے نام کی نمبر پلیٹس لگانے والوں کے خلاف مہم احسن اور قابل تعریف اقدام اس لئے بھی ہے کہ اس کی آڑ میں بعض افراد نمبرپلیٹ نہیں لگاتے جبکہ بعض افراد ان موٹر سائیکلوں کوغیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہیں جس میں سمگلنگ اور منشیات فروشی سر فہرست ہے اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی ایک غیر قانونی قدم ہے جس کی قانون میں گنجائش نہیں۔قانون کی نظر میں جج ،جرنلسٹ اور جرنیل جب تک برابر نہیں سمجھے جائیں گے اور بااثرو لاچار شخص سے اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق سلوک نہیں کیا جائے گا معاشرے میں قانون کا احترام کبھی نہیں آئے گا۔اس مہم کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اس میں مزید سختی لاکر آئندہ اس قسم کی حرکت کے مرتکب شخص کی موٹر سائیکل اس وقت تک تھانے میں بند رکھی جائے جب تک باقاعدہ رجسٹریشن نمبر حاصل نہیں کرلیتا۔رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ کے بغیر گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھی اس قسم کی مہم کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں