Daily Mashriq

عالمی دن منانے کا سلسلہ

عالمی دن منانے کا سلسلہ

ہر روز صبح سویرے ہوا کے دوش پر بہت سے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں ایسی ایسی دعائیں دی جاتی ہیں کہ انہیں پڑھ کر بے تحاشہ ہنسی آتی ہے لیکن دوستوں نے پیغامات کا جو پیکج کروایا ہوتا ہے اسے ختم بھی تو کرنا ہوتا ہے اس لیے دھڑا دھڑ پیغامات کیے جاتے ہیں ایک مرتبہ ایک بہت ہی جذباتی قسم کا پیغام موصول ہوا یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہر پیغام کو حقیقت کے بہت ہی قریب سمجھا جاتا تھا اپنے رازداں کو وہ پیغام بتایا اور ساتھ ہی جذباتی قسم کا ایک عدد تبصرہ بھی کردیا۔ ہمارے دوست ہماری بات سن کر بہت ہنسے اور کہنے لگے جناب عالی یہ پیغام صرف آپ کو نہیں بھیجا گیا نجانے کتنے لوگوں کو یہ پیغام بھیجا گیا ہوگا یہ تو سیل فون کمپنیوں کے شاخسانے ہیں وہ نت نئے پیغامات بنا کر بھجواتے رہتے ہیں اور عوام الناس کو تو ایک مشغلہ چاہیے اب سب کے ہاتھ میں سیل فون ہے اور پیغامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ ہم نے بڑی بڑی تقریبات میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو سیل فون کے ساتھ کھیلتے دیکھا ہے۔ہمارے ہاں جب بھی کوئی نئی چیز متعارف ہوتی ہے تو ہم اس کا کباڑا نکال کر رکھ دیتے ہیں ہمیں یاد ہے جب افغانستان میں روس نے قدم رکھا تھا اور لاکھوں کی تعداد میں ہمارے افغان بھائی سرحد پار کرکے ہمارے پاس پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے تو پشاور کے گلی کوچوں میں جگہ جگہ سنوکر کلب کھل گئے تھے اب آٹھ سال کے بچے سے لیکر ساٹھ سال کے مرد بزرگ تک جس کے ہاتھ میں دیکھئے سنوکر سٹک نظر آنے لگی بچے سکول سے بھاگ کر سنوکر کلب پہنچ جاتے اسی طرح ویڈیو گیمز کا سلسلہ شروع ہوا تو موقع شناسوں نے دکانیں کرایے پر لے کر ان میں ویڈیو گیمز کا کاروبار شروع کر دیا ۔ ساتھ ہی ایک بڑا سا کپڑا لٹکا دیتے تاکہ سکول سے بھاگے ہوئے بچے سکون و اطمینان کے ساتھ کسی کی نظروں میں آئے بغیر کھیل سکیں۔آج کل عالمی دن منانے کی وبا بہت عام ہوچکی ہے آئے دن کسی نہ کسی حوالے سے کوئی نہ کوئی عالمی دن منایا جاتا ہے۔ چند دن پہلے شاعری کا عالمی دن منایا گیا ہمیں بھی اس حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کرنے کا اتفاق ہوا ۔وہاں مزے مزے کی باتیں ہوئیں۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ جناب سب سے پہلا غم جس سے حضرت انسان کو واسطہ پڑا وہ بابا آدم کا غم تھا جب ان کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا تو بابا آدم کا صدمہ ناقابل برداشت تھا انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار نثر میں نہیں بلکہ شاعری میں کیا۔ بس صاحب اس بات پر گرما گرم بحث کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا مزے مزے کے دلائل دیے گئے ہماری معلومات میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہوا۔درمیان میں ایک صاحب بڑے جذباتی انداز سے کہنے لگے کہ جناب یہ آج کل جو عالمی دن منائے جارہے ہیں یہ بھی بے وجہ نہیں ہے ضرور دال میں کچھ کالا ہے لوگوں کی توجہ بٹانے کی کوششیں ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ۔ بے خودی بے سبب نہیں غالب ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔پہلے ویلنٹائن ڈے کون مناتا تھا اب تو جب یہ دن منایا جاتا ہے تو پھول بیچنے والوں کی خوب چاندی ہوتی ہے وہ چند دن پہلے ہی بہت سے پھول ذخیرہ کر لیتے ہیں اور پھر جب ویلنٹائن ڈے آتا ہے تو ان کے پاس موجود پھولوں کا ذخیرہ اچھے خاصے داموں میں بک جاتا ہے۔ایک صاحب کہنے لگے بھائی اس میں برائی کیا ہے مہنگائی کے ناقابل برداشت بوجھ تلے عوام اگر اپنے پیاروں اور چاہنے والوں کو پھولوں کا تحفہ دے ہی دیتے ہیں تو آخر اس میں کیا قباحت ہے۔ویلنٹائن ڈے کے ایک مخالف کہنے لگے جناب ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے کہ اس دن لوگ اپنے پیاروں کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں ہمیں تو یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ یورپ والے ہمیں کیا محبت کا درس دیں گے وہاں تو وہ اپنے والدین کو اولڈ ہائوسز میں داخل کر دیتے ہیں ۔ وہ بیچارے اپنی آخری عمر اپنے بچوں کے انتظار میں ہی سسک سسک کر گزار دیتے ہیں انہیں اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ انہیں ایک عدد کارڈ یا خط ہی لکھ دیں۔ہم مشرقی لوگ ان سے بہتر اقدار کے امین ہیں ہماری محبت نمائشی نہیں ہوتی ۔کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ یہاں لوگ سالہا سال تک اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال اور تیمارداری کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ہم اپنی رائے بھی دینا چاہتے تھے لیکن نجانے کیوں بڑے بڑے دانش وروں کی موجودگی میں ہمیں زبان کھولنے کی ہمت نہیں ہوتی پھر بھی ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ جناب یہ ساری تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ ہوتی رہتی ہیں یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اب اسے آپ نا گزیر ہی سمجھئے ۔ آج کل جو عالمی دن منانے کا سلسلہ چل نکلا ہے تو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے لوگ اپنے مسائل کو بھول جاتے ہیں۔ ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تو بعض سکولوں میں بچوں کو چھوٹے چھوٹے خوبصورت کارڈز پر مائوں کے لیے عقیدت بھرے جملے لکھ کر دیے جاتے ہیں تاکہ وہ گھر جا کر اپنی والدہ کی خدمت میں پیش کر یں۔ اور پھر ماں باپ کا شکر تو ویسے بھی ادا کرتے رہنا چاہیے جو بندہ انسان کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اپنے رب کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔بات چلی تھی سیل فون کے زریعے بھیجے جانے والے پیغامات سے بعض پیغامات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کو پڑھ کر علم میں اچھا خاصہ اضافہ ہوجاتا ہے اور بندہ اچھی اچھی باتیں سیکھ سکتا ہے! ۔

متعلقہ خبریں