Daily Mashriq

اب کسے رہنماء کرے کوئی

اب کسے رہنماء کرے کوئی

عالمی ضمیر سورہا ہے،انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’جینوسائیڈواچ‘‘ نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے مسلسل محاصرے کے تناظر میں مقبوضہ علاقے میں نسل کشی سے متعلق الرٹ جاری کردیا ہے اور اقوام متحدہ پرزور دیا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکے،جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں امن فوج بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاشسٹ مودی کی ذہنیت نازی جرمنی جیسی ہے،مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ہے، حملہ ہوا تو جواب پر مجبور ہوں گے۔اس صورتحال پر اگر میں نے عالمی ضمیر کو سویا ہو اقرار دیا ہے تو کیا غلط کیا؟ کیونکہ دنیا کھلی آنکھوں سے سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہے، لیکن لب کشائی نہیں کررہی،وہ اسرائیل جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے حکمران ہٹلر کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام کے واقعے ’’ہولو کاسٹ‘‘ پر آج تک ماتم کناں ہے اور مبینہ طور پر یہودیوں کے خلاف ہٹلر کے رویئے پر پوری دنیا کو مجبور کر چکا ہے کہ وہ یہودیوں کی اس نسل کشی کی مزمت کریں،جبکہ اس ہولو کاسٹ کے خلاف کہیں سے بھی مخالفانہ آواز اٹھتی ہے تو پوری مغربی دنیا اس کو دبانے کیلئے یہودیوں کی ہمنوا بن جاتی ہے،وہی اسرائیل اب بھارت کو کشمیری مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا حربہ استعمال کرنے کے طریقے سکھا رہا ہے،مودی تو ویسے بھی گجرات کا قصائی کے نام سے عالمی شہرت کا حامل ہے مگر اب وہ ہٹلر کے نقش قدم پر چلنے کی تیاری کررہا ہے اور گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے اس نے مقبوضہ وادی کشمیر کو مکمل لاک ڈائون کر رکھا ہے ،کشمیریوں کا باقی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر ختم کیا جا چکا ہے اور آر ایس ایس کے غنڈوں کو کثیر تعداد میں بھیج کر کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کا مکمل اہتمام کیا جا سکتا ہے اس لیئے امریکی این جی او’’جینو سائیڈ واچ‘‘نے جو دنیا بھر کے تنازعات والے علاقوں پر گہری نگاہ رکھتی ہے ،نسل کشی کا الرٹ جاری کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کا ہندوتوا کانظریہ ،کشمیر میں بھارتی جابرانہ فوجی آمریت،علاقے میں مواصلات کے ذرائع کی معطلی،بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں،تشدد،خواتین کی آبروریزی اوربلا جواز بے انتہا پکڑ دھکڑ کشمیریوں کی نسل کشی کی طرف اشارہ ہیں،جینو سائیڈ واچ نے الرٹ میں کشمیریوں کی متوقع نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکیں ،تاہم عالمی برادری کے کانوں پر کسی جوں کے رینگنے کے آثار تک نہیں دکھائی دیتے،کیونکہ آج کی دنیا مفادات کی اسیر ہوچکی ہے،بقول ناز مظفر آبادی

میں ڈوبنے کا گلہ ناخداسے کیا کرتا

کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی نائو میں

مغربی اقوام سے کیا شکوہ اور کیا شکایت ،خود مسلمانوں کی تنظیم او آئی سی نے اب تک کونسا ایسا قدم اٹھالیا ہے جس سے بھارت پر دبائو پڑتا،کیونکہ حالات نے اس تنظیم کو بھی’’کاغذی شیر‘‘ میں تبدیل کر رکھا ہے جس کے جبڑے بیکار ہوچکے ہیں،اور جہاں تک طاقتور مسلمان ممالک کا تعلق ہے تو ان کے اقتصادی اور تجارتی مفادات بھارت سے وابستہ ہوچکے ہیں اس لیئے انہوں نے بھی اپنی آنکھوں پر مفادات کی پٹیاں چڑھا رکھی ہیں،اس لیئے ان سے کوئی توقع رکھنا ہی فضول ہے ،ویسے انتہائی معذرت کے ساتھ گزارش کرنا پڑتی ہے کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات،خود کشمیریوں نے صرف زبانی کلامی جمع خرچ کے اپنی آزادی کیلئے کیا کیا ہے؟ جو تھوڑی بہت جدوجہد نوجوانوں نے شروع کی اس کی مقبوضہ وادی کے مسلمان رہنمائوں کی جانب سے کتنی پذیرائی کی جاتی رہی ہے،وہاں کی کشمیری قیادت تو اب تک بھارت کے’’زیرسایہ‘‘ رہنے کو ہی ترجیح دیتے کٹھ پتلی اسمبلی کی رکنیت پر خوش تھی،بھارت کی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مقبوضہ وادی کی نمائندگی کو ہی اپنے لیئے اطمینان کا باعث گردانتی رہی ہے اور بالآخر72سال کی بھارت کے ساتھ خود کو نتھی رکھنے کی غلطی کو تسلیم کر کے دو قومی نظریئے کی حقیقت سمجھنے پر آمادہ ہوگئی ہے اگر شیخ عبداللہ،بخشی غلام محمد اور دیگر کشمیری رہنماء پنڈت جواہر لعل نہرو کی چکنی چپڑی باتوں اور منافقانہ وعدوںکے جھانسے میں نہ آتے اور اس وقت ہی سے آزادی کی تحریک کو حرز جاں بنا لیتے تو انہیں کب کی آزادی مل چکی ہوتی۔

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا؟

ویت نام کی جنگ یاد آرہی ہے،امریکہ نے ویت نام پر جنگ مسلط کر کے وہاں نیپام بم برسائے ،ویت نامیوں کا قتل عام کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے تو برطانیہ کے عظیم فلاسفر برٹرینڈ رسل نے فرانس کے عظیم فرزند اور عالمی مدبرژان پال سارترے کے ساتھ مل کر امریکہ کے جنگی جرائم کے خلاف ایک عالمی ٹریبونل بنایا،جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والوں کو شامل کیا،پاکستان سے اس ٹریبونل میں میاں محمود علی قصوری کو نامزد کیا گیا،جو اعلیٰ پائے کے وکیل اور بائیں بازو کے اہم سیاسی رہنماء تھے،امریکہ نے ٹرینڈرسل اور سارترے کو بار بار دھمکیاں دیں مگر انہوں نے ان دھمکیوں کوپرکاہ کے برابر اہمیت نہ دیتے ہوئے ویت نام میں امریکی جنگی جرائم کی نہ صرف تحقیق جاری رکھی بلکہ امریکہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے مقدمہ بھی قائم کر کے اس پر فرد جرم عائد کردیا تھا،اسی کے دبائو اور کچھ امریکی رائے عامہ کی مزاحمت کی وجہ سے امریکہ کو ویت نام سے اپنی افواج واپس بلانے کا فیصلہ کرنا پڑا تھا۔اگر گجرات میں مودی کے بطور وزیراعلیٰ مسلمانوں کے قتل عام کا نوٹس لیکر کوئی عالمی مدیر اس کے خلاف مسلم جینوسائیڈ کے الزام میں مقدمہ قائم کرتا تو آج اسے گجرات کے قصائی سے آگے جا کر کشمیر کے ہٹلر کا ٹائٹل حاصل کرنے کی جرأت نہ ہوتی،مگر ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے ،یعنی اب برٹرنیڈرسل اور ژاں پال سارترے جیسے لوگوں نے جنم لینا بند کردیا ہے ،اس لیئے بقول مرزا غالب

کیا کیا خضر نے سکندر سے

اب کسے رہنماء کرے کوئی

متعلقہ خبریں