Daily Mashriq

کشمیرہماری شہ رگ

کشمیرہماری شہ رگ

کشمیر کے لئے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں سیکیورٹی کونسل میں کھل کر بات ہوچکی ہے اور اقوام متحدہ کو نوٹس مل چکاہے ہمارے حکومتی اہلکار اپنے دوست ملکوں کے مدد کیلئے پکار رہے ہیں اور او آئی سی نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ہوگا وہی جو کشمیر کے عوام چاہتے ہیں اور ہمیں قوی امید ہے کہ وہ پاکستان کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہیں۔ ہماری آزادی کو ستر برس سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے بھی سات دہائیاں گزر چکی ہیںآزادی کسی کسی کی قسمت میں ہوتی ہے، یہ بلاشبہ اتنی خوشی کا دن ہے کہ اگر پوری ایک سو عیدیں بھی جمع کردی جائیں تو بھی اس دن کی خوشی کم نہ ہوگی، پاکستان نے ان سالوں میں کیا کھویا کیا پایا اس کا حساب بھی کرلیتے ہیں ، آزادی جن نامساعد حالات میں ملی وہ دکھ برے مناظر یاد تو تب آئیں کہ جب ہم انہیں بھول پائیں، وہ زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے، ابھی ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہونے بھی نہ پائے تھے کہ1971میں ہمارے دو ٹکڑے کردیئے گئے اور پھرگزشتہ دنوں کشمیر پر شب خون ماراگیا اوراب 370اور 35اے کو ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا گیا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیروں کو پوچھا تک نہیں گیا۔ پاکستان کے عوامی نمائندوں نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد منظور کی اور حکومت نے اس دفعہ یوم آزادی کو کشمیر سے یکجہتی کے طور پر منایا۔ اس موقع پر جہاں ہم نے آزادی کا جشن منایا وہاں اپنے پیارے وطن کے بانی بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی بھر پور خراج عقیدت پیش کیاکہ جنہوں نے ہمارے اوپر یہ احسان عظیم کیا ،ان کے مشن ایمان اتحاد اورتنظیم پر پورا عمل کرنے کے لئے ہر پاکستانی کوشاں ہے، ایک قومی سوچ کو اجاگر کیا جارہا ہے اور بطور خاص کہ ہمارے پیارے وطن کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے خطرات دوچار ہیں۔

پاکستان بنتے وقت بھی نوجوانوں نے لازوال کردار ادا کیا، قائد اعظم کو بھی ان سے بڑی امیدیں تھیں اور آج بھی ہماری نظریں ان نوجوانوں پر ہی ہیں کہ جو اس وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کے لئے اعلیٰ تعلیم اور ہنر حاصل کرکے وطن عزیز کی بے لوث خدمت کریں تاکہ اس قائد اعظم کا عظیم خواب شرمندئہ تعمیر ہوسکے، لہٰذہ ہمارے نوجوان نے بھی اپنے قائد اور اپنے ہم وطنوں کو مایوس نہیں کیا، ہمارے نوجوان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی غیر معمولی ترقی کی ہے، ہمارے نوجوان پوری دنیا کو سافٹ وئیر بنابناکر دے رہے ہیں انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں انویسٹمنٹ کررہی ہیں، یہ انویسٹمنٹ صرف آئی ٹی کے شعبہ میں نہیں بلکہ دیگر کئی شعبوں میں بھی جاری ہے،لیکن اتنی محنت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارا نوجوان کھیل کود سے بے خبر ہوگیا بلکہ ہم نے کھیل کے میدان میں بھی کئی عالمی فتوحات حاصل کیں ان میں متعدد دفعہ ہاکی چیمپئن ٹرافی حاصل کی، کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کی، سکواش کا عالمی اعزاز ہمارے پاس دو دہائیوں سے زیادہ رہا، سنوکرکے میدان میں بھی ہمارے کھلا ڑیوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھے اور عالمی سطح کے اعزازات حاصل کئے ہیں۔

ایٹمی طاقت پاکستان کا بچہ بچہ جہاں پاکستان کی آزادی کا جشن منارہا تھا وہاں کشمیر پرہونے والے ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھائی گئی ۔ اس وقت پوری قوم یکجہت ہے عوام‘ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ ہماری فوج نے دشمن کے ہر ہر غلط قدم پر اس کو سبق سکھایا، وہ چونڈہ کا محاذ ہو یا دنیا کا بلند ترین میدان جنگ کارگل، سیاچن گلیشیئرہمارے فوجی جوان دشمن کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ۔ان ساتھ دہائیوںمیں ہم نے کئی چیلنجوں کا اﷲکے فضل سے بڑی خوش اسلوبی سے سامنا کیا، چند سال پہلے ہی پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے ،ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول کسی عیاشی کے لئے نہیں تھا بلکہ ہمیں اپنی بقا کا مسئلہ درپیش تھا، کیونکہ ہمارا دشمن بھارت ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ایٹمی دھماکے کر کے بڑا اتراکے چل رہا تھا لہٰذہ طاقت کے توازن برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول اور ایٹمی دھماکے کرنے ضروری تھے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری بھی نہ سمجھا جائے اور اگر جنگ ہوئی تو ایٹم بم چلانے کا اس سے اچھا موقع شاید کوئی اور ہو۔کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس پر کسی قسم کا غاصبانہ قبضہ قبول نہیںکریں گے۔