Daily Mashriq

جنگ کا آغاز بھارت نے کیا ہے، ختم ہم کریں گے، صدر آزاد کشمیر

جنگ کا آغاز بھارت نے کیا ہے، ختم ہم کریں گے، صدر آزاد کشمیر

آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا کہنا ہے کہ اس وقت خطہ جنگ کے دہانے پر ہے، جنگ کا آغاز بھارت نے کیا ہے لیکن اسے ہم ختم کریں گے کیونکہ یہ صدیوں کی جنگ ہے۔

اسلام آباد میں سول سوسائٹی کی جانب سے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔

ریلی میں بشپ ندیم کامران کی قیادت میں مسیحی برداری کے وفد، سردار پرتاب سکھ کی سربراہی میں سکھ برادری کے وفد اور پاکستان کے معروف اداکار شان شاہد سمیت معروف ملکی و غیر ملکی فنکاروں نے شرکت کی۔

کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں سے ان کا حق چھین لیا اور کشمیریوں سے پوچھے بغیر ان کی ریاست کے 2 حصے کردیے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر پر ایک نیا حملہ کیا، جس سے پہلے ایک لاکھ 80 ہزار تازہ دستے، بارود و اسلحہ بھیجا جبکہ پہلے سے 7 لاکھ فوجی کشمیر میں موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے نہتے کشمیریوں پر حملہ کیا جبکہ سری نگر، کارگل، جموں کے 5 اضلاع کے عوام کے پاس کوئی اسلحہ، کوئی توپ خانہ نہیں ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو چیلنج کیا ہے کہ پورے بھارت سے ہندوؤں کو یہاں لا کر آباد کریں گے اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیں گے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ مسلح ہونے کے باوجود بھارت میں ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کی جرات نہیں تھی، لہٰذا اُس نے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کیا اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا۔

ریلی سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یہ انتہا پسندانہ اقدام اٹھا کر کشمیریوں اور پاکستان کی غیرت، اُمت مسلمہ اور عالمی برادری کو للکارا ہے، اس کا جواب ہم ضرور دیں گے کیونکہ یہ ہمارا تاریخ کے ساتھ عہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں مقبوضہ کشمیر کے عوام سے زیادہ بہادر قوم کوئی نہیں ہے، یہ دنیا کی سب سے غیر مسلح ترین قوم ہے، یہ دنیا کہ واحد مثال ہے کہ ایک طرف نہتے لوگ ہیں اور دوسری طرف ایک ایسی فوج جس کا نصف سے زائد حصہ مقبوضہ کشمیر میں متعین ہے۔

سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ میں بین الاقوامی برداری سے سوال کرتا ہوں کہ کیا دنیا میں قانون کی حکمرانی نہیں کہ ایک فاشسٹ حکومت اٹھتی ہے اور بھارت میں ہندو انتہا پسندی کی لہر پر سوار ایک آبادی کو نوآبادی بناتی ہے، ساتھ ہی یہ کہتی ہے کہ ہم تم سے سکونت، ملازمت، تعلیم، ملکیت کے تمام حقوق چھین لیں گے جبکہ دنیا اس پر خاموش ہے۔

آزاد کشمیر کے صدر نے کہا کہ دنیا کو علم ہونا چاہیے کہ گزشتہ صدی میں جب وہ ہٹلر اور مسولینی کے مظالم پر خاموش تھی تو اس کا نتیجہ کیا ہوا، لاکھوں، کروڑوں یہودی گیس چیمبرز میں جلادیے گئے، آج پورا مقبوضہ کشمیر گیس چیمبر بن چکا ہے اور وہاں تشدد کے ذریعے نسل کشی کی جارہی ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کا دہرا معیار ہے کہ جب مالی، سوڈان میں قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوتا تھا تو سلامتی کونسل ہفتے اور اتوار کو ہنگامی اجلاس طلب کرتی تھی لیکن اب وہ کیوں پاکستان کے مراسلے کا انتظار کرتی رہی۔

دوران خطاب انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل نے صرف ایک اجلاس بلایا اور اب خاموش ہے، جنرل اسمبلی، انسانی حقوق کی کونسل سب خاموش ہیں۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ 5 اگست سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کے آپریشن میں روزانہ درجن بھر نوجوانوں کو ماردیا جاتا تھا جبکہ اب پورے مقبوضہ کشمیر کو محاصرے میں لے لیا گیا۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ عالمی برادری کے ذرائع ابلاغ نے اخلاقی اقدار کے قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیریوں کی حمایت کی لیکن اُن کی حکومتیں خاموش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان اور کشمیریوں کے اوپر 5 جنگیں مسلط کی ہوئی ہیں، ایک جنگ مقبوضہ کشمیر میں، دوسری جنگ لائن آف کنٹرول کے اِس پار آزاد کشمیر کے شہریوں پر مسلط ہے جو بھارت کی جارحانہ فائرنگ کی زد میں ہیں، تیسری جنگ درپردہ پاکستان کے خلاف چھیڑی ہے جس کے ذریعے وہ علیحدگی پسند اور دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتا ہے جبکہ بھارت نے جوہری جنگ کا بھی کہہ دیا ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر کا کہنا تھا کہ فروری میں نریندر مودی نے جبکہ اب راج ناتھ سنگھ نے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ راج ناتھ سنگھ نے آزاد کشمیر کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تو ہم صرف آزاد کشمیر پر بات کریں گے، تاہم میں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دوبارہ جرات کی تو ایک مرتبہ پھر فوجیوں کا قبرستان بنایا جائے گا۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ اس وقت خطہ جنگ کے دہانے پر ہے، اس جنگ کا آغاز بھارت نے کیا اور اسے ہم ختم کریں گے۔

آزاد کشمیر کے صدر نے کہا کہ بھارت نے صدیوں سے جنگ چھیڑی ہے اور سمجھتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر اکھنڈ بھارت بنالے گا، تو میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ 'سن لو کہ یہ حساب ہم ضرور برابر کریں گے لیکن انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا کریں گے'۔

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، امریکی گلوکار

قبل ازیں اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی گلوکار توشے نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام میرے دل میں بستے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کے حقوق پر قبضہ کررہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بربریت بھارت کا سیکولر چہرہ بے نقاب کر رہی ہے۔

امریکی گلوکار نے کہا کہ بھارت میں بھی مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر آئینی اقدامات کی مخالفت کی جارہی ہے، لہٰذا عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لینا ہوگا

ریلی سے خطاب کے بعد امریکی گلوکار توشے نے پاکستانی نغمہ ’ دل دل پاکستان‘ گا کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

جب بھی ضرورت پڑی سب سے پہلے بارڈر پر پہنچیں گے، سردار پرتاب سنگھ

ریلی میں شرکا سے خطاب میں سکھ برادری کے رہنما سردار پرتاب سنگھ نے کہا کہ میں سکھ برادری کی جانب سے 18 روز سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کی سخت مذمت کرتا ہوں اور صدر آزاد کشمیر کو یقین دلاتا ہوں کہ سکھ برادری کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گولڈن ٹیمپل سے کشمیریوں پر جاری ظلم و ستم بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سردار پرتاب سنگھ نے کہا کہ دنیا بھر میں موجود سکھ برادری کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور مرتے دم ساتھ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں کہ جب بھی ضرورت پڑی سکھ سب سے پہلے بارڈر پر پہنچیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی اقتدار کے نشے میں ہے، اسے یہ نہیں پتہ کہ بھارت میں سکھ بڑی تعداد میں موجود ہیں اور سکھ قوم جب اٹھتی ہے تو بڑے بڑے بھاگ جاتے ہیں۔

سردار پرتاب سنگھ نے کہا کہ مودی جس کرسی پر بیٹھے ہیں وہ سکھ قوم نے انہیں بھیک میں دی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کبھی بابری مسجد پر تو کبھی گولڈن ٹیمپل پر حملہ کرتے ہیں، مودی سرکار کشمیریوں کے خلاف ظلم و ستم بند کرے۔

سکھ رہنما نے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کے خلاف مظالم بند کروائے، مقبوضہ کشمیر میں بچے اسکول اور کالج نہیں جاپا رہے، آج نہیں تو کل مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت سے خالصتان بھی لیں گے۔

مودی سرکار ہمارے صبر کا امتحان نہ لے، بشپ ندیم کامران

علاوہ ازیں مسیحی برادری کے رہنما بشپ ندیم کامران نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ریلی کا انعقاد اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ہم کشمیری بھائیوں کے دکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بشپ ندیم کامران نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے برصغیر کی تحریکِ آزادی کے دوران ہی محسوس کرلیا تھا ہم ان کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور انہوں نے پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بشپ ندیم کامران نے کہا کہ بھارت میں کشمیریوں پر ظلم ہورہا ہے، انہیں زندہ جلایا جارہا ہے، ان کی عصمتیں لٹ رہی ہیں یہ ظلم کی انتہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آج پوری قوم، اپنے وزیراعظم ، آرمی چیف اور ہر سپاہی کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سلامتی اور بقا کے لیے صرف دعا نہیں کرتے بلکہ ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، ہماری ہر سانس، لہو کا ہر قطرہ کشمیر کی آزادی کے لیے دینے کو تیار ہیں۔

بشپ ندیم کامران نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں آپ اکیلے نہیں ہیں بلکہ پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کا ذکر صرف اس ملک کے ایوانوں میں نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک شہر، گلی، محلے اور گھر میں بھی ہوتا ہے۔

شرکا سے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ صرف ایک ڈائیلاگ نہیں، ایک حقیقت ہے اور ہم کشمیریوں پر ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔

بشپ ندیم کامران نے کہا کہ دنیا دیکھے کہ کس طرح بھارت کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے، ان کی آواز بند کرنے میں کوشاں ہے، الیکڑانک، سوشل میڈیا سب بلاک کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر وہ انسان جو آزادی کی تڑپ رکھتا ہے، جو سچائی کا ساتھ دینا چاہتا ہے کیا بھارت اس کی آواز بند کرسکے گا، ہرگز نہیں، بھارت ہماری آواز اور کوششوں کو بند نہیں کرسکتا۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے رہنما نے کہا کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لیے آخری سانس تک ان کے ساتھ لڑیں گے کیونکہ یہ جنگ صرف کشمیریوں کی نہیں بلکہ انسانیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بھارت نے ہماری صلاحیت کا تجربہ کیا ہے کہ کس طرح اس نے ہم پر حملہ کیا اور ہم نے اسے جواب دیا، اس نے انسانیت کو بھی دیکھا ہے، ہمارا وہ اقدام پوری دنیا کے سامنے ہے کہ ہم نے ان کے پائلٹ کو عزت اور وقار کے ساتھ واپس کیا۔

بشپ ندیم کامران نے کہا کہ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، امن پسند قوم ہیں اور اپنے خطے سمیت دنیا میں امن چاہتے ہیں، جو بھی آواز امن کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گی ہم اسے ختم کردیں گے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی جرات کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر محاذ پر جرات کا مظاہرہ کیا، ہم اپنی فوج، وزیراعظم اور ملک کے ساتھ ہیں اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

بشپ ندیم کامران نے کہا کہ مودی سرکار ہمارے صبر کا امتحان نہ لے، ہم اگر مذاکرات کے ذریعے ان مسئلوں کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم خون کا ایک ایک قطرہ بہانا جانتے ہیں اور ہم گولیوں اور توپوں سے نہیں ڈرتے۔

متعلقہ خبریں