سنگین غفلت ، مرتکبین کو سزا ملنی چاہیئے

سنگین غفلت ، مرتکبین کو سزا ملنی چاہیئے

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور جیسے معروف سرکاری ہسپتال میں زائد المیعاد ڈرپ لگا نے سے بچے کی حالت غیر ہونے کا واقعہ افسوسناک ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے واقع کی تحقیقات کے احکامات اس واقعے پر پردہ ڈالنے ہی کی سعی قرار دی جاسکتی ہے۔ اس انکوائری کے لا حاصل ہونے یا پھر معاملہ رفع دفع کرنے کی حد تک ہونے میں شبہ اس لئے نہیں کہ ہمارے ہاں انکوائری کے نتیجہ خیز ہونے کا رواج ہی نہیں ۔ گزشتہ روز فاٹا میں پولیو ویکسین سے بچوں کی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا اور اس روزمعروف ہسپتال میں زائد المیعاد ڈرپ لگانے کا واقعہ سامنے آیا۔ نجانے غفلت ولا پرواہی کے کتنے واقعات روز ہوئے ہوں گے جو سامنے نہیں آئے ۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غفلت کا جو ارتکاب ہوا ہے اس کی گنجائش کسی دور دراز علاقے کی ڈسپنسری میں بھی نہیں ہوتی ڈاکٹر ڈسپنسر اور نرس کی اولین ذمہ داری مطلوبہ دوائی اور ڈرپ وغیرہ کی ختم المیعاد کی تاریخ چیک کرنے کے بعد ہی استعمال کی ہوتی ہے عموماً زائد المیعاد ادویات کا نہ ہونا اس امر کے لئے کافی نہیں کہ احتیاط کے تقاضے تیاگ کر آنکھیں بند کر کے اس کا استعمال کیا جائے ۔ اس ضمن میں متعلقہ عملے سے غفلت سرزد ہونے کا ارتکاب تو ثابت ہے ساتھ میں ہسپتال کے سٹور کے عملے اور فارمسسٹ بھی اس غفلت میں برابر کے حصہ دار ہیں جنہوں نے زائد المیعاد ڈرپ وارڈ بھجوادی اس سے اس امر کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ ہسپتال کے سٹور میں زائد المیعاد ادویات کو چیک کرنے کا کوئی رواج نہیں بلکہ گھروں کے راشن کی طرح جب ختم ہو دوبارہ منگوالی جاتی ہیں۔ وزیر صحت کو اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور صرف سٹور و وارڈ کے عملے ہی کی نہیں ہسپتال کی پوری انتظامیہ کی مناسب سرزنش ہونی چاہیئے ۔براہ راست غفلت کے مرتکب عملے کو با قاعدہ سزا دی جانی چاہیئے ساتھ ہی تمام سرکاری ہسپتالوں کے سٹور کا معائنہ بھی ہونا چاہیئے تاکہ اس طرح کی زائد المیعاد ادویات کو ضائع کیا جا سکے ۔
خستہ حال سکول ، فوری توجہ کا متقاضی مسئلہ
گورنمنٹ پرائمری مڈل سکول محلہ اسلام آباد کی عمارت کی خستہ حالی محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام کے لئے فوری توجہ کا حامل معاملہ ہے اولاً متعلقہ سرکل کے حکام کو اس کا از خود علم ہونا چاہئے تھا اس کی مرمت وبحالی کے کام پر توجہ دینا ان کا فرض تھا مگر روایتی سستی کے حامل سرکاری عمال سے اس کی توقع عبث ہے ۔ سکول کا دورہ کرنے والے ایک بلدیاتی نمائندے کے بیان کے مطابق سکول کی دیواروں میں دراڑ یں پڑ چکی ہیں۔ متعلقہ حکا م کو کئی مرتبہ آگاہ کیا گیا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ اس طرح کی سنگین غفلت کا ارتکاب خدا نخواستہ کسی بڑے حادثے کاموجب بن سکتا ہے۔ سکول کی جو حالت بیان کی جارہی ہے اس سے سکول کے کسی بھی وقت منہدم ہونے کا خطرہ ہے جس سے اساتذ ہ اور معصوم بچوں کی خدا نخواستہ جانیں جا سکتی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو صرف یہی سکول نہیں بلکہ صوبے میں درجنوں سکول ایسے ہوں گے جن کا سروے کر کے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ویسے بھی سرکاری عمارتوں کی تعمیر میںجس طور ناقص میٹریل اور میٹر کے نامناسب مقدار کا استعمال کیا جاتا ہے ان کے موت کی عمارتیں ہونے کے لئے وہی کافی ہے اور اگر اس طرح کی عمارت میں دراڑ یں نمایاں ہوجائیں مستزاد پانی کے نکاس کا انتظام نہ ہونے کے باعث بنیادیں بیٹھنے لگیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے ۔ وزیر تعلیم کو اس سنگین مسئلہ کا فوری نوٹس لینا چاہیئے اور متعلقہ حکام کو اس امر کی فوری اور سختی سے ہدایت کی جانی چاہیئے کہ وہ جلد سے جلد متبادل عمارت میں بچوں کی منتقلی کا بندوبست کریں اور اگر معائنے کے بعد انجینئر عمارت کو قابل مرمت قرار دیں تو اس کی مرمت و بحالی کا عمل احتیاط سے انجام دیا جائے ۔ اس طرح کے حالات میں معمول کے سرکاری ضابطو ں کو تاخیر کا باعث نہیں ہونا چاہیئے ۔
انصاف کارڈ کی تقسیم میں نا انصافی کے شکوے
انصاف کارڈ کی تقسیم پر خود پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کا احتجاج اور نا انصافی کی شکایت سے یہ توقع کم ہی ہے کہ میرٹ کے مطابق اس کی تقسیم اس احتجاج کی وجہ ہے۔ ایسا ہونا محال ہی لگتا ہے۔بنا بریں اس امر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انصاف کارڈوں کی تقسیم میں کس قدر اقرباء پروری ہوئی ہے کہ خود پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی محرومی کی شکایت ہے۔ انصاف کارڈ خالصتاً مستحق اور نادار افراد کا حق ہے جن کی تقسیم خالصتاً انصاف کے مطابق یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔اگر ایسا کرتے ہوئے خود پی ٹی آئی کے اراکین کو شکایت پیدا ہوئی ہے تو یہ مثبت امر ہوگا لیکن اگر پی ٹی آئی کے کارکنوں ہی کی شکایت کو حقیقی گردانا جائے تو باقی عام لوگوں کی محرومی کا ماتم ہی کیا جاسکتاہے۔

اداریہ