Daily Mashriq


فرعون گیا فرعونیت نہ گئی

فرعون گیا فرعونیت نہ گئی

جنرل راحیل شریف کی ریٹائر منٹ کے بعد نت نئے گن گائے جا نے لگے ہیں ، پاکستان میں عمو ما ًایسا ہو ا کر تا ہے یہ کوئی انہو نی بات نہیں ہے مگر ایسے گن اکثرو بیشتر گھن بن جا یا کر تے ہیں ، جیسے ہی جنرل راحیل شریف فو ج کی چھڑی جنرل قمر جا وید باجو ہ کو تھما کررخصت ہو ئے اس کے کچھ ہی دیر بعد وفاقی وزیر سیفران قادر بلو چ پر منکشف ہو ا کہ پاکستان سے پر ویز مشرف کو پدھا رنے میں راحیل شریف کاہا تھ تھا۔وزیر صاحب نے جن کے بارے میں بہت کم پاکستانیو ں کو علم ہے کہ اس نا م کے بھی کوئی صاحب وفاقی کا بینہ میں پا ئے جا تے ہیں،یہ انکشاف اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ۔ وزیر مو صوف نے کچھ دن قبل دئیے گئے انٹرویو میں بس اتنا فرما یا تھا کہ مشرف کو ملک سے با ہربھجو انے میں راحیل شر یف کی طر ف سے اشارے پا ئے جا تے ہیں،بات انہو ں نے کھل کر نہیں کی اشارہ کنایہ تک محد ود رکھا ، گما ن کیا جا رہا تھا کہ اس اہم ترین مو ضوع پر شفافیت کی بات جنرل (ر) راحیل شریف کی جانب سے آجا ئے گی مگر اس جا نب سے خامو شی ہی رہی جس بنا ء پر بدگما نی سوا ہوتی چلی گئی۔ قادر بلو چ کے بعد خود مشرف نے اکتشاف کر دیا ہے کہ ان کو بیر ون ملک رسائی دلا نے میں راحیل شریف کا ہا تھ ہے مگر مشرف نے بات اس اندا ز سے کی ہے جیسے وہ یہ جتا نا چاہتے ہو ں کہ بے نظیر بھٹو ، اکبر بگٹی کے قتل ، آئین سے غداری کے ارتکا ب ، اور لا ل مسجد کے واقعہ کے بعد بھی وہ فو ج میں نیک سعید ہیں اور فوج میں نہ ہو تے ہو ئے بھی اب بھی طاقت ور ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔مشرف کے طا قت ور ہونے کے بارے میں دوسری رائے تو ہو نہیں سکتی اگر وہ قوی نہ ہو تے تو ملک سے نہ جا پا تے ، وہ پاکستان میں بھی جب تک مقیم رہے طا قت کے ہی بل بو تے پر ٹھہر ے رہے۔ چنا نچہ جب قادر بلو چ نے اشارے مو جو د ہو نے کی با ت کی تو اس وقت مشرف کے وکلا کے ان بیا نا ت کی طر ف دھیا ن گیا ، تاہم یہ یقین کی حد تک نہیں تھا اور عوام منتظر تھی کہ کسی قابل بھروسہ جانب سے وضاحت آجا ئے ، لیکن جب مشرف نے بھی بات کو کھو ل دیا تھا وزیر موصوف کی بات پر یقین ہو چلا کہ ایسا ہی ہوا ہو گا ۔ تاسف یہ ہو ا کہ قانو ن اور آئین سب کے لیے بر ابر ہے تو پھر ایسا کیو ں ہو ا جس سے عوام میں احساس محر ومیت پھیلتی ہے ۔گو مشرف نے بیا ن دید یا اور ایسی ہی با ت قادر بلو چ نے بھی کی جو اب یقین کی حدود کو چھورہی ہے مگر اصل منبع تو اس خبر کا خود جنر ل (ر)راحیل شریف ہیں ان کو چاہیے کہ وہ وضاحت کر تے کہ ایک شخص جس پر آئین سے غداری ، اور قتل جیسے سنگین مقدما ت چل رہے ہیں اس کو ملک سے باہربھجو انے میں استعانت کی یا نہیں یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ قوم اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اکتوبر1999ء میں مشرف نے جمہوریت پر جو شب خو ن ما را اس میں فوج کا بحیثیت ادارہ کوئی کر دار نہ تھا بلکہ مشرف ا ن کے بعض فوجی سنگیوں کا منصوبہ تھا۔ فوج کا فیصلہ تب ہو تا جب کورکمانڈر کا نفر نس میں فیصلہ کیا جا تا ، یہ ایک فوجی افسر کا فیصلہ قرار پا تا ہے جو ادارے کا سربراہ بھی تھا۔ جہاںتک پر ویز مشرف کے ملک سے نکل جا نے کی بات ہے تو اگر اس میں راحیل شریف نے کوئی کر دا ر ادا کیا بھی ہو گا جیسا کہ اب بعض حلقے کہنے بھی لگے ہیں تو یہ بھی ان کا انفرادی عمل ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ ایک طا قت ور عہد ے پر رہ کر اس کو بھی بر وئے کا ر لا ئے ہوں مگر اس کا قومی ادارے سے قطعی تعلق نہیں بنتا جیسا کہ مشرف کے وکلا ء دعویٰ کر تے رہے ہیں ، اب یہ راحیل شریف کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ انہو ں نے کسی حیثیت میں غداری کے مقدمے میں ملوث کی ملک سے باہر جا نے میں مد د کی ۔مشرف اور قادر بلو چ کے بیا نا ت سے قبل سابق فوجی آمر کو ملک سے فرار کر انے کی ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ چودھر ی نثار اور وزیر اعظم نو از شریف پر عائد کی جا رہی تھی ،اگر چہ یہ دو حضرات اس طر ح صفائی پیش کرتے رہے ہیں کہ مشرف کو بیر ون ملک عدالت کے فیصلے کے بعد بھجوایا ہے کیو ںکہ انہو ں نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کر تے ہو ئے مشرف کا نا م ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا ،حالانکہ عدالت نے ایسا کوئی حکم جا ری نہیں کیا تھا عدالت نے اپنی طرف سے پا بندی نہ ہونے کا فیصلہ دیا تھا جس کے بعد یہ اختیا ر وفاقی حکومت کے پاس تھا کہ وہ مشرف پر سنگین الزاما ت میں مقدما ت کی روشنی پر ملک سے باہر جا نے کی پا بندی عائد کر دیتی مگر ایسا نہ تو وزارت داخلہ نے کیا اور جب وزارت داخلہ نے پا بندی ختم کی تو وزیر اعظم نے اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا چنا نچہ مشرف کو پا کستان سے نکل جانے میں براہ راست معاونت کی ذمہ داری وزیراعظم اور وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے ۔ مشرف نے جس راز سے پر دہ اٹھایا ہے ، اس کے ذریعے دراصل انہو ں نے فوج کو بدنا م کر نے کی سعی بد کی ہے جس سے یہ پیغام ملا ہے کہ ایک عام آدمی انتہا ئی کمزور ہو تا ہے اور دوسرے کو سبکدوشی کے بعد بھی طاقت حاصل رہتی ہے ۔ پو ری قوم کی خواہش ہے کہ پر ویز مشرف کے خلا ف آئین سے غداری کا مقدمہ چلے ، اور مشرف خود کو عدالت میں عملاًبے گنا ہ ثابت کر یں تاکہ آئند ہ کسی کو غداری کی ہمت نہ ہو جہاںتک وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ طا قت کے دباؤ میں تھے ، حالا نکہ اگر وہ چاہتے تو دباؤ ما ننے سے انکا ری ہو سکتے تھے ، کیوں کہ انہو ں نے انکا ر بھی کیا ہے ۔ ان پر فیلڈ ما رشل کے عہدے کے لیے دباؤ پڑ ا تھا مگر انکا ر کر دیا۔ جب وہ ذاتی معاملے میں انکا ر کر سکتے ہیں تو قومی معاملے میں انکا ر کو ن سا مشکل تھا ۔ ایسا ہے کہ وہ بھی چاہتے تھے کہ مشرف جا ئیں تاکہ ان کی بھی گلو خلا صی ہو۔آخر میں میاں نو از شریف قوم کو یہ بتانا پسند کر یں گے کہ جب عذیر بلو چ اور رحما ن بھولا کو انٹرپول کے ذریعے گرفتا ر کر کے لا یا جا سکتا ہے تو وہ کیاپرویز مشرف کو عدالتو ں میں پیش کر نے کے لیے انٹر پول کی مد د حاصل کر یں گے ۔

متعلقہ خبریں