Daily Mashriq

فیس بک سے حقیقت تک!

فیس بک سے حقیقت تک!

ہر طرف آلودگی، بے ہنگم ٹریفک، ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، یہ ہے پھولوں کا شہر پشاور۔ میں نے جب شہر کا یہ حال دیکھا تو یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ ہمارے مین سٹریم میڈیا کے پاس پشاور یا پختونخوا کے دیگر شہروں کی یہ حالت زار دکھانے کیلئے ائیر ٹائم نہیں ہوتا اور سوشل میڈیا پر ہمارے دوست جس خیبرپختونخوا کا پرچار کرتے نہیں تھکتے وہ دیکھ کر تو دیگر صوبوں کے عوام رشک اور حسد کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ میرا مقصد یہاں پی ٹی آئی کی حکومت پر نکتہ چینی ہر گز نہیں۔ ماضی میں پیپلزپارٹی،اے این پی اور ایم ایم اے کا کردار بھی مثالی نہیں رہا۔ وعدے اور دعوے تو ہر دور میں ہوتے رہے مگر تاحال کسی سیاسی جماعت نے سنجیدگی سے پشاور کے برسوں پرانے مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ صوبائی حکومت نے یقینا کچھ اچھے کام کیے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کو پی ٹی آئی سے جو توقعات تھیں وہ شاید پوری نہ ہوسکیں۔ عوام اب بھی حقیقی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ شہر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں کی حالت دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے حکومت یا انتظامیہ نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں۔ ان علاقوں میں ایک کینٹ سے متصل نوتھیہ جدید بھی ہے جو صرف نام کا'' جدید'' ہے۔

یہاں کی گلیاں گندے پانی کے نالوں میں تبدیل ہوچکی ہیں اور یہ علاقہ ہے ضلعی حکومت میں اپوزیشن کا جن کے پاس ہر وقت فنڈز نہ ہونے کا عذر موجود ہوتا ہے۔ اگر آپ کو دوران سفر ہچکولے لینے کا شوق ہو تو اندرون شہر میں لاہوری گیٹ سے گاڑی خانہ اور گورگٹھڑی تک سفر کیجیے ۔ یہاں کی سڑکیں صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی کارکردگی کا پول کھول دیتی ہیں۔اب چلتے ہیں شاہی باغ نیبرہوڈ، جہاں ضلعی ناظم اور ٹائون ون کے ناظم کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ نالے سے ابلتے گندے پانی اور نکاسی آب کے ناقص سسٹم کے باعث یہاں کی گلیاں جوہڑ کا منظر پیش کررہی ہیں۔نیبرہوڈ چیئرمین کا کہنا ہے کہ سالانہ تیرہ لاکھ فنڈ میں وہ کیا کیا کریں۔ نالے کے اطراف جو پشتے بنائے جارہے ہیں ان میں بھی ناقص میٹریل کی شکایات سامنے آئی ہیں، اس لیے مستقبل قریب میں یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آتاہے۔ اب ذرا جائزہ لیں گنج دروازے سے مڑ چوک تک پھندو روڈ کا۔ سبزی منڈی اور اینٹوں کی بھٹیوں سے ترسیل کی یہ بڑی گزرگاہ ہے مگر اس روڈ کا بھی برا حال ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ این اے چار سے پی ٹی آئی کے منتخب ایم این اے گلزار خان اور ایم پی اے اشتیاق مڑ نے انتخابی معرکہ سرکرنے کے بعد کبھی پلٹ کر علاقے کی خبر نہیں لی اورشہریوں کے احتجاج کا حکومت نے کبھی نوٹس ہی نہیں لیا۔ گلبہار میں آفریدی گھڑی اور ابوذر کالونی کی گلیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، ابلتے گٹر اور جابجا لٹکتے بجلی کے تار ضلعی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس کی داستان سنارہے ہیں۔ شاہین مسلم ٹاؤن کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بھی سرکار کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتی ہیں۔ نہ صرف سڑکیں کھنڈر ہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کے بوسیدہ پائپ گندے نالے سے گزررہے ہیں ، جبکہ حفاظتی دیوار یا جنگلہ نہ ہونے کی وجہ سے تین بچے اب تک نالے کی نذر ہوچکے ہیں ۔ گلبہار تھانے سے لیکر خصوصی بچوں کے اسکول تک کے علاقے میں بھی نکاسی آب کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے اس کے باوجود انتظامیہ کو کوئی فکر نہیں ۔ بارش کے دوران یہاں کے باسیوں کو گرائونڈ فلور خالی کرنے پڑتے ہیں کیونکہ سڑکیں تو سڑکیں گھر بھی تالاب بن جاتے ہیں۔ ایک طرف یہ صورتحال اور دوسری طرف بلال ٹاؤن میں پختہ گلیوں کی کھدائی محض اس لیے کی گئی تاکہ ایک ایم پی اے کی طرف سے جاری کیے گئے فنڈز کو استعمال میں لایاجاسکے۔ یہ پشاور کے چند علاقوں کا ذکر ہے اور جہاں بنیادی مسائل نکاسی آب اور خراب سڑکیں ہیں۔ صوبائی حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی اور بلدیاتی نمائندے فنڈز نہ ہونے کا رونا روتے ہیں۔ اگر ہم بلدیاتی نظام کا جائزہ لیں تو یوتھ، کسان، خواتین، جنرل اور اقلیتی نشستوں پر منتخب ہونے والے کونسلرز کو ایک روپیہ تک جاری نہیں کیا جاتا ۔ اگر انہیں فنڈز جاری نہیں کرنے تو پھر ان چالیس ہزار سے زائد کونسلرز کا کام کیا ہے؟ اس طرف بھی توجہ دینے اور ان ہزاروں کونسلرز سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے۔
پشاور کے مسائل کی ذمہ دار کوئی ایک جماعت یا موجودہ حکومت نہیں۔ پی ٹی آئی اور جماعت ا سلامی اگر غفلت کا مظاہرہ کررہی ہیں تو ماضی میں اے این پی ، پیپلزپارٹی، اور جے یو آئی نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ ہر دور میں وزراء اور ایم پی ایز مستفید ہوئے عوام کے مسائل کا حل کبھی ترجیح نہیں رہا۔ موجودہ حکومت کو مسائل ورثے میں ملے ہوں گے چونکہ اس وقت حکومت پی ٹی آئی کی ہے تو تنقید کا نشانہ بھی وہ بنے گی۔ عمران خان سے گزارش ہے کہ بہت ہوگئے دھرنے، جلسے اور احتجاج، عام انتخابات میں وقت اب کم رہ گیا ہے کچھ توجہ اس صوبے پر بھی دی جائے، آپ نے ڈی چوک پر جس تسلسل اور عزم سے ایک سو چھبیس روز دھرنا دیا تھا اسی عزم کے ساتھ صرف چھبیس دن اس صوبے کے لیے مختص کریں تو یہ خیبرپختونخوا کے عوام پر احسان ہوگا اور یہاں کے عوام آئندہ الیکشن میں بھی آپ کو یاد رکھیں گے دوسری صورت میں پی ٹی آئی کے لیے انتخابی مہم چلانا بھی آسان نہیں ہوگا۔

اداریہ