Daily Mashriq


کالے بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی

کالے بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی

ماہرین اد ب و قواعد کا تو یہ فیصلہ ہے کہ محاورات اور ضرب الامثال میں قطعاً کوئی تبدیلی جائز نہیں ۔ آپ آئے روز کو آئے دن نہیں کہہ سکتے روز روز کی جگہ دن دن بو لنا منع ہے ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں بنائی گئی ہیں چونکہ ہم پشتون ہیںالل ٹپواردولکھنے والے ۔ چنانچہ اپنے لئے یہ رعایت جائز سمجھتے ہیں کہ بکرے کی ماں کب تک خیرمنائی گی والے محاورے میں نظر یہ ضرورت کے تحت تھوڑی سی تبدیلی کرلیں ۔عدالتوں نے جب نظریہ ضرورت کو جائز قرار دیا ہے تو پھر ہم کو بھی اس قانونی چھوٹ کے پیش نظر ، بکرے کے ساتھ کالے کا سابقہ لگانے کی اجازت دیجئے ۔ آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری جانب سے ایک مروجہ محاورے میںاس معمولی سی تبدیلی پر کسی کو حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے ۔ محاورے میں تبدیلی کی وجہ یہ بنی جیسے ایک معاصر کالم نگار نذیر ناجی نے فرمایا ہے کہ پی آئی اے نے طیارہ ساز کمپنیوں کی دیگر فنی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے اُس میں کالے بکرے کا خون شامل کر کے اُسکی آخری تکنیکی کمی کا بھی ازالہ کر دیا ہے۔ اس وقت سے ہم سمجھتے ہیں کہ اب کالے بکروں کی نسل کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ اور وہ دن دور نہیں جب سیاہ گلاب کی طرح سیاہ بکروں کی نسل بھی ناپید ہو جائے گی۔ سیاہ بکرے کاہی خون کیوں ؟ یقین جانیئے ہمیںدافع بلیات کے لئے اس تخصیص کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اس ضمن میں ہم اپنے مہربان علامہ خلیل قریشی سے راہنمائی حاصل کر کے ہی کچھ بتا سکیں گے ۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ خون کا سفید ہونا تو انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے ۔ جانوروں کا خون سفید ہونے کے بارے میں ہمیں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی چنانچہ بکرا سیاہ ہو سفید ہو یا کسی دوسرے رنگ کا اُس کے خون بہانے میں ہمیں بظاہر کوئی فرق نظر نہیں آتا کہ اُن میں سے ہر بکرے کا رنگ سرخ ہی ہوگا ۔ البتہ جیسے کہ متذکرہ کالم میں نشاندہی کی گئی ہے ۔ اگر صرف اندرون ملک قومی ائیر لائن کی پروازوں سے پہلے قربانی کا سلسلہ شروع ہوگیا تو اس کے لیے روزانہ سینکڑوں سیاہ بکروں کی ضرورت پڑے گی اور اتنے سیاہ بکرے تلاش کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔ ہمیںدافع بلیات کے لئے سیاہ بکرے کی قربانی پر دل وجان سے ایمان ہے لیکن اس ضمن میں جو خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ اُس پر ضرور تشویش ہے اور وہ یہ کہ جیسے نذیر ناجی نے لکھا ہے کہ کالے بکروں کی نسل ناپید ہونے کے علاوہ کرپشن جو ہماری ایک نفسیاتی بیماری اور قومی شناخت بن چکی ہے ۔ اسکے بھی سنہری مواقع پید ا ہو جائیںگے ۔ وہ اس طرح کہ ذبح ہونے والے بکروں کی کھالوں سری پائے اوجڑی ، کلیجی اور پھیھپڑ وں کا ایک نیا کاروبار شروع ہو جائے گا ۔ سری پائے تو شاہی خاندان کی پسندیدہ ڈش ہے چٹ کرلیا جائے گا۔ گوشت قومی ائیر لائن کے ملازمین کے کام آئے گا اور خون اڑان سے پہلے جہاز کے پہیوں پر چھڑک دیا جائے گا ۔ دیکھتے ہیں اس نئی حکمت عملی سے اے ٹی آر طیاروں میں سفر کو کس حد تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ رد بلا اور پی آئی اے کے طیاروں کو کسی پیش آمدہ آسیب سے بچانے کے لیے بکروں کی قربانی اپنی جگہ لیکن اس کے بعد قومی ائیر لائن کی انتظامیہ کو اپنے جہازوں کی تکنیکی خرابیاں دور کرنے کے لئے کچھ دوسرے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے کی بھی ضرورت ہے جن میں طیاروں کی خریداری کے وقت یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس میں کسی مبینہ کک بیک کی وجہ سے کسی بھی پرواز کے دوران اُسکے ایک یا دونوں انجن بند ہونے کا خطرہ تو لاحق نہ ہوگا پرواز سے پہلے طیارے کو کلیئر قرار دینے والے انجینئر ز کی تربیت میں کوئی خامی تو نہیں رہ گئی اور اُنہیں ان فرائض کی ادائیگی کے لئے اہلیت کی بنیاد بھر برتی کیا گیا ہے ۔ یا پھر اس میں بھی کسی ہیر پھیر کا شائبہ موجود ہے ۔ طیارے کا عملہ تربیت کے مراحل سے گزر چکا ہے یا پھر ان کی بھرتی میں بھی کسی مامے چاچے کا عمل دخل موجود ہے ۔ ہوائی سفر تکنیکی حوالے سے دنیا کا محفوظ ترین سفر سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے جہاز بھی حادثے کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔

لیکن حالیہ دنوں میں پاکستان کی قومی ائیر لائن کو جوپے درپے حادثات پیش آئے اُ س سے کافی تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ 7دسمبر کو چترال سے اسلام آباد آتا ہوا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کی پہاڑیوں پر اُسکے دونوں انجن بند ہونے کی وجہ سے انتہائی تباہ کن انداز میں گرا اور طیارے کے تمام مسافر اللہ کو پیارے ہوگئے ، ملتان کے ہوئی اڈے پر پرواز سے پہلے طیارے کے انجن میں آگ بھڑک اُٹھی اور ایک بین الاقوامی پرواز کے دوران کسی بیرون ملک ہوائی اڈے پر اڑان سے پہلے کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہو ئی اور پائلٹ نے طیارہ اڑانے سے انکار کر دیا ۔ یہ واقعات پی آئی اے کی کا ر کردگی پر بے شمار سوالیہ نشانات چھوڑ تے ہیں ، چنانچہ سیاہ بکرے کی قربانی اپنی جگہ لیکن پی آئی اے والوں کو اپنا سفر محفوظ بنا نے کے لئے دوسر ے تکنیکی اقدامات پر بھی سنجید گی سے غور کرنا چاہئے۔ کیا میں نے جھوٹ بولا ؟

متعلقہ خبریں