اس طرف بھی توجہ دیں

اس طرف بھی توجہ دیں

ایک طرف بھارت سندھ طاس معا ہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان پر پانی بند کر نے کی سازش کر رہا ہے یا کہ یہاں کی زمینوں کو بنجر کیا جاسکے ۔ جبکہ دوسری طر ف پو ری دنیا اور بالخصوص ایشیاء میں گلیشیئرزمیں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ گلیشیئرزپاکستان اور دوسرے ممالک میں سمندروں اور دریائوں میں 75 فی صد پانی کا ذریعہ ہیں ۔ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پہاڑوں پر قدرتی بر ف پڑنے میں کمی ہے۔سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات کے مطابق ہم انتہائی اور خطر ناک صورتحال کی طرف جا رہے ہیں۔پاکستان کے اکنامک سروے سال 2014-15ء کے مطابق وطن عزیز میں 5 ہزار گلیشیئرز انتہائی خطرناک حد تک کم ہورہے ہیں۔ سائنس دانوں اور بین الاقوامی ماہرین ما حولیات کے مطابق پاکستان اُن ممالک میں سر فہرست ہے جو ما حولیاتی تبدیلی سے بُری طرح متا ثر ہو سکتے ہیں۔ سمندری طوفان، حد سے زیادہ گر می،خشک سالی،گلیشیئرز کا پگھل کر سُکڑنا اور جھیل بننا اور بڑے بڑے سیلابوں کا قدرتی آفات کی شکل میں آنا اسی وجہ سے ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق سال 2010ء میں پاکستان میں مو سمیاتی تبدیلیوں اور تغیر سے سیلاب آنے کی وجہ سے 15 ارب ڈالر کا نُقصان ہوا ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے 2 کروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے اور 3لاکھ افراد اسکی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان گلیشیئرز سے پاکستان کے دریائوں کو 80 فی صد پانی ملتا ہے۔ اگر ہم ان تباہی اور بر بادی اورگلیشیئرز پگھلنے کی وجوہات کو دیکھیں تو یہ ساری انسانوں کی پیدا کردہ ہیں۔ گا ڑیوں اور کا رخانوں کا دھواں اور اس سے نکلنے والی زہریلی گیس مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ ، درخت اور جنگلات کا کاٹنا، بھارت اور چین کی اقتصادی ترقی اور ان کے کا رخانوں اور گا ڑیوں سے دھوئیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کی صورت میںدرجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اورگلیشیئرز پگھل کر سیلاب کی شکل میں تباہی اور بر بادی پھیلاتے ہیں۔اگر ہم نے مو ثر حکمت عملی نہیں اپنائی تو وہ دن دور نہیں جب ہم کرہ ارض پر پانی کے لئے ترستے رہیں گے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گا ڑیوں اور کا رخانوں سے نکلنے والی زہریلی گیس کی وجہ سے سال 1961ء سے 1990ء تک درجہ حرارت میں1.3ڈگری اضافہ ہوا۔جس سے ماضی کی بنسبت موجودہ دور میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات کا مزید تجزیہ کریں تو ہمالیہ اور چین کے پہاڑوں کے یہ گلیشیئرز منگولیا، مغربی چین، پاکستان، افغانستان ا ور بھارت کے پانی کا ذریعہ ہیں۔مگر بد قسمتی سے افغانستان کے واخان میں 30گلیشیئرز میں 28 گلیشیئرز12میٹر کے حساب سے سالانہ سُکڑ رہے ہیں۔ چین میں 612 گلیشیئرز 60 فی صد سکڑ اور پگھل رہے ہیں۔رنگ بوگ گلیشیئرز جومائونٹ ایورسٹ سے شمال کی طرف واقع ہے اس میں سالانہ 66 فٹ کے حساب سے سُکڑنے کا عمل جا ری ہے۔نیپال میں سائنسدانوں نے 16 گلیشیئرز کا معائنہ کیا یہ 92 فٹ سالانہ کے حساب سے کم ہو رہے ہیں۔بھارت میں گنگوری گلیشیئرز 112 فٹ کے حساب سے سالانہ اور بھارت میں ہمالیہ 62 فٹ اور سکم میں 28 گلیشیئرز میں انتہائی کمی واقع ہو رہی ہے۔ہمالیہ رینج میں بھارت ، نیپال اور سکم کے 51 گلیشیئرز 75 فٹ سالانہ کے حساب سے سکڑ رہے ہیں۔قراقرم سلسلے میں 22 گلیشیئرز پگھل کر ختم ہو رہے ہیں۔ہمالیہ میں گلیشیئرزپگھلنے سے نیپال میں پانی کی 20 اور بھوٹان میں 24 جھیلیں بن گئی ہیں۔بھوٹان میں گلیشیئرز کے سکڑنے کی وجہ سے ایک جھیل بنی ہے جسکی لمبائی 1.6لمبائی 98 میٹر چوڑائی اور اسکی گہرائی 80میٹر ہے۔آکسفورڈ یونیور سٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے حجم میں سالانہ کے حساب سے1.20فی صد کمی ہورہی ہے اس طر ح پامیر جو پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے اور تاجکستان میں واقع ہے اس میں ہزاروںگلیشیئرزسکڑ رہے ہیں۔20 ویں صدی میں تاجکستان کے گلیشیئرز کے حجم میں 20مکعب کلومیٹر کمی واقع ہوئی۔تبت جو دنیا میں تیسرے نمبر پر قدرتی بر ف کا ایک ذخیرہ ہے اس میں بھی تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ گلیشیئرز کو سُکڑنے سے کیسے روکا جائے ۔ تو اسکے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت اگائے جائیں ایک مکمل اور پُرانا درخت سال میں کئی ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور ٹنوں کے حساب سے آکسیجن خارج کرتا ہے۔لہٰذا پورے ملک میں جنگلات کے رقبے کو ١٥ فی صد تک بڑھانا چاہئے ۔ متبادل ذرائع توانائی استعمال کرنے کے لئے منصوبے بنانے چاہئیں۔ خوش قسمتی سے وطن عزیز میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی ایک لاکھ میگا واٹ، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی ایک لاکھ بیس ہزار میگا واٹ،65 ملین جانوروں کے گو برسے 13ملین فیملی سائز بائیو گیس پلانٹ اور ایک مربع میٹر پرڈیڑھ سو واٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلا حیت موجود ہے۔ صرف کراچی کے قریب گھا رو کے علاقے سے 14 ہزار میگا واٹ ہوا سے بجلی بنا ئی جا سکتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر 20 کلو میٹر رقبے پر شمسی توانائی کے سیل لگائے گئے تو اس سے ملک کو بجلی فراہم ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں جن فرجوں میں فری اون گیس کے کمپریسر لگے ہوئے ہیں اُسکو بھی تبدیل کرنا چاہئے ہمارے ارباب اختیارایک دوسرے کے پیچھے لگنے کی بجائے پاکستان کے ان مسائل کی طرف بھی توجہ دیں۔

اداریہ