Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت براء بن مالک بن نصر انصاری جرات مند اور بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ مستجاب الدعوات بھی تھے ۔ رسول اکرم ۖ کے یہ جلیل القدر صحابی جنگ یمامہ میں بھی شامل تھے ۔ دوران جنگ مسلمانوں پر انتہائی مشکل وقت آن پڑا ۔ سید نا خالد بن ولید کہنے لگے : براء ! اٹھو اور اپنا کردار ادا کرو ۔ یہ گھوڑے پر سوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد کہا : اے اہل مدینہ ! آج مدینہ کا خیال چھوڑ کر صرف ایک اللہ اور جنت کو سامنے رکھو ۔ پھر انہوں نے لوگوں کے ساتھ مل کر ایسا بھر پور حملہ کیا کہ اہل یمامہ کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا ۔ اس دن حضرت براء بن مالک کا سامنا ایک نہایت طاقتور شخص کے ساتھ ہوا ،جسے یمامہ کا گد ھا کہا جاتا تھا۔ حضرت براء بن مالک نے اس کے پائو ں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ منہ کے بل جا گرا ۔ سیدنا براء نے اسی کی تلوار نکال کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا ۔ پھر مسلمانوں نے ان پر ایسا زور دار حملہ کیا کہ اہل یمامہ کو اس باغ میں پنا ہ لینے پر مجبور کر دیا ، جس میںمسیلمہ کذاب چھپا بیٹھا تھا ۔اہل یمامہ نے باغ کے اندر گھس کر دروازہ بند کر لیا ۔ حضرت براء بن مالک کے ذہن میں اس وقت ایک ایسا اچھوتا خیال آیا جو ان جیسا جنت کا مشتاق ہی سوچ سکتا تھا ۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: آپ لوگ مجھے باغ کے اندر پھینک دیں ۔ میںدروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ذرا تصور کریں اتنا بڑا لشکر جس میں ہزاروں لوگ شامل ہیں ۔ایک شخص اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر تن تنہا ان سے بر سر پیکا ر ہو جاتا ہے ۔ ایک انتہائی خونر یز معرکے کے بعد وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے ۔ ان کے جسم پر تیروں تلواروں ، نیزوں اور لاٹھیوں کے اسی سے زیادہ زخم تھے ۔ انہیں ان کی اقامت گاہ لایا گیا ۔ ایک مہینہ تک ان کا علاج ہوتا رہا ۔

سیدنا خالد بن ولید خود ان کے علاج کی نگرانی کرتے رہے ۔ ایک مہینے بعد وہ صحت یاب ہو کر دوبارہ میدان جنگ میں اپنے جوہر دکھانے کے لیے تیار تھے ۔ اہل فارس کے خلاف ''تستر'' کے میدان میں بھی مسلمانوں پر ایک کڑا امتحان آگیا ۔ مسلمان حضرت براء کے پاس آئے اور کہا : حلف اٹھا کر اللہ سے کوئی درخواست کرو ۔ ہمیں یقین ہے کہ تمہاری درخواست ضرور قبول ہوگی ۔ سیدنا براء بن مالک کہنے لگے : اے اللہ ! جب ہم کفار کے لشکر کو کچل لیں تو مجھے اپنے پاس بلا لینا ۔ اس کے بعد مسلمانوں نے حضرت براء بن مالک کے ساتھ مل کر ایک بھر پور حملہ کیا ، جس سے کفار کے پائو ں اکھڑگئے پھر مسلمانوں نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور انہیں مسلسل روندتے چلے گئے ۔

حضرت براء بن مالک نے اہل فارس کے بڑے بڑے سورمائوں کو قتل کیا ۔ مسلمانوں کو ایک فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ۔ مسلمانوں نے دیکھا کہ حضرت براء بن مالک کہیں نظر نہیں آرہے ۔ پھر زخمیوں اور شہدا میں انہیں تلاش کرنا شروع کیا ۔ آخر کار ایک جگہ شہداء میں ان کا جسد خاکی مل گیا ۔

متعلقہ خبریں