Daily Mashriq


امریکی نائب صدر کے لا یعنی الزامات

امریکی نائب صدر کے لا یعنی الزامات

اپنے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران امریکی نائب صدر مائیک پنس نے ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان پر دو ٹوک انداز میں واضح کردیا ہے کہ دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے کے دن ختم ہوگئے۔ بگرام ائیر بیس پر خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سرحد پار سے امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی نائب صدر کے بیان پر پاکستان کی عسکری قیادت اور د فتر خارجہ کا رد عمل بروقت تو ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان محض جوابی بیانات پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ آگے بڑھ کر افغانستان میں امریکہ کے دوہرے کردار اور امریکی چھتری میں داعش کو منظم کرنے کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔ وضاحتی بیانات میں امریکیوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے یہ بھی دریافت کرنا ضروری تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ امریکہ پہلے کسی دہشت گرد تنظیم کو کسی خطے اور ملک میں منظم کرتا ہے اور پھر اس کی سر کوبی کے نام پر ایک نئی قیامت ڈھانے کے لئے آن موجود ہوتا ہے؟۔ القاعدہ ' افغان طالبان' جنداللہ' جہاد اسلامی مصر' النصرہ فرنٹ' داعش شام و عراق اور ان کے علاوہ درجن بھر شدت پسند عسکری تنظیموں کے ورود اور پھر انسانیت سوز مظالم کے بعد امن و انسانیت کے نام پر امریکہ کی جنگی کارروائیاں یہ سب قبل از تاریخ کے قصے ہر گز نہیں کہ زیب داستان قرار پائیں۔ پچھلے تین چار عشروں کی تاریخ کے اوراق پر ساری حقیقت موجود ہے کہ امریکیوں نے کب ،کہاں اور کس مقصد کے حصول کے لئے خود یا اپنے اتحادی ممالک کے تعاون سے ایک عسکریت پسند جتھہ میدان میں اتارا اور پھر امن کے نام پر دندناتا ہوا خود آن موجود ہوا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خود افغانستان میں امریکیوں کے کردار و عمل پر بہت سارے سوالات ہیں، فی الوقت یہی ایک کہ جب سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت بعض تجزیہ نگاروں نے شہادتوں کے ساتھ امریکہ پر یہ الزام لگایا کہ اس کے فوجی طیارے شام اور عراق سے پسپا ہونے والے داعش کے جنگجوئوں کو افغانستان پہنچاتے رہے تو امریکی حکام نے ان کی تردید کیوں نہ کی؟ پھر کیا امریکی اس امر سے لا علم ہیں کہ کالعدم تحر یک طالبان پاکستان' تحریک طالبان جماعت الاحرار اور ایسی دوسری شدت پسند عسکری تنظیموں اور داعش خراسان زون کی قیادت کس ملک میں موجود ہے۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور سیکورٹی ادارے ان دہشت گردوں کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے آگاہ ہیں۔ یہ سوال کرنا پاکستان او رمہذب دنیا کا حق ہے کہ امریکہ نے افغان حکومت کے ساتھ مل کر یا خود تنہا ان دہشت گردوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی۔ بڑی عجیب بات ہے کہ نورستان' انٹر اور پکتیا وغیرہ میں دہشت گرد تنظیموں کے وجود سے آنکھیں بند کرکے پاکستان پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ جس حقانی گروپ کو امریکہ آج امن کے لئے خطرہ قرار دے رہا ہے یہ جہاد افغانستان کے دنوں میں دوسرے گروپوں کی طرح امریکہ کے مجاہدین و محافظ امن کہلاتے تھے۔ ماضی کے حوالوں سے طعنہ بازی مقصود نہیں بلکہ اس امر کی طرف توجہ دلانا ہے کہ افغان سر زمین پر پاکستانی دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور دوسرے پیچیدہ مسائل پر پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی۔ پچھلے کچھ سالوں بالخصوص 2014ء میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے بعد سے پاکستانی طالبان کے مختلف الخیال دھڑے افغان سر زمین پر موجود ہیں اور وہیں سے کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے خلاف اب تک امریکہ اور نیٹو نے کیا کارروائی کی۔ اسی طرح افغانستان میں امریکیوں کی ناک کے نیچے ایک بار پھر منشیات اور اغواء برائے تاوان کے کاروبار منظم ہوئے ان کے تدارک کے لئے کیا ہوا؟ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کرکے اپنا جو معاشی و جانی نقصان کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ نئی امریکی قیادت زمینی حقائق سے آنکھیں چرا کر ایسے بے سر و پا الزام لگا رہی ہے جس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ اپنی بساط سے زیادہ جانی ومالی قربانیاں دینے اور پرائی جنگ کو اپنے صحن میں پھیلنے کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور امریکی ہیں کہ ان قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور امریکی حکام کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اس طرح کے بھونڈے الزامات دو طرفہ تعلقات پر ہی اثر انداز نہیں ہوں گے بلکہ دہشت گرد تنظیمیں ان کا فائدہ اٹھائیں گی۔ اپنے الزامات کے حوالے سے امریکیوں کے پاس کوئی ثبوت ہے تو انہیں الزام تراشی اور دھمکیوں کا جواز بنانے کی بجائے سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا چاہئے۔ ہمیں یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ امریکہ ہوائوں سے لڑنے اور الزام الزام کھیلنے کی بجائے اپنے دوہرے معیار اور دیگر معاملات پر بھی توجہ دے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ پاکستان جب بھی افغان سر زمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کی نشاندہی کرتا ہے جواب میں الزامات کی گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ امریکہ نیٹو اور افغان حکومت اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے کہ افغان سر زمین پر موجود پاکستانی طالبان کی قیادتوں اور ٹھکانوں کے خلاف کارروائی میں کیا امر مانع ہے؟ کیا ان حالات میں پاکستان یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں کہ افغان سر زمین سے اس کے خلاف جاری دہشت گردی کو امریکہ نیٹو اور افغان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے؟ پاکستانی حکام کی یہ بات درست ہے کہ دوست اور اتحادی الزامات نہیں لگایا کرتے بلکہ شواہد سامنے رکھ کر معاملات حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر ہم یہ عرض کر سکتے ہیں کہ امریکہ کے مقاصد کچھ اور ہیں اور الزامات کہانی کچھ اور۔ اندریں حالات بہتر یہ ہوگا کہ امریکہ نیٹو اور افغان حکومت بلیم گیم میں پڑنے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ دیر پا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔

متعلقہ خبریں