عالمی برادری تنازعہ کشمیر کی سنگینی کا احساس کرے

عالمی برادری تنازعہ کشمیر کی سنگینی کا احساس کرے

بھارتی حکومت نے ایک بار پھر اپنے سامراجی عزائم کو بھارت کی قومی سلامتی کے لئے نا گزیر قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 35اے اور 370 کی منسوخی کی کوئی تجویز زیر غور ہے نا حکومت ایسا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی' کشمیر کے ایک حصے پر غاصبانہ قبضے کو جواز دینے اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کو قانونی دفعات اور آئینی شقوں کے پیچھے چھپاتے بھارت کی حکمران قیادت کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ عالمی برادری دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ دیکھ چکی ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی بھارتی جبر و ستم کے باوجود جس شان اور پر عزم انداز سے جاری ہے یہ حریت فکر کی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔35 اے اور 370 کی آئینی شقیں ہی مرکزی حکومت کو کشمیر میں مظالم جاری رکھنے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے انکار کی راہ پر چلائے ہوئے ہیں۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 125کشمیری مرد و زن اور نوجوان بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ شہداء میں زیادہ تعداد طلباء و طالبات کی ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اقوام کی برادری کے اہل دانش تو بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں لیکن حکومتوں کی اکثریت اس حساس مسئلہ کو مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے مساوی اہمیت دینے پر تیار نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بڑے ممالک اور عالمی ادارے معاملات کو انسانیت اور قوموں کے حق خود ارادیت کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے مذہبی بنیادوں پر دیکھتے اور اقدامات کرتے ہیں۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی مثالیں اس کا زندہ ثبوت ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر سے پہلو تہی برتنے کی بجائے بھارتی مظالم کو بند کروانے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے کے لئے عالمی برادری کے بڑے اور ادارے اپنا کردار ادا کریں۔

اداریہ