مہنگائی کی تازہ لہر

مہنگائی کی تازہ لہر


ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر نے متوسط اور نچلے طبقات کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکمران طبقات ملکی تاریخ کی بد ترین مہنگائی کا اعتراف تو کرتے ہیں مگر اسے ختم کرنے کے لئے موثر اقدامات پر توجہ نہیں دیتے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ عام آدمی یہ شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے کہ بالا دست طبقات سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو ان کے مسائل کا کوئی احساس نہیں بلکہ وہ اپنے اقتدار کے آئندہ ادوار کو یقینی بنانے کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ بہر طور ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں مہنگائی پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں تاکہ عام آدمی بھی سکھ کا سانس لے سکے۔


قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی ضرورت
ایف آئی اے نے جمعہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز کی عدالت میں پانچ سوشل میڈیا بلاگرز کے خلاف اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ ان بلاگرز کے خلاف انٹر نیٹ پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے ثبوت نہیں ملے۔ معزز جج نے اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے سوال کیا کہ وہ بتائیں جھوٹی خبریں شائع کرنے کی کیا سزا ہے؟۔ گو معزز جج نے یہ بھی کہا ہے کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ الزامات جھوٹے تھے یا تحقیقاتی شواہد ناکافی ہیں مگر اس مناسبت سے یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ معزز عدالت اس معاملے کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انٹروگیشن کمیٹی قائم کرے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مقدسات کی توہین اور ایسے دوسرے جھوٹے الزام لگا کر امن و امان خراب کرنے اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی روش کا سدباب کیا جائے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی عملداری حقیقی معنوں میں قائم ہو ۔

اداریہ