Daily Mashriq


امریکی دھمکی مسترد

امریکی دھمکی مسترد

امریکی نائب صدر مائیک پنس کے اس بیان کے جواب میں کہ پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے ورنہ اسے بہت کچھ گنوانا پڑے گا اور یہ کہ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہو ا ہے، دفتر خارجہ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر دینے کی بجائے امن اور مصالحت کا میکنزم قائم کرنا چاہیے۔ امریکی نائب صدر کے بیان کے جواب میں دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ نوٹس انہیں دیں جو منشیات کی پیداوار میں بے تحاشہ اضافے کے ذمہ دار ہیں، جو ایسے علاقے میں وسعت کے ذمہ دار ہیں جس پر سرکاری کنٹرول نہیں ہے، جو کرپشن میں اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ جو افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں کے قیام کے ذمہ دار ہیں۔ اور یہ کہ نوٹس اتحادیوں کو نہیں دیے جاتے۔ ''دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا نان نیٹو اتحادی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس سخت بیان کے جواب میں پاکستان کی طرف سے سخت جواب دیا گیا ہے۔ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جنوبی ایشیاء اور افغانستان پالیسی کا اعلان کیا ہے امریکی اور پاکستانی حکام ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس پاکستان کے دورے کر چکے ہیں اور پاکستانی حکام کے ساتھ ان کے مذاکرات امید افزا ہی رہے ہیں۔ نائب صدر مائیک پنس سے بھی گزشتہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ملاقات ہوئی تھی اور ان سے مزید رابطے ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان امریکہ کے اس الزام کے جواب میں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں ایک کھلی پیش کش کر چکا ہے کہ امریکہ ایسے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ پیش کش کئی ہفتے سے برقرار ہے لیکن امریکیوں نے پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی نہیں کی جن کے خلاف کارروائی کی جا سکتی۔ ایک طرف امریکہ ساری دنیا میں اپنے انٹیلی جنس کے وسیع نیٹ ورک کے باوجود پاکستان میں دہشت گردوں کے کسی ٹھکانے کی نشاندہی نہیں کر سکا دوسری طرف امریکی حکام بار بار یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے حوالے سے دھمکیاں دے کر اپنے مطالبات منوانا چاہتا ہے ۔ جس کے لیے نائب صدر مائیک پنس نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرکے پاکستان بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے اور بصورت دیگر بہت کچھ گنوا سکتا ہے۔ اس کا جواب پاک فوج کے ترجمان نے نہایت صاف گوئی سے دے دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان برائے فروخت نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان امریکی امداد کے لیے جنگ نہیں لڑ رہا۔ یہ جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔ امریکہ کو پاکستان پر اعتماد کرنا چاہیے۔ لیکن امریکہ کی بداعتمادی امریکہ کے کسی شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان سے اپنے دیگر مطالبات منوانا چاہتا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں نہایت زیرک انداز میں نائب صدر مائیک پنس کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کے اس دوغلے پن کو آشکار کیا ہے کہ ایک طرف امریکہ پاکستان کو نان نیٹو اتحادی بھی کہتا ہے اور دوسری طرف اسے نوٹس پر رکھنے کا اعلان بھی کرتا ہے۔ نائب صدر مائیک پنس نے پاکستان کے بارے میں یہ بیان بگرام کے امریکی اڈے پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں افغانستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی کارکردگی واضح کی ہے۔ امریکی افغانستان میں 16سال سے موجود ہیں ۔ افغان حکومت کی سرپرستی کے اس سولہ سالہ دور میں افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن میں اضافہ ہو اہے۔ ایسے علاقوں کی وسعت میں اضافہ ہوا ہے جہاں (امریکی فوج کی موجودگی کے باوجود) افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ افغان حکومت ایک سے زیادہ بار یہ اعتراف کر چکی ہے کہ افغانستان کے جس علاقے سے پاکستان کے باغی پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں ان پر افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش کو قدم جمانے کا موقع ملا ہے۔ خود امریکی میڈیا میں یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ امریکی فوج طیارے داعش کو اسلحہ سپلائی کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اور ساری دنیا پر واضح ہے کہ امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی کے باوجود افغانستان میں امن وامان کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔ مائیک پنس خود خفیہ انداز میں افغانستان پہنچے۔ یہ دھمکی کہ پاکستان بہت کچھ گنوا سکتا ہے اس وقت آئی ہے جب امریکہ افغانستان کے مسائل کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کا یہ بیان قابلِ غور ہونا چاہیے ٹرمپ کی افغان پالیسی کشت و خون کی پالیسی ہے۔ افغان سول سوسائٹی امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ افغانوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے دیا جانا چاہیے۔ اگر دھمکیاں دے کر امریکی یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں ان کی جنگ لڑے تو اس کا جواب پاک فوج کے ترجمان نے دے دیا ہے کہ ہم افغانستان میں امریکہ کی جنگ نہیں لڑ سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی وجہ سے جو ابتری آئی ہے اور منشیات کی پیداوار اور کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں داعش نے اپنے ٹھکانے بنائے ہیں ان حقائق کو بین الاقوامی سطح پر آشکارکیا جائے۔ تاکہ اقوام عالم پر اس صورت حال کے عالمی امن پر برے اثرات سے مزید آگاہ ہو سکے۔

متعلقہ خبریں