خوشی ، خوشی کو نہ کہہ، غم کو غم نہ جان اسد

خوشی ، خوشی کو نہ کہہ، غم کو غم نہ جان اسد

اے بھا ئی۔ لیتا جا یہ پھولوں کی مالا، بالکل تازہ پھول ہیں۔ پھولوں کی مالا بیچنے والے نے ایک راہگیر کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا۔ نہیں چاہئے مجھے پھولوں کی مالا۔پھولوں کی مالا بیچنے والے نے راہگیر کو روکا اور کہنے لگا۔ بابوجی۔ اگر آپ کو پھولوں کی یہ مالا نہیں چاہئے تو کوئی بات نہیں آپ اسے اپنی محبوبہ کے لئے خرید لیں۔ نہیں ہے میری کوئی محبوبہ وحبوبہ۔ راہگیر نے پھولوں کی مالا بیچنے والے کو سخت لہجے میں جواب دیا پھول بیچنے والا کہنے لگا بابو جی اگر تمہاری محبوبہ نہیں تو پھولوں کی اس مالا کو اپنی گھر والی کے لئے خرید لو اپنی بیوی کے لئے۔ نہیں میری کوئی گھر والی ،بیوی شیوی نام کی کوئی چیز۔ کیوں نہیں؟ مالا بیچنے والے نے آگے بڑھ کر قدرے حیرت بھرے انداز میں پوچھا۔ اس لئے کہ میں نے ابھی شادی نہیں کی۔ کیا کہا' پھولوں کی مالا بیچنے والے نے ہکا بکا ہوکر پوچھا۔ آپ شادی شدہ نہیں؟ راہگیر کی زبان سے یہ جملہ سن کر مالا بیچنے والا آگے بڑھا اس نے راہگیر کا ماتھا چوما اور اس کے گلے میں پھولوں کی مالا ڈالتے ہوئے کہنے لگا کہ اے خوش قسمت انسان تیری نہ کوئی محبوبہ ہے' نہ منگیتر اور نہ بیوی اس لئے میں تمہاری قسمت پہ ناز کرتے ہوئے پھولوں کی اس مالا کا تحفہ تجھے پیش کرتا ہوں۔ اسے میری جانب سے پیار اور عقیدتوں بھرا نذرانہ سمجھ کر قبول کر۔ قارئین کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ تھا لیکن اس کے پس منظر میں چھپی جو کام کی بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ غیر شادی شدہ لوگ جیسے اور جہاں بھی ہوں ان کا شمار دنیا کے خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے۔ ضروری نہیں ہم اس لطیفے کے مرکزی خیال سے اتفاق کریں۔ لطیفے اس دکھوں بھری دنیا میں ہنسنے ہنسانے کے لئے وجود میں آتے ہیں۔ کچھ لطیفے لکھے لکھائے یا سنے سنائے مل جاتے ہیں اور کچھ ہماری روزمرہ زندگی میں سر زد ہوجاتے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق اگر صنف لطیفہ بازی یا لطیفہ گوئی کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں میاں بیوی کے درمیان سر زد ہونے والے لطیفوں کی بھر مار ملے گی۔ ویسے میاں بیوی کا رشتہ ہی ایسا ہے جس کا آغاز بڑی دھوم دھام سے ہوتا ہے۔ کوئی لڑکی یا لڑکا ایک دوسرے کو پسند کرنے کے بعد میاں بیوی کے بندھن میں جکڑے جاتے ہیں یا پھر ان کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرنے کے لئے ان کے بڑے بزرگوں یا عزیز و اقارب کا ہاتھ ہوتا ہے۔ پہلی قسم کی شادی کو پسند کی شادی کہا جاتا ہے جب کہ عزیز و اقارب کی مداخلت یا ان کی مرضی کے احترام میں کی جانے والی شادی کو ارینجڈ میرج یا طے شدہ شادی کا نام دیا جاتا ہے۔ شادی کی جتنی بھی قسمیں ہوں، شادی، شادی ہوتی ہے اور شادی شادی کے سوا شادی ہی ہوتی ہے۔ اس لئے آپ لاکھ کوشش کرکے شادی کی شین کے نقطے ہٹائیں، شادی شادی ہی رہتی ہے جس میں شادیانے بھی بجتے ہیں، شہنائیاں بھی اور منڈے کی ماں کے علاوہ اس کے دوست احباب بھی ہنستے کودتے ناچتے گاتے اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ یہی کیف مستی و سرخوشی دلہن کے ہاں بھی اپنے عروج کے بام پر ملتی ہے۔کتنا دیدنی منظر ہوتا ہے دلہن کی ٹیکنی کلر سکھیوں کی آنکھوں سے رواں اشکوں کی اس برسات کا جسے ہم اپنی روایتوں کی امین ثقافت کا نام دیتے ہیں۔ کاش میں یہاں مہندی، مایوں بیٹھنے، گانا باندھنے، گھڑا گھڑولی اور اس قسم کی بہت سی رسموں اور رواجوں کا تذکرہ چھیڑ سکتا جن کو بیان کرنے کا قرض اس وقت تک میرے ذمہ واجب الادا رہے گا جب تک
ہم پرورش لوح قلم کرتے رہیں گے
جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
کے لئے اپنی مستعار زندگی کے سانس باقی ہیں ۔ ان رسموں رواجوں کو دلہا اور دلہن کے چاہنے والے اپنے دل کے ارمانوں کا نام دیتے ہیں۔ یہ ساری باتیں میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر بلدیات محترم عنایت اللہ خان کے علاوہ ان کے اس تھنک ٹینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے جواب میں لکھ رہا ہوں جس میں انہوں نے شادیوں میں ون ڈش پالیسی کا فیصلہ کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کو قید و جرمانہ کا سزاوار ٹھہرایا ہے۔ ارے صاحبو ! غموں سے بھری پُری دنیا میں ایک ہی تو موقع آتا ہے ناچنے گانے اور کھیلنے کودنے کا اور جب شادی کرنے اور کرانے والے شادیانے بھرے ہنگامے سے فارغ ہوتے ہیں تو ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو اس ہی دنیا میں پاکر سر پیٹ لیتے ہیں جہاں مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، رشوت، سفارش، لوٹ مار چوری، سینہ زوری، الزام تراشی اور بے انصافی جیسے کتنے عفریت فلک شگاف شیطانی قہقہے لگا لگا کر ان سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ بتاؤ تو بھلا کتنی پکتی ہیں سیر کی ، اور پھر دلہا بھائی کو یوں لگتا ہے جیسے وہ عمر قید کے علاوہ جرمانہ در جرمانہ کی سزا بھگت رہا ہے۔ اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ پھولوں کی مالا بیچنے والا ان غیر شادی شدہ خوش نصیبوں کو ڈھونڈتا پھرتا ہے جن کو وہ پھولوں کا تحفہ پیش کر سکے۔ اگر میرا بس چلتا تو پھولوں کی وہ مالا سچ اور سچ کے سوا کچھ نہ لکھنے کے عادی مشتاق شباب کے لئے خرید لیتا کہ وہ بھی اس موضوع پر قلم کا پھریرا لہراچکے ہیں، لیکن ان کا لکھا پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے وہ بھی وزیر بلدیات کے تھنک ٹینک کی رکنیت اختیار کرچکے ہیں۔ میں ان کے گلے میں پھولوں کی مالا ڈالنے کے بہانے چپکے سے ان کے کان میں کہنا چاہتا تھا
کہنا ہے گر انالحق، تودار پہ چڑھ کر کہو
سجتی بھلا کسی پہ کب ،ہے مصلحت انگیزی

اداریہ