Daily Mashriq


لفظو ں کی چاند ما ری

لفظو ں کی چاند ما ری

امر یکا اور پاکستان کے درمیان لفظوں کی گولہ باری شروع ہو گئی ہے ، بعض حلقو ں نے اس امر پر تشویش کا اظہا ر کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے تو کہہ دیا ہے کہ کہیں امر یکا اسامہ بن لا دن جیسا حملہ نہ کر دے۔ شاید ان کی سوچ بھٹک گئی انہیں اپنے فضائی سالا ر جنگ کا یہ کہا یا د نہ رہا کہ اگر امریکا نے ڈرون حملہ کیا تو پاک فضائیہ اس ڈرون طیا ر ے کو ما ر گرا ئے گی ، تاہم خور شید کا اند یشہ قابل توجہ ہے کیو ں کہ امریکا جو مخالف کی صف میں جا کھڑا ہے بہت کائیاں ہے اس سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ سلا متی کونسل میں اس نے بیت المقد س میں امریکی سفارتخانے کے قیا م کے خلا ف قر ار داد کو ویٹو کر دیا اس طرح اکثریت کے فیصلے کو کھو کھا تے میں ڈال دیا۔ بعد ازاں جنرل کو نسل میں اس کو اسی مسئلے پر عبر ت ناک شکست ہوئی۔ جس پر اس کا وہی رد عمل تھا جو فرعون کا ہوتا تھا کہ اس نے طعنہ دیا کہ سب کو پلنے کے لیے وہ پیسہ دیتا ہے پھر بھی اس کے خلا ف ووٹ دیا گیا۔ یہ جمہو ریت کا علمبر دا ر ہو نے والے ملک کا رویہ تھا کہ اس نے اکثریت کے فیصلے کو ٹھکر ا دیا۔ امریکا ''پہلے امریکا'' کی پالیسی پر گامزن ہے چنا نچہ اس کی نظر میں کوئی بات جچتی ہی نہیں ہے ۔ لفظو ں کی جو گولہ باری شروع ہو ئی ہے اس میں امریکا کے نائب صدر مائیک پنس نے پا کستان کو خبر دار کر تے ہو ئے کہا ہے کہ دہشت گردو ں جرائم پیشہ عنا صر کی پشت پنا ہی جاری رکھی گئی تو وہ بہت کچھ کھو دے گا۔ ٹرمپ حکو مت نے امریکی فوج کو دہشت گردو ں او ران کے اڈوں کو کہیں بھی نشانہ بنانے کے لیے اختیا ر دے دیا ہے ، یہ بات انہو ں نے جمعر ات کو افغانستان کے دورے کے دوران کی ، امریکیو ں کا یہ حال ہے کہ ان کے حکا م افغانستان کا دورہ غیر اعلا نیہ کر تے ہیں یہ سب طالبان کے خوف کا نتیجہ ہے جہا ں وہ گزشتہ سولہ سال سے گھس بیٹھے ہیں وہا ں خود کو غیر محفو ظ سمجھتے ہیں۔ ان کے دور میں افغانستان میں پو ست کی کا شت سو فی صد بڑھی ہے اس کا طالبان نے خاتمہ کر دیا تھا۔پاکستان نے امریکی نا ئب صدر کی جانب سے سخت الفاظ میںلگائے جا نے والے الزامات اور کرخت لب ولہجہ میںتنبیہی بیا نیہ پر شدید الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اتحادی ممالک ایک دوسرے کو دھمکیا ں نہیں دیتے نوٹس ان کو دیا جا تا ہے جو سرحد پا ر داعش کو قدم جما نے کا مو قع دے رہے ہیں۔ امریکا پا کستان پر اپنی الزا م تراشی بند کر ے بلیم گیم سے نقصان ہو گا۔ پا کستان برائے فروخت ہے نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پیسو ں کے لیے لڑ رہے ہیں۔ امریکا کو ایسا اکل کھر ا جواب پہلی مر تبہ پاکستان نے دیا ہے۔ اس جو اب میں سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ پاکستان نے امریکا سے کہا ہے کہ ان لو گو ںکو بھی تنبیہہ جا ری کر نا چاہیے جو افغانستان میں منشیات کی پید اوار ، غیر سر کا ری اور انتظامی مقامات کی تو سیع صنعتی پیما نے پر بدعنو انی ، حکومت کو ختم کر نے اور داعش کو افغانستان میں قدم جما نے کا مو قع دے رہے ہیں ۔امریکا کو چاہیے کہ وہ حقائق کا ادراک کر ے کہ اس کی شروع کردہ دہشت گر دی کی جنگ میں پاکستان سر خ رو ہو ا ہے اور اس نے تنہا یہ جنگ اپنے ملک میں جیت لی ہے جبکہ افغانستان میں امریکا نے تنہا جنگ نہیںلڑ ی اتحا دیو ں کے ساتھ مل کر لڑی ہے مگر اس کے با وجو د امر یکا کو بری طر ح شکست کا سامنا کر نا پڑا ہے ۔جبکہ اس کے اتحادی افغانستان میں امریکا کی کا میا بی کے لیے سنجیدہ کا وشیں کر نے کی بجا ئے پاکستان کے لیے مصائب ومشکلا ت پید اکر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پنا ہی ایک ڈھکو سلہ ہے دراصل امریکا اور اس کے بعض اتحادیو ں کے اہداف کچھ اورہی ہیں جس کے لیے پاکستان کو دھمکا یا جا رہا ہے ، داعش کو جس طرح افغانستان میں گھسیڑا جا رہا ہے وہ علا قے کے لیے خطر ے کا باعث ہے کل یہ داعش خود امریکا اور اس کے دوسرے اتحا دیو ں کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتا ہے امریکا درا صل انڈو ایشین منصوبے پر عمل پیر ا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ چین ، شمالی کوریا ، ایر ان ، ترکی اور پاکستان کے مقابلے میں علا قے میں ایک سپر پاور کھڑی کی جا ئے اور ایسا کر نے کے لیے اس کی نظر کرم بھارت پر ہے جس کی وہ افغانستان سے بنگلہ دیش تک بالا دستی قائم کر نے کا خواہشمند ہے ، اور اس طرح طاقت کے بل بوتے پر اپنی من مانی کر سکے ۔مگر امریکا کا یہ خوا ب پو را ہو تا نظر نہیں آرہا ہے گو کہ امر یکا اپنی غر ض کے لیے علا قے میں ہتھیا ر و ں کا عد م تواز ن بھی کر نے میں ملو ث ہے اس کے باوجود وہ اس میں کامیا ب نہ ہو پائے گا کیو ں کہ سب سے پہلے چین ان معاملا ت سے باخبر ہے اور روس بھی ساتھ ہی ان عزائم سے غافل نہیں ہے۔ ایر ان جس کو 1980ء سے امریکا غیر مستحکم کر نے کی تگ و دو میںلگا ہو ا ہے اور طرح طرح کی پا بندیاں لگاتا رہا ہے آخر کار ایر ان سے نیو کلیئر معاہد ہ کرنے پر مجبور ہو ا مگر ایک مر تبہ پھر پلٹ گیا ہے کیو ں کہ صدر ٹرمپ نے ایر ان کے ساتھ اس معاہد ے کو اب تک ہو نے والے تما م معاہدو ں میں بد ترین معاہد ہ قرار دیا ہے۔ ایران نے امر یکا کی تما م مساعی کے با وجود خود کو ایک مضبو ط طاقت میں ڈھا لا ہے ۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور قائد ملت لیا قت علی خان نے کہا تھا کہ پا کستان ایشیا کا دل ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ قائد ملت کے اس قول کی عملی صورت ظاہر کر یں اور نہا یت احتیا ط کے ساتھ عالمی معاملا ت میںقدم بڑھا ئیں ۔رو س اور چین کے ساتھ ایک مضبو ط فضاء قائم کر نے کی سعی صد ق دل کے ساتھ کی جا ئے ، اگر چہ اسلا می کا نفر نس کے ساتھ وابستی بے سود ہے حال ہی میں بیت المقد س کے مسئلے پر اس تنظیم میںشامل کئی ممالک کی سر د مہر ی نے تنظیم کے جسم کی روح کا کچومر نکال دیا۔ اس پس منظر میں تنظیم سے امید بہا ر کی توقع بھی نہیں ہو سکتی ، تاہم جس بھا ری اکثریت سے دنیا نے جنرل اسمبلی میں امریکی صدر کی پالیسی کے خلا ف ووٹ دیا ہے وہ دنیا کے لیے امید کی کر ن بن سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں