Daily Mashriq


اب ووٹ کسے دیا جائے؟

اب ووٹ کسے دیا جائے؟

2018 انتخابات کا سال ہے سب چھوٹے بڑے انتخابات پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں عوام ان انتخابات سے بہتری کی امید رکھتے ہیں ان کا سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی اگر کوئی چیز باقی ہے تو وہ ان کی امید ہے ۔یہ امید کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں انہیں اللہ پاک پر بھروسہ ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کو لوٹنے والے بہت ہیں تو پاکستان کو بچانے والا پاکستان کو قائم رکھنے والا بھی موجود ہے۔ کل ایک محفل میں ہمارے ایک ساتھی کالم نگار سے ایک صاحب نے پوچھا کہ آنے والا وقت پاکستان کے لیے کیا لا رہا ہے پاکستان میں حالات بہتر ہوں گے یا ہم مزید تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے جو اب دیتے ہوئے کہا کہ میں وجدان کی بات کرتا ہوں میرے پاس دلائل نہیں ہیں میں منطقی تجزیے نہیں کرتا لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والا وقت پاکستان کے لیے بہتر ہوگا پاکستانیوں کے حالات بدلیں گے، ہر مصیبت کے بعد آسانیاں ضرور آتی ہیں پاکستان کو اچھے لوگ ملیں گے جن لوگوں نے پاکستان کو لوٹا ہے عوام کے لیے مسائل میں اضافہ کیا انہیں اب لوگ پہچان چکے ہیں۔ لوگ یہ بات جان چکے ہیں کہ کون سے لوگ پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں اور کون لوگ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے لیے جمہوریت بہتر نہیں ہے یہاں جمہوری نظام نہیں پنپ سکتا سیاست دانوں کی اکثریت مفاد پرستوں کی ہے ذاتی مفادات کے لیے کام کرتی ہے یہ لوگ اقتدار میں آکر اپنا گھر بھرتے ہیں اس لیے جمہوریت کا تجربہ پاکستان میں ناکام ہوچکا ہے اگر سطحی انداز سے دیکھا جائے تو یہ باتیں درست معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ پاکستان میں جمہوری تسلسل کبھی بھی تواتر سے نہیں رہا، کبھی کسی جمہوری حکومت نے اپنا دورانیہ مکمل نہیں کیا ،کچھ عرصہ گزرتے ہی جمہوری حکومتوں پر الزامات لگا کر انہیں رخصت کردیا جاتا اور پھر کوئی آمر دس گیارہ برس مزے سے حکومت کرتا ۔آمریت کے ان برسوں میںعوام کو آہستہ آہستہ یہ محسوس ہوتا کہ جس جمہوریت کو رخصت کیا گیا تھا اس کا متبادل یہ آمریت بھی نہیں ہوسکتی بے چینی بڑھنے لگتی اور لوگ واپس جمہوری نظام کی طرف لوٹنے کی بات کرتے اور مزے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی آمر نے جمہوریت کو برا نہیں کہا سب یہی کہتے کہ ہم جمہوریت کے حامی ہیں مناسب وقت پر انتخابات کروا کر ہم اقتدار قوم کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کرکے رخصت ہو جائیں گے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک جمہوری نظام ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے یہ بات بھی اپنی جگہ سو فیصد درست ہے کہ ہمیں جمہوریت نے کیا دیا؟ اگر ہمارے ہاں بھی انتخابات کا سلسلہ بغیر کسی وقفے کے چل پڑا تو پھر دیکھیے بہتر لوگ سامنے آئیں گے اور اس کی وجہ بھی عوامی شعور ہی ہے عوامی شعور کے حوالے سے ایک ہیر ڈریسر کی دکان میں ہونے والے مباحثے کا حوالہ دینا نامناسب نہیں ہوگا۔ ہم اپنی باری کے انتظار میں تھے کہ ایک صاحب نے اخبار سے نظریں اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو تو ہر رنگ میں دیکھ لیا ہے اب ووٹ کسے دیا جائے؟ (اب ووٹ کسے دیا جائے؟ یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے بلکہ ایک سوچ ہے ایک فکر ہے ایک خیال ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام جانتے ہیں کہ ان کا ووٹ کتنی اہمیت کا حامل ہے ان کے ووٹ سے کتنی بڑی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں ان کا ووٹ برے لوگوں کو سامنے لانے کا سبب بھی بن سکتا ہے اور ان کے ووٹ سے اچھے لوگ بھی سامنے آسکتے ہیںیہ سوچنے کی بات ہے کہ ووٹ کسے دیا جائے؟) ان کے سامنے بیٹھے ہوئے صاحب کہنے لگے کہ تحریک انصاف، اے این پی اور دوسری بڑی جماعتیں بھی ہمارے سامنے ہیں کراچی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں ان سیاسی جماعتوں کے اچھے برے کردار ، خوبیوں خامیوں سے بھی عوام الناس گہری واقفیت رکھتے ہیںہمیں حاضر سیاستدانوں ہی میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک لیڈر کسی بھی قسم کی کمزوری نہ رکھتا ہو دنیا میں ہر جگہ اسی طرح ہوتا ہے رہنمائوں کو ان کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ منتخب کرنا پڑتا ہے جب ایک صاحب کردار شخص اقتدار میں آتا ہے تو پھر اسے کچھ صحیح اور تلخ فیصلے کرنے پڑتے ہیں بہت سے بدکرداروں کو ناراض کرنا پڑتا ہے اس سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد باکردار لوگ ایک ہجوم کی صورت اکٹھے ہوجاتے ہیں !ہماری رائے تو یہی ہے کہ جمہوریت کی خیر مانگنی چاہیے اور انتخاب کا عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے یقینا اچھے لوگ سامنے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں