مشرقیات

مشرقیات


امام غزالی فرماتے ہیں کہ بصرہ کے قریب ایک انتہائی گنہگار آدمی رہتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے جنازے کو اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے کسی نے ہاتھ لگانا بھی گوارا نہ کیا۔ ایسی حالت میں اس کی بیوی نے کرائے کے مزدور لئے۔ وہ ان مزدوروں سے شوہر کا جنازہ اٹھوا کر قبرستان لے گئی۔ قبرستان کے قریب پہاڑوں میں ایک زاہد رہتا تھا جس کی عبادت کا بہت شہرہ تھا۔
میت کے قبرستان پہنچنے سے پہلے ہی وہ جنازہ پڑھنے کا منتظر تھا۔ جب اس زاہد کے جنازہ پڑھانے کی خبر پہنچی تو لوگ جوق در جوق جمع ہونا شروع ہوگئے۔ کچھ ہی دیر میں کافی سارے لوگ جمع ہوگئے۔ انہوں نے اس زاہد کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھی۔
لوگوں کو زاہد کے اس فعل پر سخت حیرانی ہوئی۔ انہوں نے نماز جنازہ کے بارے اس سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ مجھے خواب میں یہ حکم ملا کہ فلاں جگہ جائو' وہاں ایک جنازہ آرہا ہے اس کے ساتھ صرف ایک عورت نے جس کا جنازہ ہے وہ شخص مغفور ہے۔ یعنی اس کی بخشش ہوچکی ہے۔ اس سے زیادہ میں اس شخص کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔
اس جملے پر لوگوں کی حیرانی میں مزید اضافہ ہوا۔ لوگوں نے میت کی بیوی سے پوچھا کہ تمہارا شوہر تو بظاہر شرابی اور بہت گنہگار شخص تھا' عورت سے اس کے حالات معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ درست ہے کہ یہ شرابی تھا اور شراب خانے میں ساری عمر گزاری مگر اس میں ایک صفت تھی کہ صبح جب یہ مدہوش نہ ہوتا تو با وضو نماز فجر ادا کرتا تھا۔
دوسرا اس کے گھر میں یتیم بچے رہتے تھے جن سے اپنے بچوں جیسا سلوک کرتا تھا۔ تیسرا رات کو جب ہوش آتا تو خوب رو کر خدا تعالیٰ کے حضور التجا کرتا: خدایا! مجھ خبیث سے جہنم کے کون سے کونے کو پر کرے گا۔ جب یہ راز کھل گیا تو زاہد روانہ ہوگیا۔ (مکاشفة القلوب' صفحہ628' حضرت امام غزالی)
حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں' سیاحین کا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ شیطان نے اس کو گمراہ کرنے کے بہت جتن کئے لیکن بس نہ چلا۔ آخر کار شیطان نے اس کو کہا: کیا تم مجھ سے وہ کام نہیں پوچھتے جن سے میں انسانوں کو گمراہ کرتا ہوں؟ اس نے کہا کیوں نہیں' ضرور بتلائو تاکہ میں بھی ان کاموں سے بچتا رہوں جن سے تو لوگوں کو گمراہ کرتا ہے؟ کہا حرص' غصہ اور بخل' کیونکہ آدمی جب حریص ہوتا ہے تو ہم اس کی نظر میں مال کو کم کرکے دکھاتے ہیں اور اس کو لوگوں کے مالوں میں رغبت دلاتے ہیں اور جب انسان غصیلا ہو جاتا ہے ہم اس کو اپنے درمیان ایسے گھماتے ہیں جیسے بچے گیند کو گھماتے ہیں پھر اگر وہ اپنی دعا سے مردوں کو بھی زندہ کرتا ہو ہم اس کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور جب وہ نشہ میں ہوتا ہے ہم اس کو ہر قسم کی شہوت کی طرف گھما دیتے ہیں جس طرح سے بکری کو کانوں سے پکڑ کر گھما دیا جاتا ہے۔
(ابن ابی الدنیا)

اداریہ