Daily Mashriq


بھارت کی گیڈر بھبکیوں کا مسکت جواب

بھارت کی گیڈر بھبکیوں کا مسکت جواب

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اگلے مورچوں کا دورہ، جوانوں سے ملاقات اور جارحیت کا مسکت جواب دینے کے عزم کا اعادہ پاک فوج کی پوری تیاری اور عزم صمیم کا مظہر ہے۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا بھارت کو حیران کر دینے والی صورتحال سے دوچار ہونے کی تنبیہہ محض تنبیہہ نہیں بلکہ یہ ان تیاریوں اور آلات حرب وضرب کے استعمال کا کھلا اشارہ ہے جس سے بھارت کے کولڈ ڈاکٹرائن کا مسکت جواب دیا جا سکتا ہے۔ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کیخلاف سازشیں اور دہشتگردی کی، ہم جنگ میں داخل ہونا نہیں چاہتے لیکن یقین دلاتے ہیں کہ اگر بھارتی جارحیت ہوئی تو ہم انہیں حیران کردیں گے اور ہر خطرے کا بھرپور صلاحیت سے جواب دیں گے۔ پاک فوج کے ترجمان نے عساکر پاکستان کی میدان جنگ میں عملی تجربات کا احسن حوالہ دیکر کہا کہ ہمارے تینوں سپہ سالار سے لیکر سپاہی تک نے قدموں پر کھڑے ہوکر اپنے ہاتھ سے جنگ لڑی ہے، ہم نے اپنے ملک کا دہشتگردی کیخلاف دفاع کیا ہے، ان دیکھے دشمن کیخلاف جنگ بہت مشکل تھی لیکن بھارت ایک معلوم خطرہ ہے، ہم نے 70 سال آپ کو پڑھا، دیکھا، آپ کیلئے ہی صلاحیت حاصل کی اور جواب بھی آپ کیلئے ہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کیونکہ آغاز آپ کریں گے تو ہم آپ پر غالب رہیں گے، ہمارے پاس آپ کے مقابلے میں فیصلہ کن مقامات پر قوت کا تناسب زیادہ ہے۔ کبھی یہ نہ سوچیں کہ ہماری دوسری جگہ مصروفیت کی وجہ سے ہماری صلاحیت میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان وزیرِاعظم سے لیکر عام شہری تک، تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے لیکر سپاہی تک، تمام سیاسی جماعتوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں ہم آہنگی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ارادے، عزائم، اور قومی مفاد حاصل کرنے کے طریقۂ کار میں ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم پوری قوت کیساتھ آنے والے خطرے کا بھی ردعمل دے سکتے ہیں، مجھے اُمید ہے کہ آپ میرے اس پیغام کو سمجھیں گے اور پاکستان کیساتھ غلط کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ پریس بریفنگ کے دوران پلوامہ واقعے پر مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر اس واقعے کو غور سے دیکھیں تو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کا لیئر ڈیفنس سسٹم موجود ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی بھی شخص ایل او سی کو پار کرے اور ایسا علاقہ جہاں سیکورٹی فورسز کی تعداد وہاں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے اور70 سال سے آپ (بھارتی فوج) وہاں بیٹھے ہیں وہاں سے دراندازی ہوجائے تو انہیں اپنی سیکورٹی فورسز سے پوچھنا چاہئے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کے ماحول پر اقوام عالم کا مشوش ہونا فطری امر ہے اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال انتہائی خراب ہے اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تمام تر صورتحال کو روکنا ہوگا، کئی لوگ مارے جا چکے ہیں، ہم اسے ہر حال میں روکنا چاہتے ہیں اور اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔ بھارت کا جنونی پن اور دھمکیاں نئی بات نہیں وہ پہلے بھی پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کرنے کے دعوے کرچکا ہے جس کا وہ نہ کوئی ثبوت پیش کر سکا ہے اور نہ سرجیکل سٹرائیک کے مقام کی نشاندہی کر سکا ہے جس پر خود بھارتی عوام اور میڈیا نے بھارتی دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیکر رد کرچکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری توازن اپنی جگہ ایک حقیقت ہے بھارت کا بڑا ملک ہونا بھی کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں لیکن جو چیز بھارت کے پاس نہیں اور ہماری قوت ہے وہ ہم مسلمانوں کی وہ عسکری تاریخ ہے جو بدر کے میدان سے رقم ہوکر وقتاً فوقتاً خود کو دہراتا رہا ہے۔ ہمیں تعداد اور کم وسائل ہونے کے باوجود جذبۂ ایمانی کا مظاہرہ کرنے پر کامیابی کی جو بشارت وضمانت دی گئی ہے اس کے سامنے دنیاوی قوت اسلحہ وگولہ بارود سبھی ھیچ ہیں۔ اس قوت ایمانی سے عساکر پاکستان ہی مالامال نہیں بلکہ ہر پاکستانی اس کا بھرپور اور عملی مظاہرہ کرنے کا نہ صرف جذبہ، شوق اور تمنا رکھتا ہے بلکہ وقت آنے پر حرارت ایمان کی کسوٹی پر پورا اُتر کر دکھا بھی چکے ہیں۔ اس میدان میں ہمارا تقابل کسی بھی زمینی قوت سے ہو ہی نہیں سکتا۔ عساکر پاکستان کے شانہ بشانہ عوام کا جذبہ جہاد وہ ہتھیار ہے جس سے دنیا کے ہر فرعون کو ہم للکار سکتے ہیں، للکارتے آئے ہیں اور للکاریں گے۔ بھارت کو اسلحہ ساز وسامان اور فوجی قوت وتعداد کا زعم ہوگا لیکن ان کو یہ بھی یاد ہوگا کہ 1965 ء میں جب فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی وہ رعب دار آواز گونجی کہ بھارت کو معلوم نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے تو پانسہ کس طرح پلٹ گیا۔ پاک فوج کے ترجمان نے بجا طور پر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں عملی طور پر جہاد کی تربیت کی جس صلاحیت کا تذکرہ کیا ہے یہ دنیا کی کسی فوج کے مشقوں سے بڑھ کر تجربہ کی بات ہے اس کے باوجود پاکستان کسی جارحیت کے ارتکاب پر آمادہ نہیں بلکہ صبر وتحمل کیساتھ دشمن کی نقل وحرکت پر نظر ہے اس عزم کیساتھ کہ جارحیت کی ابتدا وہاں سے ہو تو تاریخ سے بھارت اور ہندو قوم کا نام مٹا دیا جائے۔ جنگ کوئی بچوں کا کھیل نہیں نہایت مشکل اور تباہ کن ہے جس کے پوری دنیا پر اثرات پڑسکتے ہیں اسلئے جہاں بھارت کو ہوش کے ناخن لینا ضروری ہے وہاں اقوام عالم کو بھارت کو کسی ممکنہ احمقانہ حرکت سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ جنوبی ایشیا اور دنیا کے امن کو لاحق خطرات کو ٹالا جاسکے۔

متعلقہ خبریں