Daily Mashriq

اقدام احسن، شکوک وشبہات کا بھی ازالہ کرنے کی ضرورت

اقدام احسن، شکوک وشبہات کا بھی ازالہ کرنے کی ضرورت

کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی اور اس طرح کی تنظیموں کیخلاف ملک گیر کارروائی کے کئی فیصلوں پر اگر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہوتا تو ایک مرتبہ پھر اس طرح کے اقدام کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی دشمنوں کو انگشت نمائی کا موقع ملتا اور کسی دباؤ میں آنے کا عندیہ ملتا۔ بہرحال حکومت کا کالعدم تنظیم کے مبینہ مرکز کو سرکاری تحویل میں لیکر مرکز کا انتظام ایک منتظم کے سپرد کرنے کا فیصلہ احسن تو ہے لیکن ایک مرتبہ پھر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس ضمن میں دنیا کے شکوک وشبہات اور سوالات کا شافی جواب کیسے ملے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گورنر ہاؤس پشاور میں ملک کی جملہ سیاسی وعسکری قیادت کی باہم مشاورت سے جو حکمت عملی مرتب کی گئی تھی اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ملک وقوم کے مفاد میں تھا اور اس پر پوری طرح عملدرآمد کی ضرورت تھی لیکن متفقہ فیصلے اور عزم کے باوجود اس فیصلے پر عملدرآمد کا سوال باقی رہا۔ یہی وجہ ہے جس کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی طور پر مشکلات اوردباؤ کا بھی سامنا رہا۔ جو فیصلہ اب کیا گیا ہے یا جو فیصلے پہلے کئے گئے تھے اگر ان پر شکوک وشبہات سے بالاتر عملدرآمد کیا جاتا تو الزام لگانے والوں کو وہ ہذیان بکنے کا موقع نہ ملتا جس کا اس وقت ملک کو سامنا ہے۔ جن پالیسیوں کا فیصلہ کیا جائے ان پر عملدرآمدکا سوال نہیں اُٹھنا چاہئے اور ان پر عملدرآمد شکوک وشبہات سے بالاتر ہونا چاہئے۔ بعد ازخرابی بسیار اب جبکہ ایک مرتبہ پھر اس اقدام کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور حکومت نے فوری طور پر عملی اقدامات کرلئے ہیں اس کے بعد شکوک وشبہات کی گنجائش باقی نہیں رہتی چونکہ اس ضمن میں مخالف عناصر کی جانب سے اس کے باوجود شکوک وشبہات کے اظہار کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اسلئے ان اقدامات کو مکمل طور پر قابل قبول بنانے کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات پر توجہ دی جانی چاہئے تاکہ جو عملی اقدام ہم کر چکے ہیں اس کی وقعت ہو اور الزام تراشی وشکوک وشبہات کے اظہار کا سلسلہ بند ہو۔

صوبے میں ہنرمند تیار کرنے کا احسن منصوبہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا یہ کہنا بجا ہے کہخیبر پختونخوا میں بشمول ضم شدہ اضلاع کے چار ہزار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے فری ٹیکنیکل ایجوکیشن مارچ سے شروع کرنے کا اعلان اور خواتین روزگار سروسز اور خیبر پختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کیساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط نوجوانوں کو ہنرمند بنا کر ان کو روزگار کیساتھ ساتھ خودروزگار کے قابل بنانا اہم قدم ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن وقت کی ضرورت ہے اور ہمیں وقت کیساتھ چلنا ہے مستقبل قریب میں سی پیک اور رشکئی اکنامک زون کے تناظر میں صوبے کو ہنرمند لیبر کی مزید ضرورت درپیش ہوگی۔ کوشش کی جائے گی کہ کے پی ٹیوٹا سے فارغ ہنرمند نوجوانان وخواتین کو تمام فعال انڈسٹریل سٹیٹس اور دوسرے اکنامک زونز میں روزگار کے بہترین مواقع فراہم کئے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے اقدامات کی بہت پہلے ضرورت تھی مگر اس مقصد کیلئے صوبے میں اداروں کی موجودگی کے بغیر پوری طرح ہنرمند ورک فورس کی تیاری میں ناکامی لمحۂ فکریہ ہے۔ صوبے میں اہم ترقیاتی منصوبوں اور کارخانوں کیلئے لیبر دستیاب ہوتی ہے لیکن ہنرمند اور کاریگر نہ ہونے کے باعث دوسرے صوبوں سے آنے والے اپنے ساتھ ماہرین اور کاریگر مزدور بھی اپنے ہی صوبوں سے لاتے ہیں جس کا سب سے بڑا مظاہرہ بی آر ٹی جیسے اربوں روپے کے منصوبے میں واضح طور پر سامنے آیا۔ اس عملی تجربے کے بعد صوبے میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور ثقہ ہنرمند پیدا کرنے کیلئے پوری طرح سرکاری اور غیرسرکاری شعبوں میں یہاں تک کہ نوجوانوں کو انفرادی طور پر بھی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں صنعتوں اور کارخانوں کو مقامی ہنرمند میسر آئیں اور صوبے میں جو بڑے منصوبے شروع کئے جائیں اس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں۔

متعلقہ خبریں