Daily Mashriq

سارے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی لہر

سارے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی لہر

بھارت کی سپریم کورٹ نے تمام صوبائی حکومتوں اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پلوامہ واقعہ کی آڑ میں سارے بھارت میں کشمیریوں اور مسلمانوں کیخلاف دہشتگردی کی جو لہر ابھری ہے اس سے کشمیریوں اور مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں اور ان کی توہین و تضحیک کو روکیں۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پلوامہ واقعہ کو آڑ بنا کر بھارت کے طول و عرض میں کشمیریوں اور مسلمانوں کی زندگی کس طرح ریاستی سرپرستی میں عذاب بنا دی گئی ہے۔ سارے بھارت میں کشمیری اور مسلمانوں کی جانوں کو فوری اور شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور ان کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے اسی لئے بھارت کی سپریم کورٹ نے یہ حکم جاری کیا ہے اور تمام صوبائی حکومتوں اور پولیس کے سربراہوں کو مخاطب کیا ہے اگر کشمیریوں اور مسلمانوں پر تشدد کسی ایک صوبے یا مقبوضہ کشمیر تک محدود ہوتا تو سپریم کورٹ کو یہ ضرورت محسوس نہ ہوتی کہ وہ تمام صوبوں کی حکومتوں اور پولیس کے سربراہوں کیلئے حکم جاری کرے۔ گزشتہ ہفتہ سے پلوامہ واقعہ کے بعد سارے بھارت میں کشمیریوں اور مسلمانوں پر حملے کیے جا رہے ہیں ' ان کی برسرعام توہین کی جا رہی ہے۔ متعدد قتل بھی کئے جا چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے مختلف شہروں میں زیرِ تعلیم کشمیری طلباء کو ہاسٹلوں سے نکال دیا گیا ہے اور سارے بھارت میں مقیم کشمیری اور تاجر اور محنت کش زندگی کیلئے پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔ سات سو کے قریب طالب علم ' تاجر اور محنت کش واپس مقبوضہ کشمیر میں اپنے آبائی علاقوںمیں لوٹ چکے ہیں۔ یہ بھارتی اندازہ کاری ہے ' قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ایسے کشمیریوں اور مسلمانوں کی تعداد سات سو سے بہت زیادہ ہے جن کی جان خطرے میں ہے۔ یہ خبریں شائع ہو چکی ہیں کہ درس گاہوں کے ہاسٹلوں سے کشمیری طلباء کو نکال دیا گیا ہے۔ کشمیریوں اور مسلمانوں پر عرصۂ حیات سرکاری سرپرستی میں تنگ کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی کس قدر وسیع ہے اس کا اندازہ سوشل میڈیا پربعض بھارتیوں کی طرف سے ایسے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے جن میں انہوں نے کشمیریوں اور مسلمانوں کو پناہ دینے کی پیش کش کی ہے۔ اگر یہ کارروائی محدود ہوتی تو اِکا دُکا غیر محفوظ کشمیریوں کو چند لوگ پناہ دے چکے ہوتے اور میڈیا پر نہ کشمیریوں اورمسلمانوں کے خوف و ہراس میں مبتلا ہونے کی خبریں آتیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ایسی کوئی پیش کش دکھائی دیتی۔ یہ ریاستی دہشت گردی جیلوں تک بھی پہنچ گئی ہے 'جے پور کی سنٹرل جیل میں ایک پچاس سالہ پاکستانی قیدی شاکر اللہ کو مار مار کر مار ڈالا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ٹی وی روم میں آواز اونچی کرنے کے سوال پر تکرار ہوئی۔ کیا ایسی تکر ار پر کسی کی جان لی جا سکتی ہے؟ کیا جیل میں کبھی قیدیوں کے درمیان تکرار نہیںہوتی؟ کیا اسے واقعات میں لوگ مار دیے جاتے ہیں؟ اگر قیدیوں کو ٹی وی روم میں یکجا کیا گیا ہو گا تو یقینا وہاں جیل کا عملہ بھی ہو گا وہاں شاکر اللہ کو مار ڈالا گیا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پتھر مار مار کر مار ڈالا گیا۔ ٹی وی روم میں پتھر رکھے گئے تھے کیا؟ یہ قتل بھی سرکاری سرپرستی میں بھارتی دہشت گردی کی ایک مثال ہے۔ بھارت کے ایک ریٹائرڈ جج مارکنڈے کاٹجو نے ایک انٹرویو میں واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ یہ سب الیکشن جیتنے کیلئے نریندر مودی کی بی جے پی کر رہی ہے۔ اس فضا میں بھارتی سپریم کورٹ کا محولہ بالا حکم محض دکھاوے کا حکم ہے اس میں سرکاری دہشتگردی کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ حکم یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں اور پولیس کے سربراہ کشمیریوں اور مسلمانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور ان کی توہین و تضحیک روکیں۔ حکم یہ نہیں کہ ایسی دہشت گردی کے مرتکب لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ صوبائی حکومتیں اور پولیس کے سربراہ کیسے اس دہشت گردی کو روکیں گے؟ کیا وہ سب کشمیریوں اور مسلمانوں کو سیکورٹی فراہم کریں گے؟ سیکورٹی تو جیل میں شاکر اللہ کو بھی حاصل تھی جو جیل سیکورٹی کی تحویل میں تھا۔ مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں، کیا ان سب کو سیکورٹی فراہم کی جا سکتی ہے! تو پھر صوبائی حکومتیں اور پولیس کے سربراہوں سے کیا توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کشمیریوں اور مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے؟ کشمیریوں اور مسلمانوں کیخلاف ریاستی دہشتگردی کی یہ لہر تو پلوامہ واقعہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں گاؤ کشی کے امکان کا الزام لگا کر مسلمانوں کے قتل کئے جانے کی خبریں شائع ہو چکی ہیں۔ کسی ایسے واقعہ میں کیا بھارت میںکسی کو سزائے موت سنائی گئی؟ سارا نظام انتظام اور نظام عدل اور بی جے پی کی حکومت کے غنڈے کشمیریوں اور مسلمانوں کے درپے آزار ہیں۔ اس کی راہ میں اگر رکاوٹ ہے تو یہ کہ بین الاقوامی کمیونٹی میں بھارت اور اس کے حکمران بدنام ہو جائیںگے۔ مسلمان اور کشمیری بنیادی طور پر انسان ہیں اور بھارت میں سرکاری سرپرستی کے تحت ان پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہیںقتل کیا جا رہا ہے ' انہیںمارا پیٹا جا رہا ہے ' ان کی توہین کی جا رہی ہے' ان کے کاروبار بندکیے جا رہے ہیں ' ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ بھارت میںکشمیریوں اور مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ ' انسانی حقوق کے عالمی ادارے میں اٹھائے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم اور وحشت کا مظاہرہ کیاجا رہا ہے اس کیخلاف آواز اٹھائے اور بین الاقوامی کمیونٹی کو ان مظالم کے رکوانے پر آمادہ کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی کی ایک اور لہر پھر شروع ہو چکی ہے ۔ بھارت نے جمعہ کی شب سیکورٹی فورسز کی ایک سو مزید کمپنیوں کو کشمیر روانہ کر دیا ہے۔ جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک کو پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے بیسیوں لیڈروں اور ارکان کوان کے گھروں سے اٹھا لیا ہے اور سارے مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ یہ صورت حال بین الاقوامی کمیونٹی کیلئے باعث تشویش ہونی چاہیے اور پاکستان کو یہ مقدمہ سلامتی کونسل میں پیش کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں