Daily Mashriq

اُفق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورگراں خوابی

اُفق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورگراں خوابی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے کامیاب دورہ کے بعد ابھی ریاض واپس نہیں پہنچے کہ ہمارے دوسرے بڑے دوست ترکی کے صدر طیب اردوان کے دورۂ پاکستان کا اعلان ہوگیا ہے وہ اگلے ماہ یعنی مارچ میں پاکستان آئیں گے۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کیلئے اہم ہے۔ تجارتی معاہدے ہوںگے، دفاع اور سیکورٹی تعاون میں اضافہ ہوگا اور دونوں ملکوں کی عالمی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوگی، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان اور ترکی کا باہمی تعلق قیام پاکستان سے بھی پہلے کا ہے، عثمانی خلافت کی بقا کیلئے تحریک صرف یہیں کے مسلمانوں نے چلائی اور اگر اس کے سقوط پر کسی نے کھل کر آنسو بہائے تو وہ بھی ہم ہی تھے۔

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

سچ تو یہ ہے کہ اسی تحریک خلافت کے بطن سے تحریک پاکستان نے جنم لیا، شائد یہی سبب ہے کہ ترکی سے پاکستانیوں کا رومانس آج بھی جوان ہے، طیب اردوان سے غیرمشروط قسم کی رومانوی محبت کے پس پردہ بھی شائد یہی وجہ ہے کہ وہ عثمانیوں کا وارث ہونے کا دعویدار ہے، ہمارے ترک دوستوں کیلئے شائد یہ خبر حیران کن ہو کہ2023 کے تاریخی لمحات کا انتظار صرف اردوان کو نہیں بلکہ پاکستان کے مسلمان بھی خلافت عثمانیہ کیساتھ اپنے عشق کی پوری شدت کیساتھ اس کے منتظر ہیں۔ اقبال نے کہا تھا۔

گر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں ملکوں کے عوام نمود سحر کے انتظار میں نہیں رہے بلکہ باہمی محبت، احترام اور عالمی سیاست میں ایک دوسرے کی غیرمشروط حمایت روز اول سے اسلام بول (استنبول) اور اسلام آباد کا طرۂ امتیاز ہے۔ ترکی جس طرح کھل کر کشمیریوں کی حمایت کرتا ہے، اسی انداز میں پاکستان بھی ترکی کے جغرافیائی اور نظریاتی تنازعات میں غیرمشروط طور پر اس کیساتھ ہے لیکن اس سچ کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ماضی کے جذباتی اور قلبی نوعیت کے تعلق کو مشترک منفعت میں ڈھالنے کا عمل اردوان کے آنے کے بعد شروع ہوا۔ یہ بھی درست ہے کہ نامعلوم وجوہ کی بنا پر دونوں ملکوں کا تجارتی حجم نیک خواہشات اور ترقی کی تمناؤں سے آگے نہیں بڑھ سکا لیکن توقع ہے کہ جناب اردوان کے متوقع دورۂ پاکستان سے اس سمت میں قابل ذکر پیش رفت ہوگی اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ دس برس سے مذاکرات کی میز پر دھرا فری ٹریڈ کا معاہدہ بھی عدم سے وجود میں آجائے گا۔ جس سے توقع ہے کہ باہمی تجارت 584 ملین ڈالر سے بڑھ کر 5ہزار ڈالر تک جا سکتی ہے۔ تجارت کے اس غیرمتوازن گراف کو درست کرنے کی خاطر موجودہ سفیر ترکی احسان مصطفےٰ پہلے ہی ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں، ان کی کوشش ہے کہ چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنعت (SME) میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اُٹھائیں تاکہ روزگار پیدا ہو اور عوام کا وسیع طبقہ مستفید ہوسکے، اس سلسلہ میں وہ ترکی سے تجارتی وفود کو بلاتے رہے، ابھی حال ہی میں 13بڑے اداروں سے 20افراد پر مشتمل ایک وفد پاکستان آیا اور کئی روز تک مختلف شہروں میں تاجروں سے ملاقاتیں کرتا رہا۔ الیکٹرونکس اور الیکٹرک کے شعبوں میں کئی ایک معاہدے بھی ہوئے، توقع یہی ہے کہ اردوان کے دورہ میں نئے معاہدے ہونے سے دونوں ملکوں کا خواب پورا ہوگا اور باہمی تجارت میں انقلابی تیزی ممکن ہوسکے گی۔ پاکستان میں ترک کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی بھی توقع ہے، گزشتہ برس ایک اجلاس میں ترک سفیر نے کہا تھا کہ ترک سرمایہ کار سی پیک سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ اب دکھائی دیتا ہے کہ وہ انہیں آگاہی دینے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور نتیجتاً بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی پیداوار کے حوالہ سے کئی ایک معاہدے موجود ہیں، جن میں پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے مشترکہ ''ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس'' کے قیام کا انتہائی اہم معاہدہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ترکی سے MILGEMنوعیت کے چار بحری جہاز خرید رہا ہے، جن میں سے دو ترکی اور دو پاکستان میں تیار ہوںگے اور پاکستان مستقبل میں ایسے جہاز خود بنا سکے گا۔ اس کے علاوہ ترکی پاکستان کو F-16طیاروں اور آگسٹا آبدوزوں کی ماڈرنائزیشن کرکے دے گا، پاکستان اس سے T-129قسم کے ہیلی کاپٹر اور ترکی پاکستان سے سپر مشاق طیارے خرید رہا ہے۔ پاکستان نے جے ایف تھنڈر طیاروں کا چوتھے بلاک میں ترکی کی معاونت بھی لی ہے اور دونوں ممالک ملکر ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر بھی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جنگی ساز وسامان کی صنعت میں علم وتحقیق کا میدان وسیع ہے اور دونوں ملکوں میں ملکر چلنے کا عزم بھی بے پناہ ہے اور اطلاعات ہیں کہ اردوان کے دورہ میں اس اُفق پر نئی بلندیوں کو چھونے کی بنیاد رکھی جائے گی جبکہ عمران خان کے دورۂ ترکی کے دوران زراعت، صحت اور انرجی کے شعبوں میں اشتراک عمل کی خاطر مشترکہ کمیٹیاں بنائی گئی تھیں ان کی روشنی میں کئی ایک معاہدے بھی اس دورے کے انتظار میں ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک جانب ترکی کے مسلم ممالک سے بڑھتے ہوئے تجارتی اور دفاعی تعلقات اور دوسری جانب پاکستان کی پیش قدمی اور پھر ان دونوں کا باہمی اشتراک عمل امت مسلمہ کی ترقی اور نشاة ثانیہ کی نوید بھی بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں