Daily Mashriq

انصاف ہی تبدیلی ہے

انصاف ہی تبدیلی ہے

اس ملک نے کبھی انصاف نہیں دیکھا تھا، اس ملک نے ایک عرصے سے اُمید بھی نہ دیکھی تھی۔ یہ ملک ایک عرصے سے ترس رہا تھا۔ لوگ اتنی ناانصافی اور نااُمیدی سے مسلسل نبردآزما تھے کہ ذہنی مریض بنتے جارہے تھے۔ اتنی بدعنوانی، اتنی کرپشن، اتنی چوری اور اتنا جرم اس معاشرے نے دیکھا ہے کہ انہیں یہ احساس تک باقی نہ رہا تھا کہ حالات میں کبھی کوئی بہتری بھی ہوسکتی ہے۔ کبھی بھلائی کا کوئی سورج بھی طلوع ہوسکتا ہے۔ اسمبلی میں جتنا ہنگامہ مچلتا ہے اس ملک کا ایک عام آدمی اتنا ہی اطمینان محسوس کرتا ہے۔ چوروں کو اپنے گریبانوں پر گرفت یقیناً سخت محسوس ہوتی ہوگی، تبھی اس قدر شور مچاتے ہیں ورنہ اس سے پہلے تو انہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ تھی۔ اس حکومت کے آتے ہی جمہوریت کو خطرات محسوس کئے گئے انہوں نے ثابت کیا کہ کوئی مسئلہ تو ایسا ہے جس سے یہ پرانے پاپی پریشانی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے اکٹھے ہونے کی کوششوں نے اس خیال کو اور بھی مضبوط کر دیا۔ اگر سارے چوروں میں صلاح مشورے ہونے لگیں اور مفافقتوں کی مجسم صورتیں ان کے اتحاد کو مستحکم کروانے کیلئے متحرک نظر آنے لگیںتو جان لینا چاہئے کہ عوام کے دن بدلنے والے ہیں۔ دن تو لوٹنے والوں کے بھی بدلنے والے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی ذکرکرنا بھی مناسب محسوس نہیں کرتا۔ اب اس ملک میں ایک نیا وقت داخل ہوتے ہم سب دیکھ رہے ہیں اور ہر شخص اس آس کی انگلی تھامے بیٹھا ہے کہ جیسے پانچ سال میں عمران خان نے شوکت خانم جیسا ہسپتال کھڑا کرلیا تھا، اسی طرح وہ پاکستان کو بھی اپنے پیروں پر کھڑا کرلیں گے۔ یہ پہلی حکومت ہے جس پر لوگوں کی اُمید کا بہت دباؤ ہے اس سے پہلے تو پاکستان نے ہمیشہ وہ حکومتیں دیکھی ہیں جن پر کبھی امریکہ، کبھی سعودی عرب، کبھی کسی اور طاقت کا دباؤ رہا ہے۔ آج کم ازکم یہ ملک اس حد تک آزاد تو ہوگیا ہے۔ یہ آزادی کا رنگ بھی کمال ہے جو کبھی طاقت بن کر جھلکتا ہے، کبھی حمیت کی لو کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ اس ملک نے شاید ایک طویل عرصے بعد ایک ایسا وزیراعظم دیکھا ہے جس کا خیال ہے کہ طاقتور اور کمزور کیلئے ایک جیسا نظام انصاف ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہو تو ہی ملک ترقی کرے گا۔ اب جناب وزیراعظم کو کون سمجھائے کہ ہم نے تو کبھی طاقتور اور کمزور، امیر اور غریب کیلئے ایک جیسا نظام انصاف دیکھا ہی نہیں۔ طاقتور تو اس ملک میں بادشاہ تھا۔ مالک ومختار تھا، یہ ملک اپنی طاقتوروں کی جاگیر تھا۔ اس لئے اس ملک میں کبھی انصاف کی بات نہ ہوئی اس ملک میں امیروں نے ہر بات سے فائدہ کشید کیا اور ہر معاملے کو اپنے مفاد میں استعمال کیا اس لئے اس ملک میں کبھی نظام عدل قائم نہ ہوا۔ اس ملک کے عوام ہمیشہ ہی Children of a Lesser Godرہے اور امیر کی مراعات کا کوئی حساب کتاب نہ رہا۔ وزیراعظم صاحب اس ملک میں اس بات پر پریشانی محسوس کرتے ہیں کہ غریب ڈاکو جیل میں اور امیر ڈاکو اسمبلی میں ہوتا ہے۔ انہیں اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ اربوں کی کرپشن کرنے والا پروٹوکول کیساتھ ہوتا ہے اور مرغی چور کئی کئی مہینے قید گزارنے کے بعد بھی اپنی رہائی کا سوچ نہیں سکتا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن والے بے وجہ ہی انتظامی کارروائیوں کا واویلا کر رہے ہیں جو بڑا ڈاکو پکڑا جاتا ہے وہ نیلسن منڈیلا بن جاتا ہے۔ انہیں احتساب کی اصل روح سے غرض ہے اور وہ ہر ایک کا احتساب چاہتے ہیں۔ وہ درست کہتے ہیں لیکن اس ملک نے ایک پوری نسل ایسی گزار دی ہے جس نے انصاف کے نام پر کبھی ایک پتہ تک ہلتے نہیں دیکھا تبھی تو اس ملک نے ایسی مایوسی دیکھی جس میں باپ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر سکتا تھا اور نہتے معصوم چھوٹے بچے کبھی بھی کسی اجنبی کے جبر اور ظلم کا شکار ہوسکتے تھے۔ ایک عرصے سے کسی نے دہائی نہ دی تھی کہ وارث شاہ کو اب دوبارہ جاگ جانا ہوگا کہ

اک روئی سی دھی پنجاب دی

توں لکھ لکھ مارے بین

اج لکھاں دھیاں روندیاں

تینوں وارث شاہ نوں کہن

وارث شاہ کو کون آواز دیتا۔ اس معاشرے میں تو نوحے ہی نوحے تھے، غم ہی غم تھے۔ پریشانی کی ہڑک نے ہر ایک کو بے چین کر رکھا تھا۔ اب احتساب کی بات ہورہی ہے، سچے کھرے بے کھوٹ احتساب کی بات۔ وہ احتساب جس سے امن پیدا ہوتا ہے، خوشی پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں میں یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ اب انہیں کسی شے کا ڈر نہیں۔ انصاف جس نے اس وقت اس ملک میں تو ہلچل پیدا کر رکھا ہے لیکن اسی انصاف کے باعث اس ملک کا ایمان دار آدمی آج پہلی دفعہ اپنے آپ کو طاقتور محسوس کررہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسے کسی خوف کی کوئی گرفت نہیں۔ وہ اس ملک میں پہلی دفعہ طاقتور ہوا ہے اور اسے یہ طاقت بہت اچھی محسوس ہو رہی ہے۔ ایک بار ایمان دار آدمی کو یہ طاقت محسوس ہونے لگی، اس ملک میں انصاف اور احتساب کا راستہ روکنا، چور اچکوں کے بس کی بات نہ رہے گی۔ اس وقت پاکستان اصل ترقی شروع کرے گا اور اس وقت کا اصل کریڈٹ عمران خان کو جائے گا کیونکہ اس ملک میں انصاف کی فراہمی ہی اصل تبدیلی ہے۔

متعلقہ خبریں