Daily Mashriq

احتساب یا جمہوریت، کمی کہاں ہے؟

احتساب یا جمہوریت، کمی کہاں ہے؟

حقیقی جمہوریت کے حامل ملکوں میں جمہوریت اور احتساب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ان ملکوں میں احتساب کیلئے نہ تو تحریکیں چلانا پڑتی ہیں اور نہ احتساب کے نام پر انتخابات کو ملتوی کرنے کی نوبت آتی ہے اور نہ ہی احتسابی عمل کیلئے کسی غیرملکی رپورٹ اور سکینڈل کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وہاں احتساب معمول کی سرگرمیوں کا حصہ ہوتا ہے۔ جمہوریت اور احتساب ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں، احتساب جمہوری نظام کو زیادہ معتبر اور شفاف بناتا ہے۔ لوگ اپنے نام پر، اپنے مفاد میں اپنے ذریعے چلنے والے نظام کی شفافیت سے جس قدر مطمئن ہوتے ہیں جمہوریت اتنی ہی مضبوط اور توانا ہوتی ہے۔ جب اور جہاں جمہوریت اور احتساب باہم دست وگریباں نظر آئیں تو یہ بات یقینی ہوتی ہے کہ یا تو جمہوریت میں کوئی کمی ہے اور یہ حقیقی معیار اور پیمانے سے دور ہے یا پھر احتساب کا عمل شفاف اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ ملک میں اپوزیشن جوں جوں احتسابی عمل کو تنقید کا نشانہ بناتی جا رہی ہے اسی انداز سے حکومت احتساب کے عمل سے وابستگی جاری رکھنے اور احتساب کے نام پر گرد وغبار اُٹھانے پر بضد ہے۔ وزیراعظم عمران خان احتسابی عمل کو جاری رکھنے اور اپوزیشن کو دھمکانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ اسلام آباد میں ٹیکس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسے کرپشن کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے وہ نیلسن منڈیلا بن جاتا ہے۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد قوم کے مجرم ہیں انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ منی لانڈرنگ ملکوں کو خطرات میں ڈالتی ہے۔ احتساب سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد سترہ لاکھ ہے اور یہ سترہ لاکھ اکیس کروڑ لوگوں کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔ اگر ہم نے خود کو تبدیل نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ گفتگو اس بات کا پتا دیتی ہے کہ حکومت احتساب کے معاملے میں کسی مصلحت کو آڑے نہ آنے کے حوالے سے پرعزم ہے۔ جس وقت وزیراعظم یہ تقریر کررہے تھے اس سے تھوڑی دیر پہلے سندھ اسمبلی کے سپیکر آغاسراج درانی کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا جا چکا تھا۔ عین اسی لمحے نیب نے ان کی کراچی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اورنیب کی ٹیم کئی گھنٹے سے ان کے گھر کی تلاشی اور اہم دستاویزات اپنے قبضے میں لینے کی کارروائی کر رہی تھی۔ چھاپے کی اطلاع ملتے ہی پیپلزپارٹی سندھ کے راہنما آغا سراج درانی کے گھر کے باہر دھرنا دئیے بیٹھے تھے۔ آغا سراج درانی کی گرفتاری کے روز ہی سابق صدرآصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اورکہا کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم سڑکوں پر نکل کر حکومت کا مقابلہ کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی برطانیہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیب کی کارروائیوں کی مخالفت کی۔ انہوںنے کلمہ پڑھ کر کہا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی کرپشن نہیں کی۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر کہا کہ اس سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔ نیب کے ترجمان نے بھی اپنی کارروائیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب بلاتخصیص سیاسی اور علاقائی وابستگی اپنا کام قانون کے دائرے میں رہ کر کر رہا ہے۔ پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بھی اس پر تبصرہ کیا کہ ''احتساب کا کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا''۔ آغا سراج درانی کی گرفتاری کی گونج دوسرے روز پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ پیپلزپارٹی کے راہنما خورشید شاہ نے نیب کی کارروائیوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر حکومت شفقت محمود نے جوابی تقریر میں کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو اپنے اپنے ادوار میں احتساب بیورو کو ختم یا قانون میں ترمیم کرنا چاہئے تھے۔ انہیں وقت گزرنے کے بعد یہ خیال کیوں سوجھا ہے۔ اپوزیشن نے آغا سراج درانی کی گرفتاری کیخلاف ایوان میں پرزور احتجاج کیا۔ آغا سراج درانی سابق صدرآصف زرداری کے دست راست اور قریبی ساتھی ہیں۔ ان کی گرفتاری پیپلزپارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اس گرفتاری پر شدید احتجاج کر رہی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ احتساب جمہوریت کا لازمی جزوہے۔ احتساب کے بغیر جمہوریت کا سورج گہن زدہ رہتا ہے اور جمہوریت کے سر پر تلوار منڈلاتی رہتی ہے۔ احتساب کا مطلب ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ جمہوری اور پارلیمنٹ کی عمارت بھی ایک سسٹم پر کھڑی ہوتی ہے جس میں اعداد وشمار کا بہت گہرا دخل ہوتا ہے۔ اپوزیشن سے خالی جمہوری ایوان بھی جمہوریت کا مطلوب ومقصود نہیں ہوتا۔ حکومت کو ان حقائق کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی ترتیب دینی چاہئے۔ احتساب بھی ناگزیر ہے مگر سیاسی استحکام اور سسٹم کا تسلسل رہنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ عمران خان کے اس اعتماد کا راز کیا ہے کہ احتساب سے جمہوریت کو خطرہ نہیں یہ تو انہی کو معلوم ہوگا مگر سامنے نظر آنے والی صورتحال اور اعداد وشمار کے کھیل میں حکومت ایک شاخ نازک پر کھڑی ہے۔

متعلقہ خبریں