Daily Mashriq


ٹماٹر ڈپلومیسی ناکامی سے دوچار

ٹماٹر ڈپلومیسی ناکامی سے دوچار

پشتو کا ایک محاورہ ہے تم پر بس نہیں چلتا' میں تمہارے باپ کو مار دوں گا' بھارت آج کل اسی محاورے پر عمل پیرا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں پر تو کیا اس کا بس چلے کہ انہوں نے تو 7لاکھ سے زیادہ بھارتی مسلح افواج کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ وہ تو نہتے کشمیریوں بشمول بزرگوں' خواتین اور بچوں کے بلند حوصلوں کی تاب بھی نہیں رکھتا اور مقبوضہ کشمیر وادی کی قبرستانوں میں موجود قبروں میں مسلسل اضافے سے بھی ہاتھوں میں پتھر اُٹھا کر بھارتی فوجیوں پر حملے کرنے والوں کے حوصلے کم ہونے کے برعکس بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان حالات سے زچ ہوکر اب بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کو ''سبق'' سکھانے کیلئے ٹماٹر پر سیاست کھیلنے کی ٹھان لی ہے۔ مگر وہ جو انگریزی کا محاورہ ہے کہ ''پہلے اپنا گھر درست کرلو'' تو اس حوالے سے بھی نزلہ برعضو ضعیف والی صورتحال ہی سامنے آرہی ہے کہ مودی سرکار کے پاکستان کو ٹماٹر اور پیاز فروخت نہ کرنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی بعض فوٹیج میں جو بھارت ہی کے ٹی وی چینلز سے اُٹھائی گئی ہیں' ایک ٹی وی رپورٹر پیاز اُگانے والے کسانوں کیساتھ کئے جانے والے انٹرویوز میں ان کی حالت زار بیان کر رہا ہے جبکہ کسان پریشان ہیں اور پیاز اُگانے پر اُٹھنے والے اخراجات کا موازنہ منڈی میں ملنے والے نرخوں کیساتھ کرتے ہوئے جس طرح فریاد کر رہے ہیں اس کے بعد ایک آدھ کو تو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ ان حالات میں خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ جاری سود پر قرضے حاصل کرکے فصل اُگانے کے بعد انہیں جس قدر نقصان کا سامنا ہے اسکے بعد مہاجن کا قرضہ واپس نہ کرسکنے کا نتیجہ تو خودکشی ہی ہوسکتی ہے کہ مہاجن تو بنیا ہوتا ہے اور بنیا تو ہر قدم پر ''بیاج'' یعنی سود وصول کرنا لازمی سمجھتا ہے۔ اگر ان غریب کسانوں نے قرضے واپس نہ کئے جو موجودہ صورتحال میں کسی طور ممکن ہی نہیں تو پھر جن کی زمینیں ہیں وہ ان زمینوں سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہونگے اور جو دوسروں کی زمینوں پر ہل چلاتے ہیں ان کے مقدر میں دربدری کے سوا کیا ہوسکتا ہے بلکہ ممکن ہے انہیں ہتھکڑیاں لگوا کر ہندو بنیا انہیں جیل بھجوا دے۔اس کے بعد ٹماٹر کے بیوپاریوں کی کیا حالت ہونیوالی ہے اس بارے میں بھی مودی سرکار کو سوچ لینا چاہئے اسلئے انگریزی محاورے کے مطابق بڑھکیں مارنے سے پہلے Put your own house in order پر عمل کرتے ہوئے اپنے غریب کسانوں کی حالت زار کا احساس کر لینا چاہئے۔ رہے پاکستانی تو حضور ہم مسلمان ہونے کے ناتے صبر اور شکر ساتھ لیکر پیدا ہوتے ہیں۔ ٹماٹر کا متبادل ہمارے پاس موجود ہے اور ہر خاتون جانتی ہے کہ ٹماٹر نہ ہوں تو ہانڈی میں دہی استعمال کی جاسکتی ہے' کھٹاس پیدا کرنے کیلئے آلو بخارا بھی موجود ہے' املی بھی اور امچور پاؤڈر بھی عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلئے تم اپنا ''پاندان اُٹھا لوگے'' تو کونسی قیامت آجائیگی۔ بس اپنے گھر کی فکر کرو' اپنے کسانوں کو خودکشی کرنے سے روکو' آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی واضح کردیا ہے کہ ٹماٹر روکنے اور پسندیدہ ملک کا درجہ ختم کرنے سے ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ویسے بھی بھارتی حکمرانوں کی پاکستان کو تنہا کرنے کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں'اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے بھی پاکستان کو پلوامہ حملے میں ملوث کرنے کی بھارتی کوششوں کو نہیں مانا جبکہ دوسری جانب اولمپکس کمیٹی نے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارتی ویزہ نہ دینے پر کھیلوں کی بھارتی میزبانی منسوخ کردی ہے اب مودی سرکار کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر

اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے

مودی کی غلط پالیسیوں نے آج بھارت کی جو حالت کردی ہے اس پر خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا پلوامہ حملے کے بعد بھارتی ریاستوں میں کشمیری عوام کو تحفظ دیا جائے۔ سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ بھارت کو سٹیٹس مین کی ضرورت ہے' بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن مسلمان رہنما ہارون یوسف کے اس بیان پر مودی سرکار کی چیخیں نکل گئی ہیں کہ بھارت میں تین کلو گوشت کا علم تو ہو جاتا ہے' 350کلو بارود کا نہیں ۔یہ تو سیاسی قیادت کی بات ہے جبکہ دوسرے شعبوں سے وابستہ لوگوں کی صورتحال پر بات کرنے سے پہلے سعید دوشی کا یہ شعر بھی ملاحظہ کیجئے کہ

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر

گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

بے چارے نجوت سنگھ سدھو کو حق بات کرنے پر پہلے کپل شرما شو سے نکال باہر کیا گیا' اگرچہ کپل شرما نے اس پر نجوت سنگھ سدھو کی حمایت بھی کی ہے مگر اب اس کا داخلہ ہی فلم سٹی میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ عالمی شہرت کی حامل ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کو پاکستان کی بہو قرار دیکر طنز وتشنیع کا نشانہ بنانے پر ثانیہ مرزا نے جواب میں کہا ہے کہ ہمیں چھت پر چڑھ کر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم دہشتگردی کیخلاف ہیں، نریندر مودی کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ پاکستان پر اس کے الزامات خود اس کی شرمندگی کا باعث کیوں بن رہے ہیں اور کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم کیا گل کھلائیں گے کیونکہ مفتی عبدالرحیم پوپلزئی تو بہت پہلے مسلمانوں کے کردار کی یوں وضاحت کرچکے ہیں۔

داد دے صیاد کچھ تو' حریت کا راگ ہم

عمر بھر زنجیر کی جھنکار پر گاتے رہے

متعلقہ خبریں