Daily Mashriq

سرفراز احمد کہتے ہیں ہم تو گھر والوں سے پڑھوا کر ہی چلتے ہیں

سرفراز احمد کہتے ہیں ہم تو گھر والوں سے پڑھوا کر ہی چلتے ہیں

پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کے خلاف میچ کی آخری گیند پر چھکا لگا کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جیت سے ہمکنار کرنے والے سرفراز احمد کہتے ہیں کہ کرکٹ اسی کا نام ہے۔ ’لاہور قلندر نے کل چھکا مارا تھا آج کھایا ہے۔‘

شارجہ میں آخری گیند پر چھکے کی شاندار روایت رہی ہے جس کی سب سے بڑی مثال جاوید میانداد ہے۔ اس موازنے پر سرفراز کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ چھکا لیگ کے میچ میں لگایا ہے لیکن آپ جاوید میانداد کے چھکے سے کسی طور بھی کسی کے بھی چھکے کا موازنہ نہیں کر سکتے کیونکہ جاوید میانداد نے انڈیا کے خلاف انٹرنیشنل میچ میں وہ کارنامہ انجام دیا تھا، ایک تو انٹرنیشنل میچ کا پریشر اور پھر وہ میچ انڈیا کے خلاف تھا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ میچ کی صورتحال دیکھ کر وہ یہ سوچ رہے تھے کہ انہیں آخر وقت تک بیٹنگ کرنی ہے کیونکہ اگر وکٹیں گرتی رہیں تو میچ مشکل ہوجائے گا۔

سرفراز احمد اور اے بی ڈی ویلیئرز بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اسی لیے مشکل صورتحال میں بھی بیٹنگ کرتے وقت پرسکون رہتے ہیں ۔ اس حوالے سے سرفراز احمد نے کہا کہ اے بی ڈی ویلیئرز بہت بڑے بیٹسمین ہیں جن سے مقابلہ تو نہیں کیا جاسکتا لیکن انہوں نے بھی مشکل صورتحال میں خود کو بہت پرسکون رکھتے ہوئے بیٹنگ کی کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں انہیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سرفراز احمد سے پوچھا گیا کہ لوگ مذاق کے طور پر کہہ رہے ہیں کہ آپ آج کچھ پڑھو آکر آئے تھے تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ہم تو پڑھوا کر ہی آتے ہیں ، کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو گھر والوں سے پڑھوا کر ہی چلتے ہیں ۔

سرفراز احمد نے ایل بی ڈبلیو اور اسی وقت رن آؤٹ نہ دیے جانے کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ قوانین کے مطابق تھا کیونکہ جب امپائر ایک بار آؤٹ دے دے تو وہ ڈیڈبال ہوجاتی ہے تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس قانون کے بارے میں انہیں بھی پتہ نہیں تھا، اس کا علم انہیں بعد میں ہوا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ ابھی ٹورنامنٹ کا آغاز ہے اور ان کی ٹیم نے لگاتار چار میچز جیت کر اچھی ابتدا کی ہے لیکن اصل ٹورنامنٹ پانچ چھ میچوں کے بعد شروع ہوگا۔ ’اس وقت پتہ چلے گا کہ ٹیموں کی پوزیشن کیا ہے اور کس ٹیم کے پاس کیا کامبی نیشن ہے اور کس ٹیم کے کھلاڑی پرفارمنس دے رہے ہیں ۔‘سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ابھی تک دبئی اور شارجہ کی وکٹیں بہت اچھی رہی ہیں ۔ ان کے مطابق اگر بیٹسمین ذمہ داری سے کھیلیں تو بڑا سکور کرسکتے ہیں اور اگر بولرز اچھی کارکردگی دکھائیں تو وہ سکور کا دفاع بھی کرسکتے ہیں ۔ ’پاکستان سپر لیگ میں جس اچھے معیار کی بولنگ موجود ہے وہ کسی دوسری لیگ میں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں