Daily Mashriq

بھارت ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرے اور جنگی جنون سےباز رہے،وزیرخارجہ

بھارت ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرے اور جنگی جنون سےباز رہے،وزیرخارجہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی حکومت کوم مشورہ دیا ہے کہ وہ جنگی جنون پر قابو پائے اور پلوامہ واقعے کے بعد پیدا کی گئی کشیدگی کو کم کرے ۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں ایک میڈیابریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی حکومت سے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر اپنے مظالم بند کرے ۔

وزیرخارجہ نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ کسی مہم جوئی کے بارے میں سوچنے سے بھی گریز کرے اور اسے باور کرایا کہ پاکستانی قوم ، قیادت ، سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج متحد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے تاہم اسے جنگ کی کھوکھلی دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کو پاکستان پر بری نظر ڈالنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔

بھارتی حکومت کے جارحانہ رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کے نوٹیفکیشنز اور لوگوں کو خوراک ذخیرہ کرنے کا کہہ کر کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اضافی فوجی مقبوضہ کشمیر بھیجے جا رہے ہیں جو بھارتی جارحیت کا واضح اشارہ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے پر بھی افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ کئی بھارتی شہروں میں کشمیریوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئی ہیں اور پلوامہ واقعے کے بعد تمام حریت رہنمائوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ حریت رہنمائوں کو کشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اب محبوبہ مفتی جیسے سیاستدان بھی بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارت جارحیت کو کسی بھی حد تک لے جاسکتا ہے تاہم وہ حقائق کو دبا نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی نئی نسل میں وادی پر غیر قانونی بھارتی قبضے سے آزادی کیلئے بھرپور جذبہ موجود ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حکومت کو اس طرح کا رویہ ترک کرنا چاہئے۔

انہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ پورے خطے کو تباہی کی جانب دھکیلنے سے گریز کرے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی صوبوں میں کشمیریوں پر حملہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کراچی نامی ایک دکان میں توڑ پھوڑ کا حوالہ دیا۔

انہوں نے جے پور جیل میں شاکر اللہ نامی قیدی کے قتل کا بھی حوالہ دیا جس پر پولیس کی موجودگی میں حملہ کیا گیا اور وہ خاموش تماشائی بن رہی۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت اور متعلقہ سیکرٹریوں کو لوگوں کو ایسے حملوں سے بچانے اور مداخلت کرنے کی ہدایات کے باوجود بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور جارحیت پر خاموش ہے۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے منصفانہ نصب العین میں ان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

 اس سے پہلے وزیرخارجہ نے اسلام آباد میں ایک اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بھارت کے جارحانہ عزائم  پرغور کیاگیا۔

 اجلاس میں سابق خارجہ سیکرٹریوں اور سفیروں نے شرکت کی۔

 بعد میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مشاورت کا مقصد جامع اور مربوط لائحہ عمل وضع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس بلانے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سمیت خارجہ پالیسی کے اہم امور کے بارے میں سابق سفارتکاروں اورسفیروں کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے اور یہ بہت مفید ثابت ہوا۔

 وزیرخارجہ نےکہا کہ ایسی مشاورت مستقبل میں بھی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں