وزیراعظم کا کھلا چیلنج

وزیراعظم کا کھلا چیلنج

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں اور اگر کسی میں ہمت ہے تو پارلیمنٹ توڑ کے دکھائے۔ کسی کو اسمبلی اگر توڑنی ہے تو میرے خلاف عدم اعتماد لے آئے، میرے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی، میرے4 ماہ تو رہ گئے ہیں، اب میرے خلاف سازش سے کسی کو کیا ملے گا، شاہد خاقان عباسی کا پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ جو ججز لگے ہیں انکا ریکارڈ دیکھیں کیا ہے، دنیا بھر میں پارلیمان عدلیہ کی نگراں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کا چہرہ عوام کے سامنے آنا چاہئے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جج نے زندگی، موت، اربوں روپے اور تاریخی فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کمزور شخص کو جج لگائیں گے تو بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے امریکا سمیت دنیا بھر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جج کی تعیناتی کے وقت اس کی پوری زندگی کو کھنگالا جاتا ہے۔ دریں اثناء قومی اسمبلی میں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار دوسروں کو درست کرنے کے بجائے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں، پھر دوسروں کو بھی ٹھیک کرنے کی اجازت ہے، عدالتیں انصاف کرنے کیلئے ہوتی ہیں حکمرانی کیلئے نہیں، عدالتوں کے پاس8 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، اس کو بھی گورننس ہی کہا جاتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پُراعتماد گفتگو اور آئی ایس پی آر کے ڈی جی کے بیان کو ملا کر دیکھا جائے تو جمہوریت کے حوالے سے خدشات کا ازالہ نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں مگر بلوچستان اسمبلی میں حیرت انگیز تبدیلی کے باعث ذہن کا منتشر خیالات سے واسطہ شکوک وشبہات کے ازالے کا موقع بھی نہیں دیتا بہرحال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا لاہور میں حزب اختلاف کے ناکام شو اور ہری پور میں مسلم لیگ (ن) کے پاور شو کے بعد سیاسی مخالفین کو دعوت مبارزت کا حق دینا حق تلفی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ امور کے پیش نظر اب سینیٹ کے الیکشن بروقت نہ ہونے کے حوالے سے خدشات کا ازالہ ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے جس پُراعتماد لہجے میں تحریک عدم اعتماد لانے کا جو چلینج دیا ہے حزب اختلاف کیلئے اسے قبول کرنا مشکل ہے تو پھر عوام میں بھرم رکھنے کیلئے اسمبلیوں پر تبرا کرنیوالوں کو کم ازکم استعفوں پر سنجیدگی سے سوچ لینا چاہئے مگر بہرحال فی الوقت اس کا بھی امکان دکھائی نہیں دیتا، ایسا لگتا ہے کہ اس کشمکش میں مارچ میں سینٹ کے انتخابات ہو جائیں گے اور اس کے بعد سیاست کا رُخ مکمل طور پر انتخابی تیاریوں کی طرف مڑ جائیگا۔ جہاں تک عدلیہ کی فعالیت اور کارکردگی کا سوال ہے اس ضمن میں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے بیانات سے قبل پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ایک سال میں جوڈ یشل ریفارمز کمپنی کا چار بار اجلاس ہونا ضروری ہے مگر دو سالوں کے دوران جو ڈیشل ریفارمز کمیشن کا ایک ہی اجلاس بمشکل منعقد ہو سکا ہے۔ ہمارے تئیں جس طرح ریاست کے دیگر اداروں میں خامیاں اور کمزوریاں ہیں، عدلیہ بھی اس ریاست کا ایک ادارہ ہے جسے خامیوں سے مبرا گرداننا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ خود چیف جسٹس نے بھی حالیہ دنوں میں عدلیہ کو فعال بنانے اور مقدمات کا فیصلہ مقررہ مد ت کے اندر کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ خیبر پختونخوا کی حکومت سول مقدمات کی جلد سے جد سماعت و کارروائی مکمل کر کے جتنا جلد ممکن ہو سکے فیصلہ دینے کی ضرورت کے حوالے سے قانون سازی کی تیاری میں ہے۔ عدالتی اصلاحات پر خواہ وزیراعظم ہوں یا قائد حزب اختلاف یا پھر خیبر پختونخوا کی حکومت، سول سوسائٹی ہو یا عوام الناس اس ضرورت کا خود احساس عدلیہ کو بھی ہے مگر اس ضمن میں عملی اقدامات کا سہرا صرف خیبر پختونخوا کے سر باندھا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ضرورت واہمیت کا احسا س کافی نہیں اور نہ ہی اس کا تذکرہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ عدالت وانصاف کے حوالے سے بحث و تمحیص ہی تضادات اور معاشرے میں غیر یقینی کی صورتحال کا باعث بن سکتا ہے کجا کہ اس صورتحال کو تنقید کیلئے تو موضوع بنایا جائے مگر عملی اقدامات سے تساہل بر تاجائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً سیاسی عناصر کو ہر چیز کے پیچھے کسی سازش اور مداخلت کا پہلو تلاش کرنے کی بجائے صورتحال کا سیاسی طو ر پر مقابلہ کرنے کیلئے خود کو قابل بنانا چاہئے جو عوامی اعتماد پر پورا اُترنے اور عوامی مسائل کے حل کی صورت ہی میں ممکن ہوگا۔ جب تک کسی حکمران جماعت کو عوام کی تائید و حمایت حاصل رہے گی سیاسی و غیر سیاسی مخالفین سے ان کا محفوظ رہنا فطری امر ہوگا جہاں تک عدالتی انصاف اور عدلیہ کی فعالیت کا سوال ہے اس کے تمام فریقوں کو اس معاملے میں دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے اور اگلے پر انگشت نمائی کی بجائے ہر حصہ دار کو اپنے اپنے حصے کا کام دیانت و ایمانداری اور خلوص و اعتماد کیساتھ نبھانا ہوگا جس کے بعد ہی اس شعبے میں پیشرفت ممکن ہوگا۔ ہر آنیوالا ناطق اپنی اپنی بولی بو ل کررخصت ہونے کی ریت سے پتھروہیں کا وہیں پڑا رہے گا۔ مطلوب کے حصول کیلئے عمل کی راہ اپنائے بغیر دیکھا جانیوالا خواب بغیر تعبیر اور ادھورا ہی رہ جائیگا ۔

اداریہ