ایک اور جذباتی قتل ، معاشرہ کہاں جارہا ہے ؟

ایک اور جذباتی قتل ، معاشرہ کہاں جارہا ہے ؟

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں طالب علم کو بے بنیاد الزام پر قتل کئے جانے کے بعداب تقریباً اسی سے ملتے جلتے الزام پر نجی سکول کے ایک ایسے پرنسپل کا قتل جو خود بھی حافظ قرآن اورایم اے اسلامیات تھا، قاتل طالب علم نے بعد قتل اپنے مبینہ رہنمائوں کی جانب سے اس قسم کے قتل کی ترغیب کے جو الفاظ دہرائے وہ کسی طور بھی قابل قبول تو کجا اس طرح کے درس کا تصور بھی اسلام میںنہیں کہ کوئی شخص اُٹھ کر کسی دوسرے کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کرے، حال ہی میں ملک بھر کے سینکڑوں علمائے کرام کا جو متفقہ فتویٰ سامنے آیاتھا اور بعد ازاں مولانا صوفی محمد نے صراحت اور وضاحت سے جو بیان دیا تھا یہی علمائے حق کا موقف اور دین اسلام کے تعلیمات کی درست تشریح ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ دین اسلام میں ریاست اور قاضی کے علاوہ کسی طور کسی کو اس کا اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسروں کی زندگیوں کا فیصلہ کرے یا پھر اپنے آپ کسی معاملے کا فیصلہ کرے۔ بہرحال اس تمام صورتحال سے قطع نظر بد قسمتی سے من حیث المجموع ہمارا معاشرہ اس قدر متشدد ہو چکا ہے اور انتہا پسندی اس قدر ہمارے قلوب و اذھان پر غالب آچکی ہے کہ اس معاشرے میں بلا سوچے سمجھے کوئی بڑے سے بڑا اور بھیانک قدم اُٹھانا اب غیر متوقع اور ناممکن نہیں رہا۔ اب والدین اور اساتذہ بھی برداشت کی تربیت کی زحمت کم ہی گوارہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ آئے روز مختلف واقعات کی صورت میںسامنے آتا ہے۔ اس طرح کے واقعات کے ملزموں کو ذہنی مریضوں کے درجے پر رکھا جانا چاہئے مگر ایسا کرنے کیلئے کوئی جواز سامنے نہیں آتا۔ حیرت کی بات ہے کہ کوئی ہوش مند شخص اس قسم کی حرکت کا بھی مرتکب ہوسکتا ہے مگر ایسا ہوتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور حقیقت کو جھٹلا یا نہیں جا سکتا۔ ہمارے تئیں بہت حد تک پہلے ہی سے ہمارے معاشرے میں جنونیت موجود ہے جبکہ بعض عناصر اس قسم کے افراد کو ایسے اقدام کیلئے دانستہ و نادانستہ تیار کررہے ہوتے ہیں کہ اس قسم کے بعید از قیاس حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہاں اس قسم کے عناصر کیخلاف ریاست اور حکومت کو سخت اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے وہاں معاشرے میں عدم برداشت کے رویوں کا نفسیاتی مطالعہ کرکے ان اثرات میں کمی لانے پر بھی تحقیقی کام کی ضرورت ہے ۔ اگر قراردیا جائے کہ اس قسم کے واقعات کی بڑی وجہ معاشرے کے ایک طبقے کا اس قسم کی حرکات کے مرتکبین کو ہیرو گرداننا اور دوسری جانب قانون کا اس قسم کے حرکات کے مرتکب افراد کو عبرتناک سزا دینے میں ناکامی ہے ۔ اگر مشال کے قاتلوں کو سزا ہو چکی ہوتی تو شاید اس قسم کے واقعے کا اب اعادہ نہ ہوتا ۔ قانون میں اسقام کو دور کرنے، پولیس کی تفتیش اور چالان عدالت میںپیش کرنے میں فعالیت لانے اور اس قسم کے واقعات کے ملزموں کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلا کر جلد سے جلد فیصلہ صادر کر کے اس پر بلا جھجک عملدر آمد کئے بناء صورتحال کے بگاڑ کا کوئی اور حل نظر نہیں آتا ۔
ریپڈ بس منصوبے کے کرایوں کا ہمدردانہ تعین کرنے کی ضرورت
بی آر ٹی منصوبے کا جہاں پندرہ اپریل کو افتتاح کا عندیہ خوش آئند ہے وہاں اس روٹ کا زیادہ سے زیادہ کرایہ پچپن روپے مقرر کرنا ان دعوئوں کی سر ا سر نفی ہے کہ صوبائی حکومت سبسڈی کیلئے متعلقہ کمپنی کو تجارتی عمارتیں تعمیر کر کے دے گی جس کی آمدنی سبسڈی کے طور پر استعمال ہوگی۔ پچپن روپے کرایہ کا تعین کرنے سے سبسڈی کے حوالے سے صوبائی حکومت کے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے جس سے ریپڈ بس منصوبے کے مخالفین کے مئو قف کی ابتدائی ہو جاتی ہے کہ صوبائی حکومت کا یہ بظاہر نافع نظر آنیوالا منصوبہ عوامی خواہشات کے مطابق نہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کے منصوبہ ساز عوام سے حقائق چھپاتے رہے ہیں اور اب جبکہ اخفاء کی پرتیں ہٹ رہی ہیں تو حقائق سامنے آرہے ہیں جس سے عوام کی مایوسی فطری امر ہوگی۔ پشاور کے ریپڈ بس کے کرایوں کا اگر راولپنڈی اور لا ہور کے میڑو بس کے کرایوں سے موازنہ کیا جائے تو بھی تمام تر دعوئوں کے برعکس ریپڈ بس کے موجودہ کرائے نسبتاً زیادہ ہیں ۔ صوبائی حکومت کو اپنے دعوئوں کو ایک مرتبہ پھر ذہن میں تازہ کرتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ عوام کو سہولت کے نام پر مشکلات کا شکار تو نہیں بنانے جارہے ہیں اگر ریپڈ بس کے کرایوں کو دعوے کے مطابق میڑوبس کے کرایوں سے کم نہ رکھا گیا تو عوام کو اس کی افادیت سمجھنا مشکل ہوگا اور اسے تحریک انصاف کی حکومت کے واحد کارنامے کے طور پر بھی یاد نہیں کیا جا سکے گا، جس کا آمدہ انتخابات میں ان کو عوامی رد عمل کی صورت میں نتیجے بھگتنا فطری امر ہوگا۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو ٹرانسپورٹ کمپنی سے معاہدہ کرتے وقت کرایوں کے تعین میں عوام کے مفاد کو مقدم رکھنے اور سبسڈی کے وعدے کا پاس رکھنا ہوگا تاکہ ریپڈ بس کا دل خوش کن منصوبہ نافع عوامی منصوبہ ثابت ہو ۔

اداریہ