انصاف اور نظام انصاف

انصاف اور نظام انصاف

طرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پبلک عہدوں کیلئے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد مسلسل پبلک جلسوں میں یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو امتیازی احتساب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حکمران مسلم لیگ کے لیڈر ان کی ہمنوائی کر رہے ہیں دوسری طرف چیف جسٹس ثاقب نثار متعدد بار یہ اعادہ کر چکے ہیں کہ احتساب سب کا بلا امتیاز ہو گا ، اس میں عدالتی نظام بھی شامل ہے لیکن حال ہی میں یہ موضوع وسعت اختیار کر تا نظر آتا ہے خاص طور پر چند روز پہلے لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے کل جماعتی احتجاج کے بعد جس میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں وہ اتحاد عمل سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمان کی رپورٹنگ کرنیوالے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور جج کے تقرر کے نتائج سب کو بھگتنا پڑتے ہیں ۔ ان کا اشارہ کس طرف تھا یہ واضح نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو حساس معاملات کے فیصلوں میں احتیاط برتنی چاہیے۔ اس حوالے سے بھی یہ بات واضح نہیںہوئی کہ وہ کون سے فیصلوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ تاہم عدلیہ کیلئے مشورے ان کی جانب سے پہلی بار آئے ہیں۔ ان کیساتھ ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پہلے اپنا ادارہ ٹھیک کریں۔ ان سے پہلے ان کی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں کہا تھا کہ جج انصاف کی فراہمی کے سوا سب کام کر رہے ہیں عدلیہ کے بارے میں ریمارکس کا یہ سلسلہ نیا ہے اور تجزیہ کاروں کیلئے قابلِ غور۔ متذکرہ بالا لیڈروں میں سے خورشید شاہ نے چیف جسٹس کو خصوصاً یاد دلایا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں 8 لاکھ مقدمات زیرِ التواء پڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عدالتیں انصاف کیلئے ہوتی ہیں حکمرانی کیلئے نہیں۔ عدالتوں کو یہ یاد دہانی کہ عدالتوں کا کام انصاف فراہم کرنا ہے ‘ اس وقت کرائی گئی جب بعض حلقوں میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی طرح عدالتی فعالیت کا رویہ اپنا لیا ہے۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا محض عدالتیں انصاف فراہم کرنے کی ذمہ دار ہیں یعنی کیا عدالتی نظام عدالتوں سے شروع ہو کر عدالتوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ کیا حکومتوں کا انصاف کی فراہمی میں کوئی کردار نہیں ہوتا؟ عدالتوں کے سامنے جو کچھ پیش ہوتا ہے وہ اس پر تحریری قوانین کے مطابق فیصلے دیتی ہیں۔ ان دلائل کا جائزہ لیتی ہیں جو ان کے سامنے فریقین مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان دلائل اور قوانین کی روشنی میں تحریری فیصلے صادر کرتی ہیں۔ ان فیصلوں کو قانون کی روشنی میں چیلنج کیا جا سکتا ہے لیکن انصاف کی فراہمی کی ابتداء خاص طور پر فوجداری مقدمات میں انصاف کی فراہمی کی ابتداء ایف آئی آر سے شروع ہو جاتی ہے، یہ کام حکومتوں کے زیر نگرانی قانون نافذ کرنیوالے ادارے کرتے ہیں۔ پولیس والوں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر ابتدائی شکایت کے مطابق درج کر لی جائے اور عدالت میں یہ ایف آئی آر کمزور یا غلط ثابت ہو جائے تو اس سے ان کی کارکردگی پر حرف آتا ہے۔ ایف آئی آر کا مرحلہ سر ہو جائے جو حکومتوں کی پولیس کی ذمہ داری ہے تو استغاثہ کا مرحلہ آتا ہے جو سرکاری وکیل تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد گواہوں اور شہادتوں کے پیش کرنے کی باری آتی ہے۔ گواہوں کے تحفظ کی ذمہ داری آتی ہے جسے پولیس کی بجائے فریقین مقدمہ نبھاتے ہیں۔ اگر کوئی ملزم مفرور ہو تو تب تک مقدمہ آگے نہیں بڑھتا جب تک تمام ملزم حاضر نہ ہو جائیں۔ عدالتیں جو کچھ ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اس کی بنیاد پر قانون کے حوالے سے فیصلے دیتی ہیں۔ یہ فیصلے تحریری ہوتے ہیں جنہیں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ دیوانی مقدموں کے فیصلے نہایت تاخیر سے آتے ہیں اس کی وجہ سرکاریا فریقین کے وکلاء کی طرف سے اپنا مقدمہ پیش کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ کئی مقدمات ایسے بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن کا فیصلہ آنے میں ایک سو سال تک لگ گئے۔ اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات اس وقت پہنچتے ہیں جب ان میں قانونی نکات کی تشریح مطلوب ہوتی ہے۔ انصاف کی فراہمی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مستعدی پر منحصر ہوتی ہے۔ عدالتوں میں اگر آٹھ لاکھ مقدمات زیرِ التواء ہیں تو اس کی زیادہ تر ذمہ داری نظام انصاف کے سرکاری اداروں کی ہے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومتوں کا کاروبار اہلِ سیاست چلاتے ہیں ۔ خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے اس طرح وہ ایک طرح سے خود جواز فراہم کر رہے ہیں کہ مقدمات کے زیر التواء ہونے کی وجہ عدالتوں میں منصفوں کی کمی ہے لیکن کیا عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ملتوی ہونیکی وجہ عدالتی افسروں کا عدالتوں میں موجود نہ ہونا ہوتا ہے؟ ایسا خال خال ہی ہوتا ہے ۔ ایک منصف رخصت پر ہو تو دوسری عدالت میں مقدمہ لگ جاتا ہے۔ عدالتوں میں مقدمات کے زیر التواء ہونے کی وجہ زیادہ تر نظام انصاف کے سرکاری اہلکاروں کی کم کوشی ہوتی ہے جب وہ شہادتیں‘ گواہیاں بروقت پیش نہیں کر سکتے۔ اعلیٰ عدالتوں میں سیاسی مقدمات اکثر زیرِ سماعت ہوتے ہیں۔ یہ معاملات اہلِ سیاست خود طے کر سکتے ہیں لیکن وہ پارلیمنٹ میں یہ معاملات طے کرنے کی بجائے انہیں عدالتوں میں لے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ سیاست جو حکومتوں کا کاروبار چلاتے ہیں نظام انصاف کے اس حصے کو فعال بنائیں جو عدالتوں میں مقدمات پیش کرتا ہے۔ عدالتوں کو ہدف تنقید بنانا نظام انصاف کو تقویت دینے کی بجائے اسے کمزور کرتا ہے۔ اہلِ سیاست کو اپنی ذمہ داری عدالتوں پر ڈالنے کی بجائے حکمرانی کے فرائض اس طرح ادا کرنے چاہئیں کہ بے انصافی کی کسی کو شکایت نہ ہو اور جہاں بے انصافی ہو جائے وہاں قانون کے تقاضے اس کی روح کے مطابق پورے کئے جائیں۔

اداریہ