رائو انوار فرد یا کردار؟

رائو انوار فرد یا کردار؟

تشدد اور جنگوں کی بے شمار قباحتوں میں ایک بے نام اور گمنام لاشے بھی ہوتے ہیں۔ بے قضاء اور بے وجہ مارے جانیوالے بھی ہوتے ہیں۔ یہ بے قصور لوگ اپنا قصور پوچھتے اور لہو تلاش کرتے ہی رہ جاتے ہیں۔ گہیوں کیساتھ گھن کی صورت پس جانیوالے ان لوگوں کا خون کسی ترازو میں نہیں تلتا۔ کبھی کبھار یہ لہو اپنے جلاد کے مسکن کا سراغ بھی دیتا ہے اور قاتل کی شناخت اور پہنچان بھی کر بیٹھتا ہے۔ گمنام قبروں کی صورت دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے یہاں کسی ظالم اور سفاک طاقت نے اپنا گناہ اور جرم چھپانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کسی انتہائی بے قصور آدمی کا لہو ہوتا ہے جو اپنے قاتل کے دامن پر ایک دھبے کی صورت نمودار ہوتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر بالخصوص اور پورا پاکستان بالعموم عشروں سے تشدد کی دلدل میں دھنسے رہے۔ یہاں تشدد ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ پوشیدہ مقاصد کیلئے تشدد، ترقی اور انعام کیلئے تشدد، ذاتی مخاصمت اور فائلوں کا پیٹ بھرنے کی ضرورت کے تحت تشدد غرض یہ کہ اندھے قتلوں اور جعلی مقابلوں کی بے شمار وجوہات ہیں۔ انعام واکرام کی برسات صرف اندرون ملک ہی نہیں بیرونی قوتوں کی جانب سے ہوتی رہی ہے۔

گزشتہ بیس برس میں القاعدہ اور طالبان کے نام پر ڈالروں کا سٹاک ایکسچینج سجا رہا۔ نقیب اللہ محسود کی اب تک سامنے آنیوالی کہانی اور اس سے وابستہ حقائق بھی اس من موجی سے نوجوان کے بے قضاء اور بے وجہ مارے جانیوالوں کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔ نقیب اللہ کی زندگی کی یادوں اور لمحات پر مشتمل تصویریں اور ویڈیوز اس کے اندر کے فنکارکا پتا دیتے ہیں۔ اس ذہنیت کے لوگ تشدد ماردھاڑ سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں جو قبائلی علاقے میں ہی بنائی گئی ہے، نقیب اللہ اپنے ایک ساتھی نوجوان کیساتھ انتہائی مہارت کیساتھ روایتی رقص کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وزیرستان کا یہ نوجوان کراچی پہنچ کر وہاں کے نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کراچی کا نظریہ ضرورت یہ ہے کہ وہ ایک بڑا شہر ہے جس میں دہشت گردی اور جرائم کی کئی پرتیں اور جہتیں ہیں۔ یہاں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو کچھ کارکردگی دکھانا پڑتی ہے اور باقی کام فائلوں کا پیٹ بھرنے اور فائل کو داخل دفتر کرنے سے چلایا جاتا ہے۔ یہی ضرورت ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جعلی مقابلوں کو جنم دیتی ہے چونکہ تشدد کی فضاء پوری طرح قائم ہے۔ خوف کے سائے پوری رفتار سے لہرا رہے ہیں اسلئے ان مقابلوں پر انگشت نمائی کی جرات بھی کسی کو نہیں ہوتی۔ والدین رو دھو کر چپ ہوجاتے ہیں۔ سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کی شناخت اس حکمت عملی کے ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ کی ہے۔ نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے حقائق ابھی سامنے آنا باقی ہیں مگر اجتماعی ضمیر نے اس قتل اور اس سے منسوب کہانی کو قبول نہیں کیا۔ مقتول کے گھر والے ہی نہیں پولیس ریکارڈ بھی اس کی بیگناہی کی گواہی دے رہا ہے۔ رائو انوار کے اطوار بہت پرانے ہیں مگر ان پر خوف اور مصلحت کی دبیر تہہ جمی رہی۔ کراچی میں جاری اس کھیل سے اگر مصلحت کی چادر بہت پہلے اُتار دی گئی ہوتی تو چار سو سے زیادہ افراد کا قتل مشکوک اور مشتبہ نہ ہوا ہوتا۔ جعلی پولیس مقابلے صرف کراچی تک محدود نہیں ہر صوبہ اور علاقہ کم یا زیادہ اس وباء کا شکار ہے۔ رفتہ رفتہ پاکستان دہشتگردی کے عفریت کی گرفت اور آسیب کے سایوں سے آزاد ہو رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی کے آثار منظر پر ہویدا ہیں اب تو ماضی کی روح فرسا کہانیوں کو سامنے لانا ہوگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے بھی عوام کو قانون کی حکمرانی کی نوید سنائی ہے۔ انہوں نے جمہوریت کیساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کیا ہے جسے ایک معتبر ادارے کی ضمانت کہا جا سکتا ہے۔ اس ضمانت کی روشنی میں آنیوالے دنوں کیلئے بہتری کی امید رکھنا رجائیت پسندی بھی نہیں ہوگی۔ گوکہ ابھی پاکستان کے عوام قنوطیت اور رجائیت کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔ رائو انوار آج کے پاکستان میں ایک فرد نہیں کردار ہیں، یہ کردار ہر علاقے میں قانون کی غلامی کی بجائے بااثر طبقات کے آگے اپنی یونیفارم، طاقت اور اختیار سمیت دست بستہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ رائو انوار جیسے کرداروں اور ان کے پشت پناہوں اور اصل حکمت کاروں کا کھوج لگانا ہوگا۔ قتل ہونیوالے واپس نہیں آسکتے نہ اندھے اور بے نام قتل کا شکار ہونیوالوں کی یاد میں بہنے والے آنسوئوں کی قیمت ادا ہو سکتی ہے۔ ان لمحوں کا قرض بھی نہیں اُتارا جاسکتا جو ان گھرانوں پر قیامت بن کر گزرتے رہے مگر ان لوگوں کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے کیلئے ان کی اشک شوئی ضروری ہے۔ بہتر ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی کمشن قائم کیا جائے جو نہ صرف ریاستی اداروں کی طرف اس طرح مقابلوں کا جائزہ لے بلکہ امریکہ کی طرف ڈرون حملوں اور دوسرے پرتشدد واقعات میں جرم بے گناہی کا شکار ہونیوالوں کی بات سنے اور انہیں امریکی عدالتوں سے رجوع کرنے میں ان کی مدد کرے۔ جرم بے گناہی میں مارے جانیوالوں کے ورثاء ایک صدمے سے گزرے ہیں اور صدمات میںگھرانوں کو معاشی ہی نہیں نفسیاتی اور جذباتی عذاب سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ریاست کو ان گھرانوں کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اگر اندھے قتل کا شکار ہونیوالوں کے ورثاء کسی شخص پر اُنگلی اُٹھائیں تو اس کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

اداریہ